آئین، اصول اور جرات: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فلسفۂ قانون

پاکستان کی عدالتی تاریخ کا ایک بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ کئی مواقع پر وہ آئین کی محافظ بننے کے بجائے طاقت کے سامنے جھکتی ہوئی دکھائی دی۔ نظریۂ ضرورت جیسے اصولوں نے نہ صرف غیر آئینی اقدامات کو جواز فراہم کیا بلکہ عدلیہ کے وقار کو بھی مجروح کیا۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی جج آئین کو حرفِ آخر مان کر کھڑا ہوتا ہے، تو وہ محض ایک فرد نہیں رہتا بلکہ ایک معیار قائم کر دیتا ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں ایسے چند ہی نام ملتے ہیں، اور ان میں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اسی معیار کی ایک نمایاں مثال ہیں۔

جسٹس عیسیٰ کی عدالتی فکر کو اگر چند الفاظ میں سمیٹا جائے تو وہ ہے: آئینی بالادستی، ادارہ جاتی توازن، اور شہری آزادیوں کا غیر متزلزل تحفظ۔ ان کے فیصلوں میں سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ انہوں نے قانون کو محض الفاظ کا مجموعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک زندہ اصول کے طور پر دیکھا، جس کا مقصد ریاست اور شہری کے درمیان ایک منصفانہ تعلق قائم کرنا ہے۔

ان کے فلسفۂ قانون کا بنیادی ستون یہ ہے کہ ریاست کے تمام ادارے آئین کے تابع ہیں، نہ کہ آئین اداروں کے تابع۔ مزید برآں، ان کے نزدیک آئین کے سامنے کسی بڑی سے بڑی یا مشہور و معروف شخصیت کی بھی کوئی خصوصی حیثیت نہیں؛ سب برابر ہیں اور سب ہی اس کے سامنے جوابدہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایسے معاملات میں دوٹوک انداز اپنایا جہاں طاقتور اداروں یا بااثر شخصیات کے اقدامات کو آئینی کسوٹی پر پرکھا گیا، اور یہ اصول واضح کیا کہ کسی بھی فرد یا ادارے کو قانون سے بالاتر سمجھنا دراصل آئینی نظم کی نفی ہے۔ یہ مؤقف بظاہر سادہ ہے، مگر پاکستان کے تناظر میں اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک نمایاں اور جرات مندانہ رخ اختیار کرتا ہے۔

ان کی عدالتی سوچ کا ایک اہم پہلو اختیارات کی تقسیم پر ان کا غیر متزلزل یقین ہے۔ انہوں نے بارہا اس بات کو اجاگر کیا کہ عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کریں۔ مثال کے طور پر ایسے مواقع پر، جہاں عدالت سے پالیسی سازی یا انتظامی خلا پُر کرنے کی توقع کی جا رہی تھی، انہوں نے بلا جھجھک یہ اصول رکھا کہ عدالت کا کام قانون کی تشریح ہے، نہ کہ قانون سازی؛ اور اگر کوئی خلا موجود ہے تو اسے پُر کرنا پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے۔ اس زاویۂ نظر نے ایک متوازن جمہوری ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور اس روایت کو یکسر مسترد کر دیا کہ عدلیہ خود کسی خاص شخص کے مفادات کے تحفظ کے لیے آئین میں ترمیم کر سکتی ہے یا کسی کو اس کی اجازت دے سکتی ہے۔

ان کی فکر میں شفافیت اور جوابدہی کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے اپنے فیصلوں میں نہ صرف قانونی نکات بیان کیے بلکہ ریاستی اداروں کی ذمہ داریوں کو بھی واضح کیا۔ بعض مواقع پر سرکاری اداروں کی غفلت یا غیر مؤثر کارکردگی کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے یہ باور کرایا کہ عوام کے حقوق کے تحفظ میں ناکامی محض انتظامی کمزوری نہیں بلکہ آئینی ذمہ داری سے انحراف ہے، جو کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔

اسی طرح ان کے فیصلوں میں بنیادی حقوق کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی۔ انہوں نے اظہارِ رائے کی آزادی، منصفانہ ٹرائل اور قانون کے سامنے برابری جیسے اصولوں کو مرکزی حیثیت دی۔ ان کے نزدیک ریاست کی اصل حیثیت اسی وقت برقرار رہتی ہے جب وہ ان حقوق کی حفاظت کرے، نہ کہ انہیں محدود کرے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایسے معاملات میں بھی اصولی موقف اپنایا جہاں ایک عام شہری ریاست کے مقابل کھڑا ہوتا تھا، اور یہ واضح کیا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔

