ٹورنٹو (اشرف خان لودھی سے)معروف سماجی رہنما غوث ڈار نے کہا ہے کہ کینیڈا میں پاکستانی کمیونٹی کی محنت اور تعاون کے نتیجے میں آج چوہدری شافع حسین، ہائی کمیشن پاکستان کے حکام اور دیگر معزز مہمان ان کے درمیان موجود ہیں، چوہدری شجاعت حسین کے خاندان سے ان کے خاندان کا تعلق کئی دہائیوں پر محیط ہے اور چوہدری شافع حسین کی کینیڈا آمد ان کیلئےانتہائی خوشی اور اعزاز کا باعث ہے۔
اپنی رہائش گاہ پرصوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے غوث ڈار نے پنجابی میں کہا کہ جو لوگ اپنا قیمتی وقت نکال کر یہاں آئے ہیں، آج یہاں چوہدری صاحب، ہائی کمیشن صاحب، باجوہ صاحب اور دوسرے مہمان موجود ہیں، یہ سب آپ لوگوں کی محنت اور آپ لوگوں کی محبت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو معلوم ہے کہ ٹورنٹو کے اندر ایک ’’ننھا گجرات‘‘ بھی موجود ہے۔

غوث ڈار نے کہا کہ آج یہاں ’’ننھا گجرات‘‘ چوہدری شجاعت حسین کا لگایا ہوا پودا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان کے ساتھ ان کے والد محترم کے تعلقات چوہدری ظہور الٰہی سے رہے، پھر چوہدری شجاعت حسین سے تعلق قائم رہا اور اب اسی روایت کے ساتھ چوہدری شافع حسین موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں یہ پہلا موقع ملا ہے کہ کینیڈا میں تقریباً 30 سال گزرنے کے باوجود چوہدری شافع حسین سے تفصیلی ملاقات ہوئی ہے۔ اس سے قبل ان کی صرف ایک مرتبہ ورجل میں ملاقات ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود کو خوش نصیب سمجھتے ہیں کہ گزشتہ روز چوہدری شجاعت حسین نے انہیں خود فون کرکے کہا کہ ’’بیٹا، تیرا بھائی آ رہا ہے۔‘‘
اس موقع پر شرکاء کی جانب سے ’’چوہدری شجاعت حسین زندہ باد‘‘ اور ’’چوہدری شافع حسین زندہ باد‘‘ کے نعرے بھی لگائے گئے۔

غوث ڈار نے کہا کہ آج کینیڈا میں ان کے گھر پر تقریباً 50 سے 60 افراد، ایک فیملی کی طرح، ان کے بہن بھائی اور دیگر لوگ جمع ہیں، اور یہ پودا چوہدری شجاعت حسین نے لگایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کیلئے اس سے زیادہ خوشی کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ آج ’’فخر پاکستان کا بیٹا‘‘ ان کے گھر آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیا کبھی توقع کی جاسکتی ہے کہ ہائی کمیشن کے حکام یا باجوہ صاحب جیسے بڑے عہدیدار کسی عام آدمی کے گھر آئیں، لیکن یہ سب پاکستانی کمیونٹی کے لوگوں کی محبت اور تعاون کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’آپ لوگ ہیں تو میری پاور ہے، آپ نہیں تو میں کچھ بھی نہیں۔‘‘
غوث ڈار نے کہا کہ جس دن سے وہ کینیڈا آئے ہیں انہوں نے مسلم لیگ (ق) کو قائم رکھا، چاہے اس دوران وہ اکیلے ہی کیوں نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آج چوہدری شافع حسین کو بھی ثابت کردیا ہے کہ ’’دیکھو، یہ گھر ہی ہمارا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر یہ تقریب کسی بینکوئٹ ہال میں ہوتی تو شاید اتنے لوگوں کو دیکھ کر سمندر کا منظر محسوس ہوتا، جبکہ اگر ہر فرد اپنی فیملی سے صرف اپنی اہلیہ کو بھی ساتھ لے آئے تو تعداد مزید کتنی بڑھ سکتی ہے، اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ غوث ڈار نے آخر میں کہا کہ وہ ساری زندگی چوہدری شجاعت حسین کا احسان نہیں اتار سکتے اور مرتے دم تک ان کے احسان مند رہیں گے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے کہا کہ پنجاب میں صنعتی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے حکومت نے صنعتی اسٹیٹس میں موجود پلاٹوں کی ذخیرہ اندوزی اور مافیا کیخلاف کارروائی کی ہے اور ایسے تمام پلاٹ منسوخ کیے گئے جو کئی سال تک فیکٹری لگائے بغیر رکھے گئے تھے۔
چوہدری شافع حسین نے کہا کہ ایک مافیا بنا ہوا تھا جو صنعتی اسٹیٹس کے پلاٹ پانچ، چار اور دس سال تک اپنے پاس رکھتا تھا اور جب صنعتی اسٹیٹ کے پلاٹ کا ریٹ بڑھ جاتا تھا تو اسے آگے فروخت کردیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام پلاٹوں کو پہلے سال کے اندر منسوخ کیا گیا اور ایک سخت پالیسی نافذ کی گئی ہے جس کے تحت صنعتی اسٹیٹ میں پلاٹ لینے والا شخص دو سال کے اندر فیکٹری قائم نہیں کریگا تو اس کا پلاٹ منسوخ ہوجائے گا، جبکہ چھ ماہ کے اندر عمارت کی تعمیر شروع نہ کرنے پر بھی پلاٹ منسوخ کردیا جائیگا۔
انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں سے کہا کہ پنجاب کے فری زونز اور صنعتی اسٹیٹس کے بارے میں انہیں معلومات ہونی چاہئیں کیونکہ یہاں سرمایہ کاری کی بہت صلاحیت موجود ہے اور وہ بیرون ملک جو کاروبار کررہے ہیں اسے مزید وسعت دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
چوہدری شافع حسین نے بتایا کہ پنجاب کے فری زونز شیخوپورہ اور قائداعظم، رحیم یار خان اور بھلوال میں موجود ہیں۔ پاکستان کی سب سے بڑی صنعتی اسٹیٹ فیصل آباد میں ایک ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر قائم ہے، جبکہ 400 ایکڑ سے زائد رقبے پر صنعتی اسٹیٹ رحیم یار خان میں بھی موجود ہے اور وہاڑی میں بھی صنعتی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئی صنعتی اسٹیٹ پالیسی بھی متعارف کرائی گئی ہے جس کے تحت سرمایہ کاروں کو کم قیمت پر 40 سے 50 سال تک لیز فراہم کی جارہی ہے۔ پنجاب کے فری زونز میں صنعت قائم کرنے والے سرمایہ کاروں کو مشینری درآمد کرنے پر صفر فیصد ڈیوٹی کی سہولت حاصل ہوگی اور انہیں بیرون ملک سے مشینری لانے پر ڈیوٹی ادا نہیں کرنا پڑے گی۔
انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو 10 سال تک انکم ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑیگا جبکہ صنعتی زونز میں لوڈشیڈنگ نہیں ہے، گیس اور بجلی کی سہولت موجود ہے۔ کئی صنعتی اسٹیٹس میں حکومت نے اپنے گرڈ اسٹیشن بھی قائم کیے ہیں جو باہر سے حاصل ہونے والی بجلی کے مقابلے میں کم نرخوں پر بجلی فراہم کررہے ہیں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ ڈھائی سے تین سال کے دوران بزنس فسیلیٹیشن سینٹرز قائم کیے ہیں۔ کوئی بھی مقامی یا غیرملکی سرمایہ کار بزنس فسیلیٹیشن سینٹر کے ذریعے 30 دن کے اندر تمام این او سیز حاصل کرسکتا ہے اور اسے مختلف دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ اس کے ساتھ سرمایہ کاروں کی شکایات کے ازالے کیلئے الگ کمپلینٹ سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے۔

چوہدری شافع حسین نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چینی کمپنی ویوو کی جانب سے موبائل فونز کی مینوفیکچرنگ شروع ہونے جارہی ہے، جس کی عمارت کا 40 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ لیتھیم بیٹریز کے پلانٹس لگ رہے ہیں اور حکومت نے ان کیلئے جگہ فراہم کردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹو وھیلر الیکٹرک بائیکس کے بہت سے پلانٹس بھی قائم ہورہے ہیں جبکہ مقامی صنعتی شعبے میں ٹائل انڈسٹری کی توسیع ہورہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 200 ایکڑ سے زائد رقبے پر فارماسیوٹیکل ویلی شروع کردی گئی ہے اور ایک فارماسیوٹیکل کمپنی وہاں اپنا دوسرا یونٹ بھی قائم کررہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ سیرامکس، مصنوعی چمڑے، کھیلوں کے سامان اور سرجیکل آلات کی صنعت بھی ترقی کررہی ہے۔ سیالکوٹ سے برآمد ہونے والے سرجیکل آلات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان سے برآمد ہونے والی سرجیکل مصنوعات کا بڑا حصہ امریکا اور کینیڈا کی منڈیوں میں جاتا ہے۔
چوہدری شافع حسین نے کہا کہ پنجاب حکومت پنک سالٹ اور ہمالیائی نمک کی ویلیو ایڈیشن پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ پاکستان سے طویل عرصے سے نمک خام شکل میں برآمد کیا جاتا رہا ہے، تاہم اب پہلی مرتبہ قائدآباد میں 200 ایکڑ سے زائد رقبے پر نمک کی ویلیو ایڈیشن کیلئے صنعتی اسٹیٹ قائم کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس علاقے کے قریب نمک کی متعدد کانیں 10 سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہیں۔
انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں سے کہا کہ پاکستان میں موجود اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کو آسان کاروبار اسکیم کے بارے میں آگاہ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ اکتوبر کے مہینے میں بینک آف پنجاب کے ذریعے آسان کاروبار اسکیم شروع ہورہی ہے، جس کے تحت 10 لاکھ روپے سے لے کر پانچ کروڑ روپے تک کاروبار کیلئے سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ بڑے کاروبار کیلئے ایک ارب روپے تک کی اسکیم بھی موجود ہوگی۔
