سوچنے والی بات ہے کہ پنجاب میں مریم نواز حکومت کی طرف سے زراعت اور کسان کی ترقی کے لئے کئے جانے والے اقدامات صرف دعوے کیوں محسوس ہو رہے ہیں ؟ اشتہاروں میں نظر آنے والی خوشحالی سامنے کیوں نہیں آ رہی اور سب سے بڑھ کر پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت اس تاثر کو ابھی تک کیوں دور نہیں کر سکی کہ جب بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہوتی ہے کسان بے حال ہو جاتا ہے،ایک بہت اچھا افسر افتخار سہو سیکرٹری زراعت ہے مگر محسوس ہوتا ہے زرعی شعبہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں،گنا ،گندم او ر دوسری زرعی اجناس پیدا کرنے والے کسان ا پنی جنس کی ناقدری پر افسردہ اور اسی کے بیوپاری شوگر ملزمالکان ، آڑھتی اور ایکسپورٹرموجیں کر رہے ہوں تو حکومتی پالیسیوں کا فرق صاف نظر آتا ہے۔
دوسر ی طرف ہمارے ہمسایہ پنجاب کے ایک کامیڈین وزیر اعلیٰ نے کسان اور زراعت کی بحالی ، ترقی کے لئے ایسے اقدات اٹھائے ہیں کہ اسکی مثالیں دی جا رہی ہیں۔ پنجاب برصغیر کا وہ خطہ ہے جسے قدرت نے زرخیز زمین، محنتی کسان اور وافر آبی وسائل عطا کیے ہیں، تقسیمِ ہند سے قبل پنجاب ایک ہی اکائی تھا، مگر 1947ء کے بعد یہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، دونوں کے جغرافیہ، آب و ہوا اور زرعی روایات میں حیرت انگیز مماثلت موجود ہے، مگر گزشتہ چند دہائیوں میں ان کے زرعی ماڈلز میں نمایاں فرق پیدا ہو چکا ہے،حال ہی میں بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے حوالے سے یہ تاثر عام ہوا ہے کہ انہوں نے صوبے میں زراعت اور دیہی معیشت کے میدان میں غیر معمولی اصلاحات متعارف کرا ئی ہیں، ایک معمولی کسان کے غریب بیٹے بھگونت مان نے بچپن سے لڑکپن تک کھیتوں میں کام کرنے کے دوران جو مشکلات خود برداشت کیں اب ان کے حل کیلئے کوشش کر رہے ہیں ،پچھلے 70 سال تک کسانوں کو ٹیوب ویل چلانے کیلئے مفت یا سبسڈائز بجلی رات 9 بجے سے صبح 5 بجے کے دوران فراہم کی جاتی تھی، بھگونت مان نے وزیراعلی بنتے ہی کسانوں کو ٹیوب ویلز پر مفت بجلی صبح 9 سے 6 بجے دستیاب کردی ، بھارتی پنجاب کے غیرآباد علاقوں میں نہریں تو موجود تھیں مگر ٹیل تک پانی پہنچنا ایک خواب تھا، محکمہ ایری گیشن کی ایسی چابی گھمائی کہ اب پورے پنجاب میں صحراؤں تک نہری پانی کی فراوانی ہے، نہری پانی کا ضیاع روکنے کیلئے بھگونت مان نے پورے پنجاب میں نہریں اور کھال پکے کرادیئے ہیں، بیشتر علاقوں میں کھالے ختم کرکے زرعی زمین زیادہ استعمال میں لانے کیلئے شہروں کی طرح دیہات میں بھی واٹر سپلائی کی زیر زمین لائنیں بچھائی جا رہی ہیں، کم زمین والا کسان ہی یہ مشکل جان سکتا ہے کہ اگر اس کی تھوڑی سی زمین میں بجلی کے کئی کھمبے گزار دیے جائیں تو ٹریکٹر نہ چل پانے سے کھیتی مشکل ہو جاتی ہے، کرنٹ سے اموات بھی ہوتی ہیں، بھگونت مان نے بچپن میں یہ تکالیف دیکھیں اور اب زرعی زمین کو پورا استعمال کرنے کیلئے اپنے آبائی گاؤں سے کھمبے اکھاڑنے کا عمل شروع کرادیا ہے، دیہات میں بجلی زیر زمین کی جا رہی ہے۔
اس نے پچھلے چار سالوں میں زرعی شعبے میں بے شمار نمایاں اقدامات کیے ہیں،بھارتی پنجاب طویل عرصے سے گندم اور دھان کے چکر میں پھنسا ہوا تھا، دھان کی فصل پانی بہت زیادہ استعمال کرتی ہے جس سے زیر زمین پانی خطرناک حد تک نیچے چلا گیا،بھگونت مان حکومت نے کسانوں کو مکئی، دالوں، سبزیوں اور باغبانی کی طرف راغب کرنے کے لیے مختلف مراعات متعارف کرائیں، مقصد یہ تھا کہ کسان صرف دو فصلوں پر انحصار نہ کریں،بھارتی پنجاب حکومت نے نہروں کی بحالی، بارش کے پانی کے ذخیرے اور جدید آبپاشی نظام کے فروغ پر توجہ دی، ڈرپ اور سپرنکلر اریگیشن کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی تاکہ پانی کا ضیاع کم ہو۔