ٹرمپ کی سخت اور غیر معمولی زبان، عالمی تجزیہ کاروں میں تشویش

واشنگٹن (سی این این، نیویارک ٹائمز، اسکائی نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر استعمال کی گئی غیر معمولی سخت اور نامناسب زبان نے عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی، ماہرین اور مبصرین نے اسے تشویشناک قرار دے دیا۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے پروگرام میں شریک تجزیہ کار اس صورتحال پر حیران رہ گئے اور نشاندہی کی کہ کسی بھی ملک کے توانائی کے نظام اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت سنگین نوعیت کے جرائم میں شمار ہو سکتی ہیں۔

نیویارک ٹائمز سے وابستہ صحافی زولان نے صدر ٹرمپ کے بیانات کو غیر مستقل اور متضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکمت عملی واضح دکھائی نہیں دیتی۔امریکی امور کے ماہر بریٹ مک گارک کے مطابق اس قسم کی جارحانہ زبان نہ صرف سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے امکانات کو بھی کمزور کرتی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز پر گفتگو کرتے ہوئے مبصر ٹیرا کنگارلو نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات ان کی بڑھتی ہوئی بے چینی اور دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ ان پالیسیوں نے ایران کے مؤقف کو مزید تقویت دی ہے۔دوسری جانب ٹریڈ یونین رہنما ہوورڈ بیکٹ نے کہا کہ ٹرمپ کی دھمکیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں اور ایسے بیانات پر عالمی سطح پر احتساب ہونا چاہیے۔