کینیڈا نے اپنے ’دھونس جمانے والے ہمسائے‘ امریکا کی خوشامد کا راستہ اختیار کیا ہے: اسماعیل بقائی

تہران (ایرانی میڈیا) ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایران کے خلاف امریکی معاشی دباؤ اور آبنائے ہرمز سے متعلق کینیڈا کے مؤقف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا نے اپنے ’دھونس جمانے والے ہمسائے‘ امریکا کی خوشامد کا راستہ اختیار کیا ہے۔

ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ جس روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو امریکا کا حصہ قرار دیا، اسی روز کینیڈا کے وزرائے خارجہ اور خزانہ نے ایران کو نشانہ بناتے ہوئے ایسا بیان جاری کیا جس میں خطے کی صورتِ حال سے متعلق ہر حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ کینیڈا بخوبی جانتا ہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے سے قبل آبنائے ہرمز کھلی اور محفوظ تھی۔ ان کے مطابق کینیڈا ایک جانب ’امن و سلامتی‘، ’بحری آمدورفت کی آزادی‘ اور ’بین الاقوامی قانون‘ کا علم بردار ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں اور واشنگٹن کے ’غیر قانونی اور مداخلت پسندانہ اقدامات‘ کی حمایت کر رہا ہے۔

ایرانی ترجمان نے سوال کیا کہ اگر اصل مسئلہ بحری آمدورفت کی آزادی ہے تو کینیڈا امریکی فوجی کارروائیوں، ناکا بندی اور معاشی جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیوں نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا خود امریکی دباؤ اور واشنگٹن کی جانب سے کیے گئے وعدوں کے تجربے سے واقف ہے، اس کے باوجود وہ امریکی فوجی جارحیت اور ’معاشی دہشت گردی‘ کی حمایت کر رہا ہے۔

اسماعیل بقائی نے کینیڈا کے مؤقف کو ’دھمکی کے سامنے جھکنے‘ اور ’حکمتِ عملی کی الجھن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا انتخاب ہے جو خود کینیڈا کو بھی امریکی دباؤ اور جارحیت سے محفوظ نہیں رکھ سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ عمل نہ سفارت کاری ہے اور نہ ہی ذمہ دارانہ ریاستی حکمتِ عملی۔

دوسری جانب کینیڈا نے 6 ستمبر کو ایران سے مشرقِ وسطیٰ میں ’عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیاں‘ فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند اور وزیر خزانہ فرانسوا فلپ شانپین نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو مسلسل دھمکیاں عالمی امن و سلامتی کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

کینیڈا نے کہا تھا کہ وہ ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے جی 7 سمیت اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور امریکا، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ اوٹاوا نے ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔

کینیڈین حکومت کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو محدود کرنے کی کوششیں عالمی تجارت اور توانائی کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ کینیڈا نے اگست میں بھی آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے حقوق میں رکاوٹ ڈالنے والے ایرانی عہدیداروں پر نئی پابندیاں عائد کی تھیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی ہے جب تہران نے آبنائے کے قریب ایک نئے ’بحری ممنوعہ زون‘ کے قیام کا اعلان کرنے کی دھمکی دی ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ مزید امریکی حملوں کی صورت میں خلیج میں امریکی توانائی کے اثاثوں کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے، جبکہ حالیہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتِ حال امریکی فوجی اور معاشی اقدامات کا نتیجہ ہے، جبکہ کینیڈا اور اس کے اتحادی آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کو عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے بنیادی ضرورت قرار دیتے ہیں۔