پاکستان ووٹ سے بنا، قائداعظم کی 150ویں سالگرہ بھرپور انداز میں منائیں گے:گورنر سندھ

مسی ساگا (اشرف خان لودھی سے) گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کا منفرد ملک ہے جو تلوار، جبر یا زبردستی کے بجائے جمہوری جدوجہد اور ووٹ کی پرچی کے ذریعے معرضِ وجود میں آیا۔ ہمارے بزرگوں نے اپنے ووٹ کی طاقت سے ایک آزاد ملک حاصل کیا۔ قائداعظم محمد علی جناح کی بصیرت، جدوجہد اور جمہوری نظریات ہماری تاریخ کا قابلِ فخر سرمایہ ہیں۔ رواں سال بابائے قوم کا 150واں یومِ ولادت ہے، جسے پاکستان سمیت دنیا بھر میں نہایت شایانِ شان اور باوقار انداز میں منانے کی کوشش کی جائے گی۔

وہ معروف سماجی شخصیت رضوان پاشا کی رہائش گاہ پر اپنے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ ناشتے اور ملاقات کے اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔اس تقریب میں کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی نمایاں شخصیات، معززین، وکلا اور سیاسی و سماجی رہنماؤں نے شرکت کی۔لبرل جماعت کےرکن پارلیمنٹ رانا محمد اسلم ، ٹورنٹو میں پاکستان کے قونصل جنرل خلیل احمد باجوہ،ڈپٹی قونصل جنرل محمدحسن، کنزرویٹو پارٹی کینیڈا کے محمد اسحاق، معروف قانون دان ناصر مقصود، فضل الاسلام رمانی،عارف شیخ،لیاقت ملک،مرزانسیم بیگ،چوہدری جاویدگجر ، شوکت جنید، باباعرفان ملک،پیر عدنان بودلہ اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔

گورنر سندھ نے اپنے خطاب کے آغاز میں میزبان اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ایسی خوبصورت محفلیں کم ہی دیکھی ہیں۔ بہترین لوگ ہی کسی محفل کو خوبصورت بناتے ہیں۔ یہاں موجود شخصیات محض ہیرے نہیں بلکہ ہیروں کی کان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں کا اپنے ماضی، وطن اور آبائی سرزمین سے تعلق انتہائی مضبوط اور اٹوٹ ہے، جو دیکھ کر انہیں بے حد خوشی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس اجتماع میں لوگوں کے درمیان باہمی محبت، عزت اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا جذبہ نمایاں ہے۔ یہاں منتظمین کی محنت اور کمیونٹی کے درمیان رابطوں اور یکجہتی کو دیکھ کر خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے شرکاء کی شخصیات اور خدمات کو سراہتے ہوئے معروف قانون دان ناصر مقصود کو کراچی کے بہترین وکلا میں سے ایک قرار دیا اور فضل الاسلام رمانی کو اپنا ہیرو کہا۔ انہوں نے دیگر عزیز و اقارب، دوستوں اور تقریب میں شریک شخصیات کا بھی ذکر کیا۔

قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے سید نہال ہاشمی نے کہا کہ بابائے قوم اپنے زمانے کے انتہائی خوش لباس اور باوقار شخص تھے۔ ان کا لباس، انداز اور شخصیت غیر معمولی تھی۔ ہمیں نوجوان نسل کو قائداعظم کی زندگی کے آخری ایام کی بیماری کے دوران لی گئی تصاویر دکھانے کے بجائے ان کی جوانی اور سیاسی جدوجہد کے دور کی تصاویر دکھانی چاہئیں تاکہ نوجوان ان کی متحرک، پُرعزم اور باصلاحیت شخصیت سے واقف ہوسکیں۔

انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے بمبئی سے پشاور اور کنیا کماری سے پشاور تک سفر کرکے مسلمانوں کے لیے جدوجہد کی۔ ان کی بصیرت، دوراندیشی اور سیاسی حکمت عملی کو نئی نسل تک پہنچانا ضروری ہے۔ قائداعظم کی شخصیت ہمارے لیے باعثِ فخر ہے اور ان کی زندگی سے نوجوانوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔

