پاکستان نے امریکا اور ایران کو جامع جنگ بندی فریم ورک پیش کر دیا

اسلام آباد/واشنگٹن/تہران (رائٹرز) ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئےجامع جنگ بندی کا فریم ورک شیئر کر دیا ہے، جس میں دو مرحلوں پر مشتمل منصوبہ شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی جبکہ دوسرے مرحلے میں جامع معاہدہ طے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، امریکا اور ایران کو جارحیت کے خاتمے اور فوری سیزفائر کا منصوبہ موصول ہو چکا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی مفاہمت کو یادداشتِ مفاہمت (MoU) کی شکل دی جائے گی، جبکہ اسلام آباد میں معاہدے پر آج اتفاقِ رائے ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق عاصم منیر نے رات بھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ سے مسلسل رابطے رکھے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق پاکستان، چین اور امریکا کی جانب سے پیش کردہ عبوری جنگ بندی تجاویز پر ایران کا باضابطہ ردعمل تاحال سامنے نہیں آیا، تاہم ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی تجویز موصول ہو چکی ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ تہران کسی بھی فیصلے کیلئےکسی قسم کی ڈیڈ لائن یا دباؤ قبول نہیں کریگا.

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق سخت بیانات کے بعد معاہدے کی ڈیڈ لائن میں مزید 24 گھنٹے کی توسیع کر دی ہے، نئی ڈیڈ لائن منگل رات 8 بجے (ایسٹرن ٹائم) مقرر کی گئی ہے، جو پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح 5 بجے بنتی ہے۔

ادھر ایران نے امریکی الٹی میٹم مسترد کرتے ہوئے دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران جوابی کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، سویلین انفراسٹرکچر اور بجلی گھروں پر حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا، اور اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے۔