بیونس آئرس (اسپورٹس ڈیسک/اے ایف پی) ارجنٹینا میں فٹبال میچ کے دوران شائقین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں 10 افراد زخمی جبکہ پولیس نے 90 افراد کو گرفتار کر لیا۔ صورتحال کشیدہ ہونے پر میچ منسوخ کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق کوپا سوڈا امریکانا میں کلب انڈیپینڈینٹے اور چلی کی ٹیم یونیورسیداد دے چلی کے درمیان لیبرتادورس دے امریکا اسٹیڈیم میں کھیلا جانے والا میچ دوسرے ہاف میں تماشائیوں کی جانب سے اشیا پھینکنے کے باعث پہلے معطل اور بعد ازاں منسوخ کر دیا گیا۔ جھڑپوں میں زخمی ہونے والوں میں ایک شخص چھری کے وار سے شدید زخمی ہوا جبکہ ایک اور کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق افراتفری کے دوران چلی کے ایک مداح نے مخالفین کے حملے سے بچنے کے لیے اسٹینڈ سے چھلانگ لگا دی جبکہ میزبان ٹیم کے حامیوں نے مخالف شائقین پر حملے کر کے ان کے کپڑے پھاڑ ڈالے۔ ہاف ٹائم پر چلی کے فینز کی جانب سے بوتلیں، کرسیاں، پتھر اور لاٹھیاں پھینکے جانے کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی۔
وزارتِ داخلہ کے ذرائع نے بتایا کہ بدامنی پھیلانے والے 90 افراد کو اسٹیڈیم کے باہر سے گرفتار کیا گیا۔ انڈیپینڈینٹے کے ترجمان کے مطابق میچ 1-1 کی برابری پر 48 ویں منٹ میں روکا گیا تھا۔
چلی کے صدر گیبریل بوریچ نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور منتظمین کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے وزیر داخلہ الوارو ایلیزالدے کو زخمیوں کی عیادت کے لیے بھی ہسپتال بھیجا۔
دونوں کلبوں نے جھڑپوں کی مذمت کرتے ہوئے ایک دوسرے پر الزام تراشی کی۔ انڈیپینڈینٹے کے صدر نیسٹر گرنڈیٹی نے چلی کے حامیوں کے رویے کو قابلِ مذمت قرار دیا، جبکہ چلی کے بین الاقوامی کھلاڑی فیلپے لوئیولا نے سوشل میڈیا پر پولیس کی غفلت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سطح کا تشدد ناقابلِ برداشت ہے۔
یاد رہے کہ رواں برس اپریل میں بھی سانتیاگو کے مونومینٹل اسٹیڈیم کے باہر شائقین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں 2 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

