نئی دہلی(خبر ایجنسیاں) بھارت میں وندے ماترم کی توہین یا اس کی ادائیگی میں رکاوٹ ڈالنے پر سزا سے متعلق بل منظور کر لیا گیا، جس کے تحت وندے ماترم میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کی توہین پر تین سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔
کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل آئین کے سیکولر کردار کی خلاف ورزی اور مذہبی آزادی کو محدود کرنے کی کوشش ہے۔اپوزیشن کا کہنا تھا کہ پورا وندے ماترم نافذ کرنے کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ دستور ساز اسمبلی پہلے ہی اس کے صرف ابتدائی دو بند منظور کر چکی تھی۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے بل کو مذہبی آزادی کی آئینی ضمانت کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وندے ماترم میں دیوی دیوتاؤں کی عبادت شامل ہے، اس لیے یہ قانون بھارت کو ہندو راشٹرا بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی بل کی منظوری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے کسی مخصوص مذہبی تصور یا عقیدے کو تمام شہریوں پر مسلط کرنا بھارتی دستور کی بنیادی روح سے متصادم ہے۔
بھارتی وزیر مملکت برائے داخلہ نیتیانند رائے کی جانب سے پیش کیا گیا یہ بل صدر کی منظوری کے بعد باقاعدہ قانون بن جائے گا۔نیتیانند رائے نے کہا کہ یہ بل کسی فرد یا نظریے کے خلاف نہیں بلکہ قوم کے وقار اور مشترکہ قومی شعور کے فروغ کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

