ریاض (رائٹرز، الجزیرہ) سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاض کے علاقے میں ایک ڈرون تباہ کر دیا گیا، جبکہ طائف اور ینبع کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک میزائل بھی فضا میں مار گرائے گئے۔ سعودی شہری دفاع کے مطابق میزائلوں کو روکنے کے بعد ان کا ملبہ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، جدہ، طائف اور رابغ کے مختلف مقامات پر گرا۔
سعودی حکام نے مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف سمیت مختلف علاقوں میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر ہنگامی انتباہ جاری کیا تھا، تاہم تقریباً 10 منٹ بعد خطرہ ٹلنے کا اعلان کر دیا گیا۔ شہری دفاع کے مطابق مکہ مکرمہ کی وادی المغمس، جدہ کے علاقے النزهہ، طائف کی وادی جلیل اور رابغ کے علاقے مستورہ میں میزائلوں کا ملبہ گرا۔ فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔

دوسری جانب حوثیوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کے سعودی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کارروائیوں کا ہدف سعودی عرب کے ہوائی اڈے، تیل کی تنصیبات اور فوجی مراکز تھے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ ان کی فورسز نے ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے، دمام کے شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے، نجران کے ہوائی اڈے اور خمیس مشیط کے فضائی اڈے کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیب، رابغ آئل ریفائنری، خام تیل کی پمپنگ تنصیبات اور مشرقی مغربی تیل پائپ لائن بھی حملوں کا ہدف تھیں۔ سعودی حکام نے ان تمام اہداف کو نقصان پہنچنے کی تصدیق نہیں کی۔
ادھر یمن کے جنوبی شہر عدن میں بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے الزام عائد کیا کہ حوثیوں نے ساحلی محافظوں کے مراکز پر 3 بیلسٹک میزائل داغے، جن میں سے 2 ساحلی محافظوں کے ہیڈکوارٹر اور تیسرا التواہی کے علاقے میں ایک عمارت پر گرا۔ حکومت کے مطابق عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بھی 2 میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جسے رواں ماہ اس نوعیت کا چوتھا حملہ قرار دیا گیا۔
حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے تاہم کہا کہ ان کی فورسز نے عدن میں النصر کیمپ اور بحری فوجی اڈے پر سعودی حمایت یافتہ فوجی اجتماعات کو نشانہ بنایا، جہاں ان کے بقول سعودی افسران فوجی نقل و حرکت کی نگرانی کر رہے تھے۔ سعودی اتحاد کی جانب سے اس دعوے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
الجزیرہ کے مطابق حوثیوں کے زیرِ انتظام نشریاتی ادارے المسیرہ نے بھی دعویٰ کیا کہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے فضائی حملوں میں یمن کے دارالحکومت صنعا اور بندرگاہی شہر حدیدہ میں متعدد شہری ہلاک ہوئے۔ آسٹریلوی نشریاتی ادارے اے بی سی کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے ان حملوں میں 17 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور سعودی عرب نے مبینہ حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
سعودی حکام نے ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ٹرمینل نمبر 1 کو ملکی پروازوں اور ٹرمینل نمبر 2 کو بین الاقوامی پروازوں کے لیے مختص کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ یہ انتظام 25 اکتوبر سے نافذ العمل ہونا تھا۔
یمن میں تازہ جھڑپوں کے بعد 2022ء میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی عملاً متاثر ہو گئی ہے، جس کے تحت سعودی قیادت میں قائم اتحاد اور حوثیوں کے درمیان سرحد پار حملوں میں بڑی حد تک کمی آئی تھی۔ حوثی دارالحکومت صنعا سمیت ملک کے بڑے حصے پر قابض ہیں، جبکہ سعودی عرب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے۔

