اسلام آباد (خبر ایجنسیاں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے دور میں دہشت گردوں کو خیبر پختونخوا میں لایا گیا، گزشتہ چند ماہ سے صوبے کی صورتحال انتہائی خراب تھی۔
مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ 2018ء میں ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوچکا تھا، امن کے قیام کیلئے سیاست دانوں نے قربانیاں دی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کیلئےقربانیاں دیں، انہی قربانیوں کی بدولت صوبے میں امن قائم ہوا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو بھی تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی، سہیل آفریدی سے بھی ملاقاتیں ہوئیں اور خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ مل کر چلنے کی ہر ممکن کوشش کی۔
شہباز شریف نے کہا کہ ڈھائی سال تک معاملات بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، تاہم پی ٹی آئی کی حکومت ترقی کا سفر روکنے پر تلی ہوئی تھی۔ ان کے بقول یہ لوگ آج تک ڈی چوک سے باہر نہیں نکلے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ نے جس طرح کی باتیں کیں، وہ کوئی دشمن بھی نہیں کرسکتا۔ خیبر پختونخوا میں محکمہ انسداد دہشت گردی کو مضبوط بنانے پر اتفاق رائے کے بعد مذاکرات کو سبوتاژ کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کیلئے یہ ’’اب نہیں تو کبھی نہیں‘‘ والی گھڑی تھی، اسلئے مجبوراً گورنر راج کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ دہشت گردوں کیخلاف ایک لفظ بولنے کو تیار نہیں۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ مذاکرات میں تقریباً تمام معاملات طے ہونے والے تھے، تاہم آخر میں پی ٹی آئی کے وفد نے کہا کہ انہیں صوبائی حکومت سے بات کرنی ہے۔ وزیراعظم کے بقول، شاید انہیں وہاں ایک اور 9 مئی کرنے کا حکم دیا گیا تھا، جس کے باعث تمام معاملات خراب ہوگئے۔

