امریکا صرف ”آبنائے ہرمز “پر کنٹرول چاہتا ہے!

دنیا کی سیاست میں کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جو محض جغرافیائی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ عالمی طاقتوں کی ترجیحات، جنگوں اور معیشتوں کا مرکز بن جاتے ہیں۔آبنائے ہرمز بھی ایسا ہی ایک مقام ہے۔ یہ وہ تنگ سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اسی لیے جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی ہے تو سب سے پہلے اسی آبنائے کا نام زبان پر آتا ہے۔ آگے چلنے سے پہلے آبنائے ہرمز کے بارے میں مختصراََ بتاتا چلوں کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) ایک نہایت اہم اور تنگ سمندری راستہ ہے جو خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملاتا ہے اور عالمی تجارت، خصوصاً تیل کی ترسیل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی رسد اسی راستے سے گزرتی ہے، جس کی وجہ سے اسے عالمی معیشت کی شہ رگ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی اسٹریٹجک اہمیت کے باعث یہاں اکثر کشیدگی رہتی ہے، خاص طور پرایران اورامریکا کے درمیان، کیونکہ اگر یہ راستہ کسی بھی وجہ سے بند ہو جائے تو تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ اور عالمی معیشت میں بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اس علاقے پر گہری نظر رکھتی ہیں تاکہ سمندری راستہ کھلا رہے اور عالمی تجارت بغیر رکاوٹ جاری رہ سکے۔مزید یہ بھی بتاتا چلوں کہ آبنائے ہرمز کی چوڑائی ہر جگہ ایک جیسی نہیں ہے، بلکہ مختلف مقامات پر مختلف ہے۔اس کی زیادہ سے زیادہ چوڑائی تقریباً 95 کلومیٹر (60 میل) ہےجبکہ سب سے تنگ مقام پر یہ صرف تقریباً 33 کلومیٹر (21 میل) رہ جاتی ہے ، دلچسپ بات یہ ہے کہ جہازوں کی آمد و رفت کے لیے جو مخصوص راستے بنائے گئے ہیں، وہ اس سے بھی زیادہ تنگ ہوتے ہیں،عام طور پر ہر طرف تقریباً 3 کلومیٹر کا راستہ ہوتا ہے۔اسی کم چوڑائی کی وجہ سے یہ دنیا کے حساس ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ یہاں کسی بھی رکاوٹ کا اثر فوراً عالمی تجارت پر پڑ سکتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکا واقعی اس اہم گزرگاہ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے یا معاملہ کچھ اور ہے؟اگر ہم عالمی سیاست کو محض بیانات کی روشنی میں دیکھیں تو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ امریکا ہر اس جگہ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے جہاں اس کے مفادات وابستہ ہوںاور اس کی حکمتِ عملی براہِ راست قبضے سے زیادہ اثر و رسوخ اور کنٹرول پر مبنی ہوتی ہے۔ آبنائے ہرمز کے معاملے میں بھی یہی پالیسی نظر آتی ہے۔ویسے تو امریکا کی خلیج میں مسلسل فوجی موجودگی کوئی نئی بات نہیں۔امریکی نیوی کے جنگی جہاز، ایئرکرافٹ کیریئرز اور جدید ہتھیار اس خطے میں موجود رہتے ہیں۔ بظاہر اس کا مقصد عالمی تجارت کا تحفظ اور سمندری راستوں کو کھلا رکھنا بتایا جاتا ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک بڑی حکمتِ عملی کارفرما ہے، یعنی امریکا یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ کوئی ایک علاقائی طاقت، خاص طور پرایران، اس اہم راستے پر مکمل کنٹرول حاصل کر لے۔ ایران کا موقف بھی کم دلچسپ نہیں۔ ایران کئی بار یہ کہہ چکا ہے کہ اگر اس پر اقتصادی پابندیاں بڑھائی گئیں یا اس کی خودمختاری کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے۔ یہ محض ایک دھمکی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک کارڈ ہے، جسے ایران وقتاً فوقتاً استعمال کرتا ہے۔

