مجھ سے یہ سوال ایک انٹر ویومیں کیا گیا ۔اس سوال کے تین اولین الفاظ ” آج کی عورت” میرے لئے کنفیوژنگ ہیں۔ کیونکہ جب ہم آج کی عورت کہتے ہیں تو دنیا کی تمام عورتوں کو اس سوال میں سمیٹ لیتے ہیں ان عورتوں کو بھی جو آج بھی کھو نٹے سے بندھی چارہ مانگتی گائے کی حیثیت رکھتی ہیں، جو آج بھی تاوان میں دی جارہی ہیں، عزت کے نام پہ قتل کی جارہی ہیں ۔ ریپ کرکے کوڑے پر پھینکی جارہی ہیں ، لہٰذا اس سوال کے ساتھ آج کی تعلیم یافتہ، باشعور اورمعاشی طور پر خود مختار عورت کے حوالے سے گفتگو کرنی ہوگی۔
ہمارے ملک میں عورتوں کی تعلیم کا اوسط 45 فیصد اس میں وہ بھی شامل ہیں جو اعلیٰ تعلیم نہیں رکھتیں۔ جب آدھی آبا دی سے بھی کم عورتیں تعلیم یافتہ نہیں ہونگی تو معاشی طور پر ظاہر ہے وہ مرد کی دست نگر ہونگی اور مجبور ہونگی کہ جس حال میں رکھا جائے وہ رہیں ۔ اب جنہیں ہم تعلیم یافتہ عورتوں میں شمار کرتے ہیں ان کا فکری ا فق کتنا وسیع ہے، تر بیت کیسے ہوئی ہے اور کس ماحول میں ہوئی ہے سب کا اثر شخصیت پر بہرحال پڑتا ہے لہذا ان تعلیم یافتہ عورتوں میں کچھ نے آزادی اور خود مختاری کے وہی معنی سمجھے ہیں جو بر صغیر کے اکثر مرد انہیں سمجھاتے آئے ہیں۔ اورچند نے ہر مرد کو ظالم، جابرعورت کا دشمن قرار دے کے عورت اور مرد کو یوں تلوار بکف آمنے سامنے کھڑا کردیا ہے کہ جیسے پاکستان اور ہندوستان کی فوج آمنے سامنے کھڑی ہو۔ ان دونوں رویوں سے فیمنزم کی روح مجروح ہوتی ہے لیکن جو باشعورخواتین ( جوکہ اکثریت میں ہیں ) ہیں وہ سمجھتی اور سمجھاتی ہیں کہ عورت اور مرد کو شانہ بہ خانہ قدم سے قدم ملا کے یکساں حقوق اور برابر کی حیثیت میں چلنا ہوگا ۔
یہ صرف حقوق کی بحث نہیں بلکہ اقدار، ذمہ داری اور انسانی شراکت کی تعبیر نو کا مرحلہ ہے۔ آج کی عورت جب آزادی کی بات کرتی ہے تو وہ دراصل اپنی ذات کے اعتراف کی بات کرتی ہے۔ یہاں وہ سوال میں بھر سے د ہراتی ہوں ( لیکن تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ) جو مجھ سے پوچھا گیا تھا۔ کیا آج کی تعلیم یافتہ، باشعور اور خود مختار عورت نے آزادی کا توازن کو برقرار رکھا ہے؟
یہ سوال نہ سادہ ہے، نہ یک رُخی۔ اس کے کئی زاویے ہیں۔
. آزادی کا مفہوم
مغالطہ یا شعوری انتخاب؟
آزادی کو اگر محض قیود سے نجات سمجھا جائے تو وہ جلد ہی انفرادیت کی انتہا پسندی میں بدل سکتی ہے۔ لیکن اگر آزادی کو شعوری ذمہ داری کے ساتھ دیکھا جائے تو وہ اعتدال پیدا کرتی ہے۔مغربی فکری روایت میں Simone de Beauvoir نے عورت کو “The Other” قرار دے کر یہ واضح کیا کہ عورت کو اپنی شناخت خود تشکیل دینی ہوگی۔ اس فکر نے دنیا بھر میں نسائی شعور کو مہمیز دی۔ تاہم ہر تہذیب میں آزادی کا اطلاق یکساں نہیں ہو سکتا۔