کینیڈا، امریکا اور یورپ میں بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کیخلاف بڑا کریک ڈاؤن، 24 گرفتار

وینکوور/واشنگٹن (رائٹرز/ایسوسی ایٹڈ پریس/دی کینیڈین پریس/گلوبل نیوز) امریکا، کینیڈا اور یورپ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھارتی نژاد بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف بڑے پیمانے پر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 24 افراد کو گرفتار کر لیا، جبکہ تین الگ الگ فردِ جرموں میں مجموعی طور پر 37 ملزمان پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (FBI) اور رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (RCMP) نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ کارروائی لارنس بشنوئی، رویندر دھندا اور جگو بھگوان پوریہ سے منسلک تین بین الاقوامی جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کی گئی، جن پر بھتہ خوری، منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ، اغوا، ٹارگٹ کلنگ اور تشدد سمیت متعدد سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔

حکام کے مطابق ان گروہوں کا تعلق بھارت سے ہے لیکن ان کے نیٹ ورک کینیڈا، امریکا اور دیگر ممالک تک پھیلے ہوئے ہیں۔

امریکی محکمۂ انصاف کی فردِ جرم میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بھارت میں قید لارنس بشنوئی اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے ستیندرجیت سنگھ عرف گولڈی برار نے جون 2023 میں برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا حکم دیا تھا۔ فردِ جرم کے مطابق قتل سے قبل نجر کی تصاویر اور متعدد پتے مبینہ سازش میں شریک افراد کو فراہم کیے گئے تھے اور 18 جون 2023 کو گوردوارہ سے باہر نکلتے وقت انہیں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔

آر سی ایم پی نے کہا کہ نجر قتل سمیت کئی پرتشدد وارداتوں میں ان گروہوں کے مبینہ کردار کی تحقیقات جاری ہیں۔ کینیڈا نے ستمبر 2025 میں بشنوئی نیٹ ورک کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

کارروائی کے دوران برٹش کولمبیا سے وینکوور کے 57 سالہ رویندر سنگھ دھندا، سرے کے 50 سالہ جسکرن باغڑی اور کریسٹن کے 43 سالہ گرتیج سنگھ سماگھ کو گرفتار کیا گیا۔ امریکی فردِ جرم کے مطابق ان پر امریکا سے کینیڈا تک کوکین اور میتھ ایمفیٹامین کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ، منشیات کی ترسیل اور مجرمانہ سازش کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق دھندا امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں سرگرم منشیات فروش تنظیموں کے ساتھ رابطے رکھتا تھا اور طویل فاصلے تک چلنے والے ٹرکوں کے ذریعے کوکین اور میتھ ایمفیٹامین امریکا سے کینیڈا منتقل کی جاتی تھی۔ بعض اوقات زرعی گاڑیوں کو بھی اسمگلنگ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ جولائی 2023 سے نومبر 2024 کے دوران تقریباً 430 کلوگرام کوکین کی ترسیل کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔

ایف بی آئی کے مطابق بھارت میں قید 38 سالہ جگو بھگوان پوریہ، جو کبھی لارنس بشنوئی کا ساتھی تھا، بعد میں اس کا حریف بن گیا اور اس نے پنجاب میں اپنا الگ مجرمانہ نیٹ ورک قائم کیا۔ امریکی محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ اس تنظیم کے دنیا بھر میں ایک ہزار سے زائد ارکان موجود تھے، جو اغوا، بھتہ خوری، حملوں، منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ میں ملوث تھے۔ الزام ہے کہ وفادار ارکان کو بھارت سے کینیڈا اور امریکا بھیج کر مجرمانہ سرگرمیوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔

ایف بی آئی نے اس کارروائی کو “آپریشن ہارڈ بال” کا حصہ قرار دیا، جو کئی برسوں پر محیط تحقیقات کا نتیجہ ہے۔ حکام کے مطابق تین فردِ جرموں میں مجموعی طور پر 37 ملزمان پر الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں بھارت کی جیلوں سے اپنے عالمی جرائم پیشہ نیٹ ورکس چلانے والے دو مبینہ سرغنے بھی شامل ہیں، جبکہ سات مفرور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

تحقیقات کے دوران تقریباً ایک ہزار کلوگرام کوکین، ایک کلوگرام ہیروئن، 40 ہزار ڈالر نقد اور ایک درجن آتشیں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔

آر سی ایم پی کمشنر مارک ڈوہیم نے کہا کہ یہ کارروائی کینیڈا، امریکا اور عالمی سطح پر عوامی تحفظ کے لیے ایک اہم کامیابی ہے، جس سے ان جرائم پیشہ تنظیموں کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا اور منشیات، اسلحے اور بھتہ خوری کے نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔

سرے کی میئر برینڈا لاک نے کہا کہ یہ گرفتاریاں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ سرے اور کینیڈا کے دیگر شہروں میں بھتہ خوری کے واقعات کے پیچھے منظم بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس سرگرم ہیں، تاہم عوام کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب تنظیم Sikhs For Justice نے امریکی محکمۂ انصاف، ایف بی آئی، ڈی ای اے، آر سی ایم پی اور دیگر اداروں کی مشترکہ کارروائی کا خیر مقدم کیا ہے۔واضح رہے کہ امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات عدالت میں زیرِ سماعت ہیں اور قانون کے مطابق تمام ملزمان کو جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