گورنر سندھ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے موقع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں قائداعظم سے اپنی تین مماثلتیں محسوس ہوئیں۔ قائداعظم مسلم لیگ کے عظیم رہنما تھے اور ان کا تعلق بھی مسلم لیگ سے ہے، قائد اعظم وکیل تھے اور وہ خود بھی وکالت کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں، جبکہ دونوں کا تعلق ایک ہی شہر سے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حلف اٹھانے کے بعد سماجی ذرائع ابلاغ پر لوگوں نے ان کی قائداعظم سے مختلف انداز میں مماثلتیں بیان کیں۔ کسی نے انہیں شیشے میں قائداعظم کا عکس قرار دیا اور کسی نے ان کے قد و قامت اور رنگت کے حوالے سے دلچسپ تبصرے کیے۔ انہوں نے کہا کہ ان تبصروں سے انہیں خوشی ہوئی اور وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ لوگوں نے ان کا موازنہ بابائے قوم سے کیا۔ یہ ان کیلئے بڑے اعزاز کی بات ہے۔

پاکستان کے بارے میں عالمی سطح پر ہونے والی تنقید کا ذکر کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کو انتہا پسند ملک اور دہشت گردی سے منسلک کرکے پیش کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، لیکن پاکستان کی تاریخ اس تاثر کی نفی کرتی ہے۔ پاکستان دنیا کا ایک منفرد ملک ہے جو کسی تلوار یا جبر کے ذریعے نہیں بلکہ عوام کے ووٹ کی طاقت سے قائم ہوا۔ ہمارے بزرگوں نے جمہوری انداز میں اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا اور ایک آزاد ملک حاصل کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومتیں بنتی اور ختم ہوتی رہتی ہیں، لیکن ملک کا قیام ایک تاریخی عمل ہوتا ہے۔ حکومتیں بنانے اور گرانے والے لوگ آتے جاتے رہتے ہیں، تاہم پاکستان کا وجود ایک عظیم جمہوری جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ ہمیں اپنے اس تاریخی پس منظر پر فخر ہونا چاہیے۔

سید نہال ہاشمی نے کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ بھی رواں سال کو قائداعظم کے سال کے طور پر منائیں۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم کا 150واں یومِ ولادت ایک تاریخی موقع ہے، کیونکہ ان کا 200واں یومِ ولادت 2076ء میں آئے گا۔ اسلئے موجودہ نسل کیلئے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ بابائے قوم کی زندگی، خدمات اور جدوجہد کو بھرپور انداز میں یاد کرے اور نئی نسل کو ان کے افکار سے روشناس کرائے۔

انہوں نے تقریب کے ماحول اور مقام کو بھی سراہا اور کہا کہ خوبصورت باغ، محفل اور شرکاء کی موجودگی نے انہیں کراچی کی یاد دلا دی۔ انہوں نے سندھی ثقافت کی روایتی علامات اجرک اور سندھی ٹوپی کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ میزبان اور منتظمین ان کے لیے یہ تحائف بھی لے کر آئے ہیں۔ یہ ان کی محبت اور خلوص کا اظہار ہے۔ سندھ کے گورنر کی آمد پر اجرک اور سندھی ٹوپی پیش کرنا سندھ کی ثقافت اور روایات سے وابستگی کی خوبصورت علامت ہے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ تقریب کے منتظمین نے ان کی توقعات سے بڑھ کر انتظامات کیے اور ان کے ساتھ وابستہ لوگوں نے ان سے بھی آگے بڑھ کر سوچا۔ انہوں نے کمیونٹی کے باہمی تعلقات اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت و احترام کے جذبے کو سراہا۔

قائداعظم محمد علی جناح کی رہائش گاہ کا ذکر کرتے ہوئے سید نہال ہاشمی نے وضاحت کی کہ وہ اس تاریخی بنگلے میں رہائش پذیر ہیں جہاں بابائے قوم قیام کرتے تھے، تاہم وہ قائداعظم کے زیرِ استعمال رہنے والے مخصوص کمرے یا ان کی کرسی پر بیٹھنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم کا کمرہ اور ان سے منسوب اشیا محفوظ رکھی گئی ہیں اور اس حصے کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی یہ جرات اور حیثیت نہیں کہ وہ بابائے قوم کے کمرے میں رہیں یا ان کی کرسی پر بیٹھیں۔ یہ تاریخی ورثہ ہے جس کا احترام اور تحفظ ضروری ہے۔ اس حصے کو صرف انتہائی معزز شخصیات اور خصوصی مہمانوں کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے، جبکہ وہ خود قائداعظم کی عظمت اور مقام کے پیش نظر اپنی حدود میں رہنا پسند کرتے ہیں۔

گورنر سندھ نے آخر میں تقریب کے میزبان رضوان پاشا، منتظمین اور تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کینیڈا میں پاکستانی کمیونٹی کے درمیان اتحاد، باہمی احترام اور وطن سے محبت کے جذبے کو قابلِ تحسین قرار دیا۔