چوہدری شافع حسین نے کہا کہ یہ قرضے بغیر سود کے فراہم کیے جائیں گے اور بینک آف پنجاب میں کوئی بھی شخص، سیاسی وابستگی سے قطع نظر، اس کیلئے درخواست دے سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑی حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں اور بڑے بڑے ایم او یوز پر دستخط ہوتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک ایم او یو کے بعد عملی پیش رفت زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چین کے ساتھ کیے گئے 16 ایم او یوز میں سے چار منصوبے عملی طور پر زمین پر شروع ہوچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں میں موبائل فونز کی مینوفیکچرنگ ایک بڑی مثال ہے۔ پاکستان میں اب تک جتنے بھی موبائل فون پلانٹس لگے ہیں وہ زیادہ تر اسمبلی پلانٹس تھے، تاہم اب مینوفیکچرنگ کی جانب پیش رفت ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ لیتھیم بیٹریز، الیکٹرک بائیکس اور پاکستان کی شو انڈسٹری سمیت دیگر شعبوں میں بھی چینی تعاون سے منصوبے آگے بڑھ رہے ہیں۔
تقریب سے کینیڈا میں پاکستان کے ہائی کمشنر محمد سلیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا میں پاکستانی کمیونٹی کی تعداد تقریباً تین لاکھ سے زائد ہے، جو وینکوور اور وکٹوریہ آئی لینڈ سے لے کر سینٹ جانز اور کینیڈا کے ہر شہر اور صوبے میں موجود ہے۔
ہائی کمشنر محمد سلیم نے کہا کہ کینیڈا میں پاکستانی ڈائسپورا محنتی، دیانتدار، مخلص، ذہین، تعلیم یافتہ اور منظم لوگوں کے طور پر اچھی شہرت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا کے وفاقی جیلوں میں موجود پاکستانی شہریوں کے اعدادوشمار بھی پاکستانی کمیونٹی کی قانون پسندی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت پورے کینیڈا کے وفاقی جیلوں میں صرف 17 پاکستانی ہیں، جبکہ پاکستانی کمیونٹی کی تعداد ساڑھے تین لاکھ کے قریب ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اعدادوشمار اسٹیٹسٹکس کینیڈا اور کریکشنز کینیڈا کے سرکاری اعدادوشمار ہیں۔
محمد سلیم نے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی نے قانون کی پاسداری، قانون کی حکمرانی کے احترام اور کینیڈین معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے ذریعے یہ اچھی شہرت حاصل کی ہے۔ انہوں نے پاکستانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا میں ان کی محنت، دیانتداری، لگن، ذہانت، قابلیت اور نظم و ضبط ان کی شناخت بن چکے ہیں۔
تقریب سےرانامحمدتنویر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی اور کینیڈا میں بزنس انہینسمنٹ کے حوالے سے گزشتہ دو سال سے کوششیں جاری تھیں۔ انہوں نے کہا کہ الحمدللہ جب ان کی چوہدری شافع حسین سے ملاقات ہوئی تو وہ بھی اتنے ہی وژنری ثابت ہوئے جتنا ان کے منصب کو ضرورت تھی۔
رانامحمدتنویرنے کہا کہ ان تمام کوششوں میں ڈاکٹر عمران ، حافظ شبیر اور ٹیم کے دیگر تمام ارکان نے شب و روز محنت کی، ایک ایک ڈاٹ کو کنیکٹ کیا اور آج چوہدری شافع حسین کمیونٹی کے درمیان موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس پورے سلسلے میں کونسل جنرل کی جانب سے بھی اور دیگر اداروں کی طرف سے بھی جس تعاون کی ضرورت تھی وہ حاصل ہوا، جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کی محفل گلزار اور ننھا بٹ نے سجائی ہے اور اس میں کمیونٹی کے رہنما اور تمام شرکاء اس بات کے گواہ ہیں کہ جن باتوں کا پہلے ذکر کیا جاتا تھا وہ اب حقیقت ثابت ہورہی ہیں۔
تقریب میں پاکستانی کمیونٹی کے رہنماؤں، کاروباری شخصیات، نوجوانوں اور دیگر معززین نے شرکت کی۔ مقررین نے اوورسیز پاکستانیوں کے درمیان روابط مضبوط بنانے، پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی شعبے میں نئی سرمایہ کاری اور پاکستان و کینیڈا کے درمیان کاروباری تعلقات مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

