ٹورنٹو:شہباز بھٹی میموریل گالا اور کتاب کی تقریبِ رونمائی، جیسن کینی کا خطاب

ٹورنٹو (اشرف خان لودھی سے) انٹرنیشنل کرسچن وائس (ICV) کے زیر اہتمام ٹورنٹو گرینڈ کنونشن سینٹر میں پاکستان میں وفاقی وزیربرائے اقلیتی امورمرحوم شہباز بھٹی میموریل فنڈ ریزر اورکتاب “بلڈ اینڈ واٹر” کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا جس میں مذہبی رہنماؤں، منتخب نمائندوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور کمیونٹی کے افراد نے شرکت کی۔ تقریب کا مقصد مذہبی آزادی کے فروغ اور مذہبی جبر کا شکار افراد کی حمایت کا اظہار تھا۔

تقریب میں مرحوم شہباز بھٹی کی خدمات اور جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ شہباز بھٹی کو 2011 میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے دفاع اور پاکستان کے توہین مذہب قوانین کی مخالفت کے باعث قتل کر دیا گیا تھا۔ شدید دھمکیوں کے باوجود انہوں نے اپنے ملک یا مظلوم اقلیتوں کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کیا اور کہا تھا کہ وہ مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کیلئے اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہیں۔ ان کی شہادت آج بھی دنیا بھر میں مذہبی آزادی اور انسانی وقار کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو متاثر کرتی ہے۔

سابق وزیر امیگریشن اور صوبہ البرٹا کے سابق پریمیئر جیسن کینی نےتقریب میں اپنے خصوصی خطاب کے دوران شہباز بھٹی کے ساتھ اپنی دوستی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے ان کی جرات، ایمان اور مظلوموں کے دفاع کے عزم کو خراج تحسین پیش کیا۔

تقریب کی ایک اہم جھلک گرافک ناول “بلڈ اینڈ واٹر” کی تقریب رونمائی تھی جس میں شہباز بھٹی کی زندگی اور ان کی شہادت کی داستان بیان کی گئی ہے۔ اس موقع پر منعقدہ پینل ڈسکشن میں ناکس تھیمز، فلائیڈ بروبل، میٹ یوکم اور جارڈن ہولٹ نے شرکت کی۔

تقریب کے دوران وزیراعظم مارک کارنی اور اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ کے پیغامات بھی پیش کیے گئے جبکہ گریٹر ٹورنٹو ایریا سے تعلق رکھنے والے مختلف مذہبی رہنماؤں، کمیونٹی تنظیموں اور حامیوں نے بھی شرکت کی۔

انٹرنیشنل کرسچن وائس نے اپنی انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ادارے نے 2017 سے اب تک 250 سے زائد مظلوم پناہ گزینوں کو کینیڈا میں محفوظ زندگی فراہم کرنے میں مدد دی ہے۔ رواں سال کی فنڈ ریزنگ مہم کا مقصد 70 ہزار ڈالر جمع کرنا ہے تاکہ توہین مذہب کے الزامات کے تحت کئی سال قید رہنے والے دو پاکستانی مسیحیوں کی کفالت کی جا سکے۔

انٹرنیشنل کرسچن وائس کے پیٹر بھٹی نے کہا کہ یہ تقریب شہید شہباز بھٹی کی یاد کے ساتھ ساتھ عملی اقدام کی علامت بھی ہے۔ انہوں نے معاونین، رضاکاروں اور کمیونٹی رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ مذہبی جبر کا شکار افراد کے ساتھ کھڑے ہیں۔