ابو ظہبی میں چند گھنٹے

ابو ظہبی میں چند گھنٹے ہی گزارنے کا موقع ملے تو یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ دنیا کے کچھ شہر صرف جغرافیہ نہیں بلکہ انسان کے عزم، وژن اور مستقبل پر یقین کی کہانی بھی ہوتے ہیں، کینیڈا جاتے ہوئے یہاں ٹرانزٹ میں اتحاد ائیر کے بزنس لاونج میں بیٹھ کر اس شہر بارے انٹر نیٹ سے کچھ معلومات لیں تو کافی حیرانی ہوئی کہ چند دہائیاں پہلے جہاں ریت کے وسیع میدان، چھوٹی بستیاں اور محدود وسائل تھے، وہاں آج ایک ایسا جدید شہر کھڑا ہے جو دنیا کے اہم ترین معاشی، سفارتی اور انتظامی مراکز میں شمار ہوتاہے،دبئی کی شہرت تیز رفتار زندگی، بلند و بالا عمارتوں، شاپنگ اور تفریح کے حوالے سے ہے، جبکہ ابو ظہبی میں ایک مختلف مزاج محسوس ہوتا ہے، یہاں ترقی ضرور ہے مگر اس کے ساتھ ایک خاص ترتیب اور خاموشی بھی ہے، کشادہ سڑکیں، صاف ستھرا ماحول، منظم ٹریفک، خوبصورت عمارتیں، سرسبز پارکس اور سمندر کے کنارے پھیلا ہوا شہر اسے ایک منفرد شناخت دیتے ہیں،ابو ظہبی کی جدید شناخت میں اس کا ایئرپورٹ بھی ایک اہم علامت ہے، مسافر کیلئے ایئرپورٹ محض آمد و رفت کی جگہ ہوتا ہے، لیکن دراصل یہ کسی ملک کا پہلا تاثر بھی ہوتا ہے، جدید ٹرمینل، منظم نظام، سہولتیں اور دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والے مسافروں کی مسلسل آمد اس شہر کے عالمی کردار کی عکاسی کرتی ہے، ٹرانزٹ میں بیٹھا ہوا میرے جیسا مسافر بھی محسوس کر سکتا ہے کہ ابو ظہبی صرف خلیج کا ایک شہر نہیں رہا، یہ مشرق اور مغرب کے درمیان ایک اہم رابطہ بن چکا ہے، ایشیا، یورپ، افریقہ اور شمالی امریکا جانیوالے ہزاروں مسافروں کیلئےیہ خطہ فضائی سفر کا ایک اہم مرکز ہے۔

ابو ظہبی کی ایک اور دلچسپ خصوصیت اس کی شہری منصوبہ بندی ہے، شہر میں جدید عمارتوں کے ساتھ سبزہ، کھلے مقامات اور سمندر کو بھی اہمیت دی گئی ہے، یہ ایک ایسا شہر ہے جہاں بلند عمارتیں بھی ہیں اور کھجوروں کے درختوں سے سجی شاہراہیں بھی، جدیدیت اور قدرتی ماحول کے درمیان یہ توازن آسان کام نہیں، مگر ابو ظہبی نے اسے خاصی کامیابی سے قائم کیا ہے،شہر کی ثقافتی شناخت بھی تیزی سے نمایاں ہوئی ہے۔ یہاں ثقافت کو محض ماضی کی یاد کے طور پر نہیں بلکہ مستقبل کی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، فنون لطیفہ کیلئے مراکز اور عالمی ثقافتی سرگرمیوں نے ابو ظہبی کو ایک نئے ثقافتی نقشے پر لا کھڑا کیا ہے،اسکی شناخت میں شیخ زاید گرینڈ مسجد ایک خاص مقام رکھتی ہے، اس مسجد کا فن تعمیر، وسعت اور خوبصورتی اسے صرف ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ اسلامی فن تعمیر کی ایک شاندار مثال بناتی ہے، یہاں آ کر انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ جدید ترقی کے ساتھ اپنی تہذیبی شناخت کو زندہ رکھنا بھی ممکن ہے،ابو ظہبی کی ترقی کا ایک اہم پہلو اس کا انسانی تنوع بھی ہے، دنیا کے مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے لوگ یہاں کام کرتے ہیں، پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی، فلپائنی، عرب، یورپی اور دیگر قومیتوں کے لوگ اس شہر کی معیشت اور روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں، یہی عالمی انسانی سرمایہ ابو ظہبی کو ایک بین الاقوامی شہر بناتا ہے۔

