پیرس( رائٹرز)پیرس میں فرانس اور برطانیہ کی زیرِ صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی ویڈیو اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ درجن سے زائد ممالک نے آبنائے ہرمز میں بحری تجارتی راستوں کے تحفظ کیلئےایک بین الاقوامی مشن میں حصہ لینے کی پیشکش کی ہے، تاہم اس مشن کی حتمی شکل حالات پر منحصر ہوگی۔
برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر کے مطابق تقریباً 50 ممالک، جن میں یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک شامل تھےاس اجلاس میں شریک ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ممالک نے مشن کیلئےعسکری اور لاجسٹک تعاون کی آمادگی ظاہر کی ہے اور اگلے ہفتے لندن میں ہونے والے اجلاس میں مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ اجلاس کا مقصد آبنائے ہرمز کو فوری اور غیر مشروط طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ ہے، کیونکہ عالمی تیل اور ایل این جی کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی کوشش کی مخالفت کی جائیگی جو اس اسٹریٹ کو “نجی کنٹرول” یا ٹول سسٹم کے تحت لانے کے مترادف ہو۔
برطانوی وزیرِاعظم کے مطابق اس مشن میں انٹیلی جنس شیئرنگ، بارودی سرنگوں کی صفائی، بحری قافلوں کی حفاظت اور علاقائی رابطہ کاری جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ تمام اقدامات جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی کے تناظر میں ہی آگے بڑھیں گے۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ جرمنی اس مشن میں کردار ادا کرنے کیلئےتیار ہےتاہم انہوں نے زور دیا کہ امریکا کی شمولیت بھی اہم ہے تاکہ اس معاملے کو ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کیلئے”تناؤ کا باعث”نہ بنایا جائے۔
رپورٹ کے مطابق فی الحال اس مجوزہ مشن میں نہ تو امریکہ شامل ہے اور نہ ہی ایران، تاہم یورپی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ عملی سطح پر کسی بھی مؤثر اقدام کیلئےدونوں فریقین سے رابطہ ضروری ہوگا۔مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں صورتحال معمول پر آ گئی تو یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہیں کریگا جبکہ شپنگ کمپنیوں اور انشورنس اداروں کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کے باعث اس نوعیت کے اقدامات کی حمایت کی جا رہی ہے۔

