تہران( ایرانی میڈیا)ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم جب تک کوئی واضح اور ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آتا، مذاکرات کے بارے میں کسی حتمی رائے یا فیصلے کا اظہار نہیں کیا جا سکتا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں قیاس آرائیوں کو اہمیت نہیں دینی چاہیے اور مذاکراتی عمل کے بارے میں غیر مصدقہ خبروں سے گریز کرنا چاہیے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ دشمن کے وعدوں اور بیانات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اور امریکا کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ صرف اسی صورت قابلِ قبول ہوگا جب اس کے واضح اور عملی نتائج حاصل ہوں۔
انہوں نے کہا کہ مخالف قوتیں ایران کے اندر قومی اتحاد کو کمزور کرنے اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کے بقول دشمن فوجی میدان میں ناکامی کے بعد اب معاشی دباؤ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔محمد باقر قالیباف نے زور دے کر کہا کہ ایرانی عوام کے حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ کے بغیر کسی بھی معاہدے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے رکن علی رضا سلیمی نے آبنائے ہرمز سے متعلق بیان میں کہا کہ یہ آبی گزرگاہ ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں کے درمیان واقع ہے، اس لیے کسی دوسرے ملک کو اس کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ جلد آبنائے ہرمز سے متعلق قانون سازی کی منظوری دے سکتی ہے، جسے خطے کی موجودہ سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

