مسی ساگا(باباعرفان ملک سے)”لاآفس آف صنوبرناز”کے زیر اہتمام میٹ اینڈ گریٹ تقریب مقامی ریسٹورنٹ میں منعقدکی گئی جس کی میزبانی بیرسٹر صنوبر ناز اور خلیل میر اور ہائی پوائنٹ ہومز ریئلٹی بروکریج ٹیم کے اراکین نے کی ۔تقریب میں مختلف میڈیا پارٹنرز بھی موجود تھے جنہوں نے اہم لمحات کو ریکارڈ کیا اور اس اجتماع کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی ایم پی پی شریف صباوی کی موجودگی نے اس شام کو مزید وقار بخشا، جنہوں نے اپنے خیالات کے ذریعے کمیونٹی اقدامات کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔خلیل میر جو پیشے کے اعتبار سے مکینیکل انجینئر ہیں اور اس وقت صنوبر ناز کے قانونی دفتر کا اہم حصہ ہیں ان کی خدمات کو خصوصی طور پر سراہا گیا۔ ان کا علم، پیشہ ورانہ مہارت اور لگن انہیں ادارے کیلئے ایک قیمتی اثاثہ بناتی ہے۔

بیرسٹرصنوبرنازنےخطاب میں کہا میں اپنے اور خلیل میرکی طرف سے اور ” لاآفس آف صنوبر ناز”کی جانب سے آپ سب کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آپ نے ہماری اس تقریب میں شرکت کی۔ہم آج یہاں صرف پیشہ ورانہ تعلقات قائم کرنے کیلئے جمع نہیں ہوئے بلکہ کمیونٹی میں مضبوط ، بامعنی تعلقات بنانے کیلئے جمع ہوئے ہیں۔
خلیل میرنے گفتگو کرتے ہوئے حاضرین کاشکریہ اداکیا اورکہاآپ کی موجودگی ہمارے لئے انتہائی قیمتی ہے۔میرا نام خلیل میر ہے، میں مکینیکل انجینئر ہوں اور رائرسن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے۔ گزشتہ آٹھ سال سے ہم سب مل کر کام کر رہے ہیں اور آج کی یہ تقریب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔میں زیادہ وقت نہیں لوں گا کیونکہ یہاں ہمارے معزز مہمان موجود ہیں۔ میں ایک ایک کر کے تمام مہمانوں کو مدعو کرونگاتاکہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کریں اور اپنی گفتگو ہمارے ساتھ شیئر کریں۔سب سے پہلے میں میڈیا کے نمائندوں کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہونگا جو اس تقریب کو کور کر رہے ہیں۔

ہائی پوائنٹ ہومزکی جانب سے علی شیخ نےبیرسٹر صنوبرکاشکریہ اداکرتے ہوئے کہا میں یہاں موجود تمام افراد کا ہائی پوائنٹ ہومز کی جانب سے تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔سب سے پہلے میں خاص طور پر جان ملر کا ذکر کرنا چاہوں گا، جو ہماری بروکر آف ریکارڈ ہیں۔ وہ آج اس تقریب میں شریک نہیں ہو سکیں، تاہم انہوں نے اپنا پیغام بھجوایا ہے جسے میں آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں۔میں سب سے پہلے ان کا پیغام پیش کرتی ہوں سب کو خوش آمدید، اور مجھے افسوس ہے کہ میں اس تقریب میں شریک نہیں ہو سکی، اسی وجہ سے میرا پیغام آپ تک پہنچایا جا رہا ہے۔میں بیرسٹر صنوبر ناز اور مسٹر خلیل میر کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے اس شاندار اور بھرپور تقریب کا انعقاد کیا۔اس کے ساتھ ہی میں صنوبر ناز کو ہائی پوائنٹ ہومز میں خوش آمدید کہتی ہوں۔ وہ ہماری ٹیم کی بہترین وکلاء میں سے ایک ہیں اور ان کی شمولیت ہمارےلئے ایک بڑا اعزاز ہے۔
مسی ساگاایرِن ملز سے صوبائی اسمبلی کے رکن اور اونٹاریو کے وزیرِ محنت، امیگریشن، تربیت اور مہارتوں کی ترقی کے پارلیمانی معاون شریف صباوی نے اپنی تقریرمیں کہامیں اس گروپ اور صنوبر ناز کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنی کاروباری سرگرمیوں کو کمیونٹی کے سامنے پیش کیا۔میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ کینیڈا کی سب سے بڑی خوبصورتی اس کی ثقافتی اور نسلی تنوع ہے۔ یہاں مختلف کمیونٹیاں آباد ہیں جیسے مصری، عرب، عراقی، چینی اور دیگر بہت سی کمیونٹیاں، اور یہی تنوع کاروباروں کو ترقی کرنے اور نیٹ ورک بنانے کا موقع دیتا ہے۔