اسی تناظر میں آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ امریکا بھی اس جنگ کو جان بوجھ کر کھینچ رہا ہے، تاکہ دنیا جان سکے کہ ایران مستقبل کے لیے خطرہ بن سکتا ہے ، اس لیے اُسے کچلنا ضروری ہے اوراس حوالے سے چند ایک مثبت خبریں امریکا خود بھی پھیلا رہا ہے،،،تاکہ اس کی آڑ میں وہ اپنی زمینی فورس کو ایران میں داخل کرے، ،، پہلے فیز میں وہ آبنائے ہرمز کے قریب تمام جزیروں خاص طور پر خارگز جزیرہ پر وہ قبضہ کرے گا، اور اس حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ اعلان بھی کر چکے ہیں ،،، وہ کہتے ہیں کہ امریکا ایران کا تیل حاصل کرنا چاہتا ہے اور ایران کے مرکزی برآمدی مرکز خارگ جزیرے پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے۔وہ کہہ رہے ہیں کہ سچ پوچھیں تو میری ترجیح یہ ہو گی کہ ایران کا تیل لے لیا جائے، لیکن امریکا میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ وہ بیوقوف ہیں۔انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ اس اقدام میں خارگ جزیرے پر قبضہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔اور ویسے بھی یہ بالکل ایسے ہی ہوگا جیسے امریکا نے عراق جنگ میں عراق کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر رکھا ہے،اگر امریکا عراق پر زمینی فوج نہ بھیجتا تو صدام حسین کی حکومت مقابلہ کر رہی تھی۔لیکن جیسے ہی اُس نے زمینی فوج بھیجی تو عراقی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا گیا،،، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایران عراق سے مختلف ثابت ہوگا؟ یعنی بالکل اسی طرح امریکا ایران میں مرضی کی حکومت قائم کرکے ، آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھے گا؟ ،،،یا ایرانی حکومت زمینی افواج کو بھی ٹف ٹائم دے گی؟

خیر یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر یہاں میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ ”گریٹر اسرائیل“ جیسا اس وقت کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے،،، یہ محض اسلامی دنیا کو Engageکیا جا رہا ہے، بلکہ اس کی آڑ میں امریکا کا سب سے بڑا منصوبہ یہی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول قائم کرے،، لہٰذااب سوال یہ ہے کہ امریکا کو کیسے روکا جائے؟،،، اس کے جواب میں اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ امریکا خود سے رُک جائے گا، یا وہ ڈر گیا ہے تو یہ محض خام خیالی ہے ، کیوں کہ اگر اُسے مار بھی پڑی ہے تو لامحالہ وہ ہے تو سپر پاور ہی ۔ اور اگر اُس نے اپنی شکست تسلیم کر لی تو اس کی ”بادشاہت“ ہی ختم ہو جائے گی،،،، ہاں! البتہ وہ صرف ایک صورت میں رک سکتا ہے کہ امریکا میں اُس کے اندر سے ہی اس جنگ کی سخت مخالفت ہو جائے ،،، جیسے گزشتہ روز ”نوکنگ “ منایا گیا اور اس میں ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف لاکھوں لوگوں نے احتجاج کیا۔ اور آگے رواں سال نومبر میں مڈٹرم الیکشن بھی ہو رہے ہیں،،، جس کے دباﺅ میں آکر امریکی صدر جنگ کو ختم کر سکتے ہیں،،، ورنہ ایسی کوئی صورت نظر نہیں آرہی کہ امریکا ایران جنگ سے پیچھے ہٹ جائے۔

