نیویارک (ایجنسیاں/اقوامِ متحدہ) پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو آگاہ کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے جنم لینے والی دہشتگردی پاکستان کی قومی سلامتی اور خودمختاری کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے افغانستان کی صورتحال پر بحث کے دوران کہا کہ طالبان کے 2021 میں کابل پر قبضے کے بعد پیدا ہونے والے سیکیورٹی، انسانی اور معاشی چیلنجز پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے سنگین خدشات پیدا کر رہے ہیں۔
سفیر نے بتایا کہ پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا، اعلیٰ سطح کے دورے کیے، انسانی امداد کی فراہمی، تجارت اور ٹرانزٹ میں سہولت دی، تاہم ’’خطرات برقرار ہیں‘‘ اور سرحد پار دہشتگردی میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان ’’دہشتگرد گروہوں اور پراکسی عناصر کے لیے دوبارہ محفوظ پناہ گاہ‘‘ بن چکا ہے، جس کے تباہ کن اثرات پڑوسی ممالک خصوصاً پاکستان پر پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی، القاعدہ، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو افغانستان میں محفوظ پناہ میسر ہے، جبکہ پاکستان نے ان گروہوں کی جانب سے دراندازی کی متعدد کوششیں ناکام بنائی ہیں اور وہاں سے چھوڑا گیا امریکی ملٹری گریڈ اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔
سفیر کا کہنا تھا کہ صرف اس سال افغانستان سے آنے والی دہشتگردی کے باعث پاکستان نے تقریباً 1200 قیمتی جانیں گنوائی ہیں، جبکہ 2022 سے اب تک 214 سے زائد افغان دہشتگرد انسدادِ دہشتگردی کارروائیوں میں مارے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی صفوں میں موجود عناصر دہشتگرد گروہوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور پاکستان کے پاس اس تعاون کے قابلِ اعتماد شواہد موجود ہیں۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ خطے کا ایک ’’تخریب کار ملک‘‘ ان گروہوں کو مادی، تکنیکی اور مالی مدد دے رہا ہے تاکہ افغانستان سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جا سکیں۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے مشن (یوناما) پر زور دیا کہ وہ غیرقانونی اسلحے کی تجارت روکنے اور سرحدی سیکیورٹی کا غیرجانبدارانہ جائزہ پیش کرے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان افغان طالبان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور حالیہ دوحہ و استنبول مذاکرات اس کا حصہ ہیں۔ انہوں نے طالبان پر زور دیا کہ وہ دہشتگرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کریں، ورنہ پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ’’تمام ضروری دفاعی اقدامات‘‘ کرنے پر مجبور ہوگا۔
انہوں نے ویزا پالیسی کا بھی حوالہ دیا اور بتایا کہ ستمبر 2023 سے اب تک افغان شہریوں کے لیے 5 لاکھ 36 ہزار سے زائد میڈیکل ویزے جاری کیے گئے ہیں۔
سفیر نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان چاہتا ہے، جو اپنے عوام اور ہمسایوں کے ساتھ امن سے رہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے انسانی امداد فراہم کرنے اور ایسے سیکیورٹی ماحول کے قیام میں مدد دینے کی اپیل کی جو افغانستان میں پائیدار ترقی اور استحکام کا سبب بن سکے۔