کسانوں کو جدید زرعی مشینری تک رسائی دینے کے لیے سبسڈی پروگرام متعارف کروائے گئے، اس سے پیداواری لاگت میں کمی اور کارکردگی میں اضافہ ہوا،بھارت میں کم از کم امدادی قیمت کا نظام کسان کو ایک حد تک تحفظ فراہم کرتا ہے، سرکاری ادارے گندم اور بعض دیگر فصلیں خرید لیتے ہیں، جس سے کسان کو مارکیٹ کے شدید اتار چڑھاؤ سے کچھ تحفظ ملتا ہے،زمین کے ریکارڈ، سبسڈی اور مختلف سرکاری خدمات کو آن لائن منتقل کرنے سے شفافیت میں اضافہ ہوا اور کسانوں کی سرکاری دفاتر پر انحصار نسبتاً کم ہوا۔
پاکستانی پنجاب نے بھی زرعی ترقی کی، مگر تحقیق، مارکیٹنگ اور کسان دوست پالیسیوں میں تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے وہ رفتار برقرار نہ رکھ سکا اور آج پنجاب کے کسان اور زراعت کو بحران کا سامنا ہے ، زیر زمین پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے، زمین کی زرخیزی متاثر ہو رہی ہے اور کسان کی آمدنی میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہو رہا، پاکستانی پنجاب جو ملکی زراعت کا مرکز ہے اور گندم، چاول، گنا، کپاس اور سبزیوں کی بڑی مقدار یہیں پیدا ہوتی ہے، پنجاب پاکستان میں آبپاشی کا قدیم نظام موجود ہے، مگر پانی کے استعمال میں غیر معمولی ضیاع ہوتا ہے، کھالوں اور نہروں میں پانی کا بڑا حصہ راستے میں ضائع ہو جاتا ہے،اکثر فصلوں میں فی ایکڑ پیداوار عالمی معیار سے کم ہے، اس کی وجہ معیاری بیجوں، جدید تحقیق اور تکنیکی رہنمائی کی کمی ہے،کسان اکثر اپنی فصل اونے پونے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے جبکہ منافع کا بڑا حصہ اب بھی بیوپاری اور مڈل مین لے جاتے ہیں،زرعی تحقیقی ادارے موجود ہیں مگر ان کی سفارشات کھیت تک پہنچنے میں دشواری ہوتی ہے،شدید گرمی، بے وقت بارشیں اور سیلاب زراعت کیلئے مستقل خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
ہماری حکومت بھارتی پنجاب کی ترقی سے سیکھے کہ فصلوں کی تنوع کاشت کیسے کرنا ہے ،پاکستانی پنجاب میں ابھی تک گندم، چاول اور گنے پر ضرورت سے زیادہ انحصار موجود ہے،کسانوں کو دالوں،تیل دار اجناس، سبزیوں، پھلوں،چارہ جات کی پیداوار کی طرف راغب کیا جانا چاہیے،اس سے درآمدی بل کم ہوگا اور کسان کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، پانی کی بچت کو قومی ترجیح بنایا جائے کیونکہ آج کا سب سے بڑا زرعی مسئلہ پانی ہے،ڈرپ اریگیشن، سپرنکلر سسٹم، لیزر لینڈ لیولنگ اور بارش کے پانی کے ذخیرے کے منصوبوں کو وسیع پیمانے پر فروغ دینا ہوگا۔ ہر کسان کا مکمل ڈیجیٹل پروفائل بنایا جا سکتا ہے جس میں،زمین کا ریکارڈ،فصلوں کا ڈیٹا،سبسڈی،قرضے،انشورنس شامل ہوں،اس سے کرپشن اور بدانتظامی میں کمی آئے گی، بارش، ژالہ باری، سیلاب یا خشک سالی سے کسان کی تباہی روکنے کے لیے جامع زرعی انشورنس پروگرام ضروری ہے،خام زرعی اجناس فروخت کرنے کے بجائے فوڈ پراسیسنگ انڈسٹری کو فروغ دے،تمام زرعی جامعات کو تحقیقی مقالوں تک محدود رکھنے کے بجائے براہ راست کھیتوں سے جوڑا جانا چاہیے۔دنیا بھر میں کامیاب کسان صرف کاشتکار نہیں بلکہ کاروباری افراد بھی ہوتے ہیں،بھارتی پنجاب میں بعض شعبوں میں پیش رفت اس لیے نظر آتی ہے کیونکہ وہاں پالیسیوں کے نفاذ اور ادارہ جاتی نگرانی پر نسبتاً زیادہ توجہ دی جاتی ہے،بھارتی پنجاب اور پاکستانی پنجاب دراصل ایک ہی تہذیب اور زرعی ورثے کے دو چہرے ہیں، بھگونت مان کی حکومت نے زرعی شعبے میں جو اہم اصلاحات متعارف کروائی ہیں ان سے سیکھا جا سکتا ہے اور سیکھنے میں کوئی برائی نہیں۔