ہمارے معاشروں میں آزادی کا سوال روایت، مذہب اور خاندانی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ اس لیے آزادی کا توازن برقرار رکھنا ایک عمیق فکری عمل ہے ۔ تعلیم اور شعور اس توازن کی بنیاد ہیں، انتہا پسندی وہ کلہاڑی ہے جو فیمنزم کی جڑوں پر ضرب لگا کے اصل مقصد میں دراڑ ڈال رہی ہے اس کے بر خلاف آج کی سوجھ بوجھ رکھنے والی تعلیم یافتہ عورت باخبر ہے، عالمی مباحث سے آگاہ ہے وہ آزادی کو محض ظاہری اظہار نہیں سمجھتی بلکہ اسے فکری خودمختاری سے جوڑتی ہے۔
یہی فکری خودمختاری توازن پیدا کرتی ہے —
کہ وہ حقوق مانگتے ہوئے ذمہ داریوں سے انکار نہیں کرتی اور جدیدیت اختیار کرتے ہوئے اپنی تہذیبی جڑوں سے منقطع نہیں ہوتی۔ ایک اعتراض اور اسی انٹر ویو کے دوران اُٹھایا گیا کہ جدید نظریات یا عورت کی آزادی نے”کیا خاندانی نظام کو کمزور کیا ہے؟”۔حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔
خاندانی نظام اس وقت کمزور ہوتا ہے جب اس میں انصاف اور احترام کا فقدان ہو۔ عورت کی آزادی اگر انصاف، مکالمہ اور شراکت کی بنیاد پر ہو تو وہ خاندان کو توڑتی نہیں، مضبوط کرتی ہے۔آج کی باشعور عورت رشتہ نبھانے کو کمزوری نہیں سمجھتی۔ وہ محبت کو تابع داری نہیں بلکہ شراکت سمجھتی ہے۔وہ جانتی ہے کہ اعتدال کا مطلب اپنی آواز کھو دینا نہیں بلکہ دوسروں کی آواز سننا بھی ہے ہم نے دیکھا ہے کہ ہر تحریک میں دو انتہائیں پیدا ہو جاتی ہیں لہذا فیمنسٹ موومنٹ کو بھی اس روئے نے گھیرا ہؤا ہے ایک وہ جو عورت کو مکمل طور پر روایت میں قید رکھنا چاہتی ہیں دوسری وہ جو ہر روایت کو جبر سمجھ کر رد کرنا چاہتی ہیں لیکن اصل توازن ان دونوں کے درمیان ہے۔آج کی عورت کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ آزادی کو بے راہ روی میں نہ بدلنے دے، اور روایت کو جمود میں نہ ڈھلنے دے۔
اعتدال اسی وقت ممکن ہے جب عورت اپنی آزادی کو انسانی وقار اور اجتماعی بھلائی سے جوڑے۔ یہ کہنا کہ آج کی عورت نے مکمل طور پر توازن برقرار رکھا ہے، شاید مبالغہ ہوگا،اور یہ کہنا کہ اس نے توازن کھو دیا ہے، ناانصافی ہوگی۔حقیقت یہ ہے کہ عورت ایک عبوری دور سے گزر رہی ہےایک ایسا دور جہاں پرانی تعریفیں ٹوٹ رہی ہیں اور نئی تعبیرات تشکیل پا رہی ہیں۔آج کی باشعور عورت کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے سوال کرنے کا حق حاصل کیااور سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اس سوال کو حکمت کے ساتھ آگے بڑھائے۔آزادی اگر شعور کے ساتھ ہو تو تہذیب کو وسعت دیتی ہے۔اور اگر انا کے ساتھ ہو تو تنہائی پیدا کرتی ہے۔لہٰذا آج کی عورت کی اصل کامیابی اسی میں ہے کہ وہ آزادی کوانصاف، توازن اور اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ جوڑے۔تبھی وہ نہ صرف اپنی ذات کی معمار ہوگی بلکہ معاشرے کی بھی معمار بنے گی۔