جسٹس عیسیٰ کی ایک اور نمایاں خصوصیت ان کا تحریری انداز ہے۔ ان کے فیصلے واضح، منطقی اور عام فہم زبان میں ہوتے ہیں۔ انہوں نے قانونی زبان کو غیر ضروری پیچیدگی سے نکال کر اس سطح تک لانے کی کوشش کی جہاں ایک عام شہری بھی اسے آسانی سے سمجھ سکے۔ یہ طرزِ تحریر خود ایک مثبت عدالتی روایت کی حیثیت رکھتا ہے۔

روایات سے ہٹ کر اور نظریۂ ضرورت کو پس پشت ڈال کر جرات مندانہ فیصلوں کی وجہ سے ایک مخصوص گروہ کی طرف سے ان کے خلاف میڈیا اور سوشل میڈیا پر باقاعدہ مہمات چلائی گئیں۔ تاہم ان مہمات میں شامل بیشتر افراد نہ تو قانون اور آئین کی باریکیوں سے واقف تھے اور نہ ہی انہوں نے ان کے فیصلوں کا کبھی سنجیدہ مطالعہ کیا تھا۔ ان کی تنقید زیادہ تر سیاسی وابستگیوں اور توقعات کے پورا نہ ہونے کا ردعمل تھی۔ ان کی شکایت یہ رہی کہ انہوں نے نہ تو انہیں اور نہ ہی ان کی پسندیدہ شخصیات یا جماعتوں کو وہ رعایت دی جو ماضی میں بعض اوقات خلافِ آئین دی جاتی رہی تھی، اور یہی طرزِ عمل آج بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ اس کے برعکس، سنجیدہ قانونی حلقے ان کے کام کو ایک اصولی اور خودمختار عدالتی سوچ کی عکاسی سمجھتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی عدالتی زندگی محض فیصلوں تک محدود نہیں بلکہ ایک اصولی جدوجہد کی عکاس بھی ہے۔ ان کے خلاف دائر ہونے والا صدارتی ریفرنس اور اس سے جڑی مہمات اور جھوٹا و لغو پروپیگنڈا اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ ایک آزاد فکر رکھنے والے جج کو کس نوعیت کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کی اہلیہ کو اس معاملے میں شامل کرنا اور ذاتی سطح پر کردار کشی کی کوششیں اسی دباؤ کی شدت کو نمایاں کرتی ہیں۔ اس کے باوجود، انہوں نے اپنے اصولوں سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے سے انکار کیا، جو ان کے صاف دامن اور مضبوط شخصیت کا واضح ثبوت ہے۔

انہوں نے اپنی عدالتی ذمہ داریوں کو کبھی مقبولیت یا عوامی دباؤ کے تابع نہیں کیا۔ ان کے فیصلے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ نہ کسی طبقے کو خوش کرنے کے لیے جھکے اور نہ ہی کسی طاقتور حلقے کے دباؤ میں آئے۔ ان کے نزدیک جج کا اصل فریضہ قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے، نہ کہ حالات کے مطابق۔

قانون کے طالب علموں کے لیے ان کا فلسفۂ قانون ایک مکمل مکتبۂ فکر کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے فیصلوں میں نہ صرف آئینی اصولوں کی وضاحت ملتی ہے بلکہ یہ بھی سیکھنے کو ملتا ہے کہ ایک جج کو کن اخلاقی اور فکری معیاروں پر قائم رہنا چاہیے۔ ان کی عدالتی سوچ اس فرق کو نمایاں کرتی ہے جو ایک آزاد منش جج اور ایک مصلحت پسند جج کے درمیان ہوتا ہے۔

اس سب کی روشنی میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پاکستان کی عدلیہ میں ایک ایسی مثال قائم کی ہے جس میں آئین محض ایک دستاویز نہیں بلکہ ایک زندہ عہد ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ اصولوں پر قائم رہتے ہوئے انصاف ممکن ہے اور دباؤ کے باوجود سچائی کا ساتھ دیا جا سکتا ہے۔ اسی تسلسل میں انہوں نے ایک ایسی روایت قائم کی جس میں جج نہ صرف قانون کے مطابق فیصلے کرتا ہے بلکہ ہر قسم کے دباؤ، مصلحت اور ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر آئین کی پاسداری کرتا ہے۔

اور یہی وہ معیار ہے جس پر کسی بھی معاشرے میں انصاف کو پرکھا جانا چاہیے، کہ آیا فیصلے آئین کے مطابق ہوئے یا دباؤ کے مطابق۔ کیونکہ انصاف صرف دیا نہیں جاتا، بلکہ اس کے لیے آئین کے ساتھ کھڑا ہونا پڑتا ہے، چاہے دباؤ کسی بھی سمت سے کیوں نہ ہو۔