زیادہ تر معاملات میں ہم کسی بھی خدمت کیلئے براہِ راست اشتہارات یا فہرستوں پر انحصار نہیں کرتے بلکہ سب سے زیادہ بھروسہ سفارش پر ہوتا ہے۔مثلاً اگر کسی کو وکیل کی ضرورت ہو تو وہ براہِ راست فہرستیں نہیں دیکھتا بلکہ کسی سے پوچھتا ہے کہ کیا آپ کسی اچھے وکیل کو جانتے ہیں۔ شریف صباوی نے مزیدکہا اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ پہلے کسی کے تجربے پر اعتماد کرتے ہیں۔ اگر کسی نے پہلے کسی مشکل صورتحال میں مدد کی ہو تو اس پر اعتماد پیدا ہو جاتا ہے۔خاص طور پر قانون جیسے شعبے میں لوگ بہت اہم اور حساس حالات میں وکیل سے رجوع کرتے ہیں، اسلئے وہ ہمیشہ کسی قابلِ اعتماد شخص کی سفارش تلاش کرتے ہیں۔
کمیونٹی اسی لئے بہت اہم ہے کیونکہ اس کے اندر تجربات اور معلومات تیزی سے پھیلتی ہیں۔ اگر کوئی سروس اچھی ہو تو اس کی تعریف ہوتی ہے اور اگر کہیں مسئلہ ہو تو وہ بھی فوراً سامنے آ جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایک مضبوط کمیونٹی کاروباروں کیلئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔پہلے چھوٹی کمیونٹیز میں صرف مقامی سطح پر ترقی کرنا مشکل ہوتا تھا اور کاروبار کو وسیع کینیڈین معاشرے پر انحصار کرنا پڑتا تھا، جس سے ترقی مشکل ہو جاتی تھی۔ لیکن آج مضبوط کمیونٹیز نے خاص طور پر ایسے پیشہ ور افراد کیلئے ترقی کے راستے آسان کر دئیے ہیں۔میں اس کوشش اور اس اقدام کو سراہتا ہوں۔
ڈکسی الیکٹرانکس اینڈ اپلائنسزکے روح رواں سلیم چوہدری نے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہااورحاضرین کے ساتھ گفتگومیں کہا یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ مختلف شعبوں اور مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ہی چھت کے نیچے جمع ہیں۔ ہماری کمیونٹی کا گزشتہ 20 سے 25 سالوں میں بہت اچھا اضافہ ہوا ہے۔ میں نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کس طرح لوگوں نے ابتدا کی، اپنے کام قائم کئے اور پھر دیگر کمیونٹیز کے ساتھ روابط بڑھائے اور ان کی ترقی میں بھی حصہ لیا۔
آج کل اصل موضوع یہ ہے کہ ہم پاکستانی کینیڈینز کے طور پر آنے والی نسل کی بہتری کیلئے کیا کردار ادا کر سکتے ہیں اور اپنے کاروبار کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں۔میرے تجربے کے مطابق سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اپنی آنے والی نسل کو تعلیم یافتہ بنانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی زندگی میں ہر کام ایمانداری سے اور کینیڈا کی ان اقدار کے مطابق کرنا چاہیے جو ہمارے اپنے اسلامی اصولوں سے بھی ہم آہنگ ہیں یعنی دیانت داری، انصاف اور اپنے گاہکوں اور کلائنٹس کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک۔
میں نے گزشتہ 20 سالوں میں یہ بھی دیکھا ہے کہ جو افراد اور شخصیات میں نے کمیونٹی میں دیکھی ہیں، جیسےخلیل میر اوربیرسٹر صنوبر، یہ لوگ نہ صرف اپنے پیشے کو ایمانداری سے انجام دے رہے ہیں بلکہ معاشرے کی بہتری میں بھی مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔خاص طور پر مالیاتی شعبے میں، یو ای ٹی ایلومنائی کے حوالے سے، تقریباً 3 سے 4 سال پہلے یو ای ٹی ایلومنائی کے فنانس سیکرٹری ناصر بٹ نے صنوبر لا آفس کو یو ای ٹی ایلومنائی سے متعارف کرایا۔
اس کے بعد سے نہ صرف صنوبر لا آفس ہمارے ایونٹس کی اسپانسرشپ کرتا ہے بلکہ ہمارے لئے اسکالرشپس بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ہماری یو ای ٹی ایلومنائی میں 700 سے زائد اراکین ہیں اور سب کو صنوبر لا آفس کی پیشہ ورانہ قابلیت اور اعتماد پر مکمل بھروسہ ہے۔میں سب کو مبارکباد اور شکریہ پیش کرتا ہوں۔خلیل میر، ماشاءاللہ، یو ای ٹی سے بھی وابستہ ہیں۔ ان کی شخصیت ہمیشہ خوش مزاج اور مسکراتی ہوئی نظر آتی ہےاورصرف دوست جانتے ہیں کہ خلیل میر گانابھی بہت اچھاگاتے ہیں.