فیمنسٹ تحریک کو عموماً عورتوں کی جدوجہد سمجھا جاتا ہے اس حد تک یہ بات درست ہے عورت ہی نے برسوں کی ظالمانہ اور دقیانوسی روایات پر نہ صرف پہلی ضرب لگائی بلکہ اسے قدم قدم پر مشکلات کا سامنا رہا اور آج بھی ہے ہمارے نواحی علاقوں میں اب بھی عورت جانوروں سے بھی بدتر سلوک برداشت کر رہی ہے ، وہ تاوان میں دے دی جاتی ہے، عزت کے نام پر اس کا شوہر ، باپ ،بھائ یا کوئی بھی رشتہ دار اسے قتل کرسکتا ہے۔ اس کی شادی قرآن سے کردی جاتی ہے ۔ ان مسائل یا روایات کی جڑیں اس قدر گہری ہیں کہ ان کو اکھاڑ پھینکنا آسان نہیں لیکن امید افزا بات یہ کہ عورتوں کی مسلسل جدو جہد نے انصاف پسند مرد عورتوں کی اس جدو جہد میں اس کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ تاریخی اور سماجی تجزیہ بتاتا ہے کہ مرد مفکرین، مصلحین، ادیبوں اور کارکنوں نے بھی صنفی مساوات کے بیانیے کو تقویت دی ہے۔ جنوبی ایشیا—خصوصاً پاکستان اور ہندوستان میں یہ کردار کبھی فکری سطح پر، کبھی سماجی اصلاح کی صورت میں اور کبھی عملی جدوجہد کے طور پر سامنے آیا۔
پاکستان اور ہندوستان میں مردوں کا فیمنسٹ تحریک میں کردارایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ تمہیدفیمنسٹ تحریک کو عموماً عورتوں کی جدوجہد سمجھا جاتا ہے، مگر تاریخی اور سماجی تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ کئی مرد مفکرین، مصلحین، ادیبوں اور کارکنوں نے بھی صنفی مساوات کے بیانیے کو تقویت دی ہے۔ جنوبی ایشیا—خصوصاً پاکستان اور ہندوستان—میں یہ کردار کبھی فکری سطح پر، کبھی سماجی اصلاح کی صورت میں اور کبھی عملی جدوجہد کے طور پر سامنے آیا۔
ایک مختصر سا جائزہ اس کا پیش کرتی چلوں۔
◾ Raja Ram Mohan Roy
انیسویں صدی میں انہوں نے سَتی جیسی رسم کے خلاف آواز اٹھائی اور عورتوں کی تعلیم اور وراثتی حقوق کی حمایت کی۔ 1829ء میں ستی پر پابندی کے قانون میں ان کی فکری و سماجی مہم کا اہم کردار تسلیم کیا جاتا ہے۔
◾ Jyotirao Phule
انہوں نے اپنی اہلیہ ساوتری بائی پھولے کے ساتھ مل کر لڑکیوں کے لیے اسکول قائم کیے اور ذات پات اور صنفی امتیاز کے خلاف تحریریں لکھیں۔
◾ Harish Sadani
Men Against Violence and Abuse (MAVA) کے بانی تھےان کی یہ تنظیم مردوں کو صنفی تشدد کے خلاف تربیت دیتی ہے اور “مردانگی” کے روایتی تصورات پر تنقیدی مکالمہ کرتی ہے۔
◾ Farhan Akhtar
MARDنامی تنظیم کے ذریعہ عوامی شعور کواجاگر کیاپاکستان میں خواتین کی تحریکوکی قیادت گو خواتین نے کی اور Women’s Action Forumکے ذریعہ بہت موئثر انداز میں کی ۔ تاہم کئی مرد اہلِ قلم، وکلاء اور سماجی کارکن اس جدوجہد میں معاون بنے۔
◾ Shah Muhammad Marri