پاکستانی شہریوں کیلئےمتحدہ عرب امارات بالخصوص ابو ظہبی کی اہمیت کچھ زیادہ ہے، لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں رہتے اور کام کرتے اور اپنی محنت سے نہ صرف اپنے خاندانوں کو سہارا دیتے ہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان معاشی تعلقات میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں،یہاں آ کر پاکستان کے بڑے شہروں کا خیال بھی آتا ہے، لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں، ہمارے پاس نوجوان آبادی ہے، قدرتی وسائل ہیں، زرعی زمین ہے، سمندر ہے، تاریخی ورثہ ہے اور دنیا کے بڑے خطوں کے درمیان ایک اہم جغرافیائی محل وقوع بھی ہے، سوال صرف یہ ہے کہ ہم ان وسائل کو کس طرح منظم کرتے ہیں۔

ابو ظہبی سے ہمیں سیکھنا چاہیے کہ ترقی صرف پیسے سے نہیں ہوتی، وسائل کے ساتھ وژن، مستقل پالیسی، اداروں کی مضبوطی، نظم و ضبط اور طویل المدتی منصوبہ بندی بھی ضروری ہے، ایک شہر کو خوبصورت بنانا نسبتاً آسان کام ہے، لیکن اسے معاشی طور پر مضبوط، انتظامی طور پر مؤثر اور عالمی سطح پر قابلِ احترام بنانا کئی دہائیوں کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ابو ظہبی کی ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ یہاں مستقبل کے بارے میں سوچنے کا انداز واضح نظر آتا ہے، دنیا جب تیل کے بعد کے دور، مصنوعی ذہانت، قابلِ تجدید توانائی، جدید ٹیکنالوجی اور علم پر مبنی معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے تو ابو ظہبی بھی اپنی معیشت کو نئے شعبوں سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کامیاب ریاستیں صرف موجودہ حالات کو نہیں دیکھتیں بلکہ آنے والے بیس، تیس اور پچاس برسوں کے بارے میں بھی سوچتی ہیں۔

ابو ظہبی میں ایک مسافر کے طور پر بیٹھ کر پاکستان کے بارے میں سوچا تو ایک سوال بار بار ذہن میں آتا ہے، اگر ایک صحرائی خطہ چند دہائیوں میں دنیا کے جدید ترین شہری مراکز میں شامل ہو سکتا ہے تو پاکستان اپنے وسیع انسانی اور قدرتی وسائل کے باوجود اپنی حقیقی صلاحیت تک کیوں نہیں پہنچ سکا؟اس سوال کا جواب شاید صرف سیاست میں تلاش کرنا درست نہیں ہوگا، اصل مسئلہ ہماری گورننس، ادارہ جاتی تسلسل، پالیسیوں کے عدم تسلسل، انتظامی کمزوری اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے فقدان میں بھی ہے۔

ابو ظہبی کی کامیابی ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ ریاست کے پاس وسائل ہوں تو انہیں عوامی سہولت، بنیادی ڈھانچے،تعلیم،صحت، ٹیکنالوجی اور معاشی مواقع میں تبدیل کرنا ریاست کی ذمہ داری ہےمحض بڑے منصوبے بنا دینا ترقی نہیں، ترقی اس وقت ہوتی ہے جب عام آدمی کی زندگی آسان ہو، کاروبار کیلئے ماحول بہتر ہو، قانون کی حکمرانی مضبوط ہو اور ریاستی ادارے اپنے کام میں پیشہ ورانہ صلاحیت دکھائیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ابو ظہبی کو دیکھتے ہوئے صرف اس کی بلند عمارتیں یا شاندار سڑکیں متاثر نہیں کرتیں، بلکہ اس کے پیچھے موجود سوچ زیادہ اہم محسوس ہوتی ہے، ایک نسل نے جو وسائل حاصل کیے، انہیں صرف اپنے لیے استعمال کرنے کے بجائے آنے والی نسلوں کیلئےایک مضبوط بنیاد بنانے کی کوشش کی،رات کے وقت ابو ظہبی کی روشن شاہراہیں، سمندر کے کنارے جگمگاتا شہر اور دور تک پھیلی ہوئی جدید عمارتیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ترقی دراصل ایک مسلسل سفر ہے، کوئی شہر ایک دن میں عالمی شہر نہیں بنتا، اس کے پیچھے برسوں کی منصوبہ بندی، اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، مضبوط ادارے اور سب سے بڑھ کر ایک واضح سمت ہوتی ہے، کیا ہم بھی اپنی نئی نسل کیلئے ایسا مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں؟میرا خیال ہے کہ جواب یقیناً ہاں میں ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ ہمیں خواب دیکھنے کے ساتھ انہیں عملی شکل دینے کیلئےمستقل مزاجی، ادارہ جاتی اصلاحات اور طویل المدتی قومی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے،ابو ظہبی کی اصل کہانی تیل، دولت یا بلند عمارتوں کی نہیں، یہ وژن کو ریاستی پالیسی میں تبدیل کرنے کی کہانی ہے ،قدرت وسائل دیتی ہے، لیکن قومیں ان وسائل سے اپنا مستقبل خود تعمیر کرتی ہیں۔