مدھیہ پردیش:اجین میں 636 سال پرانی شاہی مسجد کے حصے کی مسماری کی کوشش

اجین، مدھیہ پردیش (الجزیرہ، ہندوستانی میڈیا) بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں 636 سال پرانی شاہی مسجد کے ایک حصے کو سڑک چوڑی کرنے کے منصوبے کے تحت ہٹانے کی کارروائی کے خلاف سیکڑوں مسلمان مسجد کے اندر اور باہر جمع ہوگئے، جس کے باعث انتظامیہ کی جانب سے لائی گئی جے سی بی مشینوں سے مسماری کی کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اجین میں سنگھستھ 2028 کی تیاریوں کے سلسلے میں سڑکوں کو چوڑا کرنے کا منصوبہ جاری ہے، جس کی زد میں شاہی مسجد کا ایک حصہ بھی آرہا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق گوپال مندر روڈ کو چوڑا کرکے ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق مقامی انتظامیہ نے ہفتے کی رات مسجد کے متاثرہ حصے کو ہٹانے کی کارروائی شروع کرنے کی تیاری کی، جس کی اطلاع ملنے پر بڑی تعداد میں مسلمان مسجد کے قریب جمع ہوگئے۔ مظاہرین نے مسجد کے اندر اور باہر موجود رہ کر کارروائی روکنے کی کوشش کی اور رات بھر پہرہ بھی دیا۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مسجد کو بچانے کے لیے مختلف اوقات میں لوگ مسجد کے اندر موجود رہے، جبکہ اتوار کو بھی احتجاج جاری رہا۔ صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے مسجد کے اطراف میں بھاری پولیس نفری تعینات کردی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مسجد اور اس کے اطراف میں پولیس، ریپڈ ایکشن فورس اور خصوصی دستوں سمیت 600 سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ علاقے میں رکاوٹیں بھی کھڑی کردی گئی ہیں۔

شاہی مسجد کے امام محمد ابراہیم کے مطابق مسجد 1390ء میں تعمیر ہوئی تھی اور تقریباً 636 سال پرانی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسجد کے ڈھانچے کے ساتھ معمولی چھیڑ چھاڑ سے بھی پوری عمارت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

مسجد انتظامیہ نے سڑک چوڑی کرنے کے منصوبے میں مذہبی مقام کو شامل کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے انتظامیہ سے مسجد کو کارروائی سے مستثنیٰ رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔رپورٹس کے مطابق شاہی مسجد وقف جائیداد کے طور پر رجسٹرڈ ہے اور مسجد کے انتظامی منتظمین نے اس کے ایک حصے کو ہٹانے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بینچ نے 9 ستمبر کو شاہی مسجد کے انتظامی منتظمین کی جانب سے دائر 2 درخواستیں مسترد کردی تھیں اور انتظامیہ کو سڑک چوڑی کرنے کیلئے مسجد کے متنازع حصے کو ہٹانے کی اجازت مل گئی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ سڑک چوڑی کرنے کے منصوبے کے تحت علاقے میں دیگر مذہبی مقامات کے حصے بھی ہٹائے گئے ہیں۔

اس کے بعد مسجد انتظامیہ کی جانب سے دوبارہ اعلیٰ عدالت سے رجوع کیا گیا ہے اور نئی درخواست پر سماعت پیر کو متوقع ہے۔ اس دوران مقامی مسلمان مسجد کے تحفظ کیلئےاحتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔اجین میں جاری احتجاج پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے بھی ردعمل دیتے ہوئے مظاہرین کے پرامن احتجاج کو سراہا ہے۔