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے دانشورہیں جو مسلسل صنفی انصاف اور سماجی مساوات کے مباحث میں خواتین کے حق میں آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ ان کی تحریروں میں طاقت کے ڈھانچوں پر تنقید اور عورت کی شرکت کی وکالت ملتی ہے۔
bell hooks (اصل نام، Gloria Jean Watkins)
3) Feminism Is for Everybodyمیں آسان زبان میں تعارف کراتے ہوئے یہ واضح کرتی ہیں کہ فیمنزم مردوں کے خلاف نہیں بلکہ پدرشاہی نظام کے خلاف جدوجہد ہے ،انکی کتاب The Will to Change: Men, Masculinity, and Love مردانگی کے روایتی تصورات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔
ہمارے معاشرے کی اکثریت خواہ عورت ہو یا مرد تبدیلی کے مخالف اور لکیر کے فقیر بنے رہنے میں ہی اپنی اصل بقا سمجھتے ہیں لہٰذا آج تعلیم یافتہ باشعور عورت جب اپنی ذات کی تکریم اور برابر کے حقوق کا سوال اٹھاتی ہے تووہ مرد جنکو دقیا نوسی روایات نے جکڑا ہؤا ہے جو عورت کو استعمال کی چیز سے زیادہ نہیں سمجھتے وہ تلملا جاتے ہیں اور ہر صورت فیمنزم کو نیست و نابود کر دینا چاہتے ہیں ۔ لیکن اب عیش کے بجا ہے ہوش میں آنے کا وقت ہے۔ طاقت کو محبت کی دوہری خوراک لینی ہوگی ۔ آج کی باشعور عورت اپنی تحریر ، اپنے عمل اپنے فیصلوں کی چھان پھٹک کرنا جانتی ہے۔ مردوں کی فکری اور عملی شراکت نے عورتوں کو ان کے حقائق پر مبنی بیانیے کو وسعت دی ہے لیکن یہ شراکت دونوں کے لئے اس وقت بامعنی ہوگی جب باہمی احترام ہوگا، گفتگو میں، تحریر میں عمل میں لہجے میں کسی ایک کو کمتر سمجھنے یا نیچا دکھانے والا نہیں ہوگا۔ رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ کے دور میں آج کی باشعور عورت کی زمہ داریوں میں اور بھی اضافہ ہوا ہے۔ اسے اپنے حقوق کی پاسبانی بھی کرنی ہے اور اپنے فرائض بھی نبھانے ہی۔ ہماری ان مردانہ بیٹھکوں کو کو جو آج بھی شرمناک روایتوں کی اسیرہیں سمجھنا ہوگا کہ پورے وقار کے ساتھ جینا عورت کا صرف نعرہ اور مطالبہ نہیں بلکہ اس کا ازلی حق ہے۔ انہیں ماننا ہوگا کہ جب عورت اپنی ذات کے اعتماد کے ساتھ قدم بڑھاتی ہے تو تاریخ اپنی سمت درست کرتی ہے اور تہذیب جھک کے سلام کرتی ہے۔
عورت کواپنی روایات کی زنجیروں میں جکڑ کے رکھنے والے مرد وں کا جاننا ہوگا کہ عورتوں نے جس آزادی کے لئے آواز اٹھائی ہے وہ آواز شورنہیں روح کی وہ موج ہے وہ موسیقی ہے وہ گیت ہے جو مرد و عورت آگر مل کے آواز سے آواز ملائیں تو ہمارا معاشرہ، ہمارے رشتے اور ہمارا مستقبل ٹوٹ پھوٹ کا شکارہونے سے بچ جائینگے
جب ہم، ہم آواز ہوں توجالا لگی روایات ٹوٹتی ہیں ، جب دقیانوسی روایات ٹوٹیں تو تبدیلی آتی ہے۔ تبدیلی تاریخ کے دیمک زدہ اوراق بدل دیتی ہے۔