ؒبہرحال یہ بات تو طے ہے کہ امریکا کی دلچسپی ہی اسی چیز میں ہے، کہ وہ تیل پر قبضہ جماکر ہی واپس آئے اور ایسا کرنے کے حوالے سے وہ ماضی میں کامیاب بھی رہا ہے،،، جیسے عراق واراس کا ثبوت ہے،،، کہ وہاں اب بھی تیل کے کنویں اس کی دسترس میں ہیں،،، اور افغان جنگ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب امریکا کو اپنے مفادات خطرے میں نظر آتے ہیں تو وہ براہِ راست مداخلت سے بھی گریز نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں امریکا کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں کسی بڑے منصوبے کا پیش خیمہ ہو سکتی ہیں۔لیکن اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو براہِ راست قبضہ ایک نہایت مشکل اور خطرناک اقدام ہوگا۔ آبنائے ہرمز جغرافیائی طور پر ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے، اور بین الاقوامی قوانین کسی بھی ملک کو اس پر یکطرفہ قبضے کی اجازت نہیں دیتے۔ اگر امریکا ایسا کوئی قدم اٹھاتا ہے تو یہ نہ صرف خطے میں بلکہ پوری دنیا میں ایک بڑی جنگ کو جنم دے سکتا ہے۔ اس لیے امریکا زیادہ تر ”کنٹرول“ کی پالیسی اپناتا ہے، جس میں وہ اپنی بحری طاقت کے ذریعے یہ یقینی بناتا ہے کہ راستہ کھلا رہے اور اس کے مفادات محفوظ رہیں۔اسی لیے وہ ایران میں زمینی فوج بھیجنے کی بھی تیاری کر رہا ہے اور ساتھ فضائی حملوں کی بھی نئے سرے سے تیاریاں کر رہا ہے،،، کیوں کہ امریکی محکمہ دفاع ایران میں ممکنہ زمینی جنگ کے لیے تیاری کر رہا ہے، جس کے تحت تقریباً 10 ہزار فوجی ایران بھیجے جا سکتے ہیں، گزشتہ ہفتے تقریباً ساڑھے 3 ہزار اہلکار، جن میں 22 سو میرینز شامل ہیں، ایران کے قریب پہنچ چکے ہیں جبکہ مزید دستے بھی روانہ کیے گئے ہیں۔

بہرکیف اس جنگ میں جو چند باتیں ثابت ہوئی ہیں، اُن میں سے ایک تو یہ ہے کہ بظاہر ایران سخت حریف ثابت ہوا ہے جبکہ دوسرا یہ کہ ہم آج بھی ٹیکنالوجی میں مغربی ممالک سے بہت پیچھے ہیں،،، اس لیے میرے خیال میں مسلمانوں نے اگر صحیح معنوں میں یہود و نصاریٰ کا مقابلہ کرنا ہے تو ہمیں اُن جیسی ٹیکنالوجی میں اپنی قابلیت دکھانا ہوگی،،، وہ اس وقت ریسرچ میں جتنا آگے کا سوچتے ہیں،،، ہمیں ویسا بننا ہوگا،،، ورنہ اگر آج ایران جنگ ختم بھی ہو جاتی ہے تو کل کو وہ ایک بار پھر تیاری کے ساتھ میدان میں اُتریں گے اور ہم مذاکرات کا کٹورہ لیے پھر رہے ہوں گے،۔۔ ورنہ انہوں نے ابھی تک حماس، لبنان اور ایران کی صف اول کی قیادت کو شہید کر دیا ہے،،، یہ ہمارے لیے باعث حیرت نہیں بلکہ باعث شرم ہوناچا ہیے، اُن کی آبادی محض ایک کروڑ ہے،،، لیکن دنیا کے امیر ترین ممالک کی اسرائیل کے ساتھ رابطے رکھنے اور کاروبار بڑھانے کی مجبوری ہوتی ہے،،، آخر ایسا کیوں؟ جبکہ اس کے برعکس مسلمان ملکوں کی ترجیحات اور ہیں،،، انہیں اپنی عیاشیوں سے ذرا ہٹ کر یہ سوچنا چاہیے کہ یہاں بھی سائنسدان پیدا ہوں، یہاں بھی بڑے بڑے کاروباری پیدا ہوں، تاکہ وہ بھی بڑی بڑی فوڈ چین بنا سکیں،،، بڑی بڑی مشروبات کی کمپنیاں بنا سکیں،،، بڑی بڑی مشینیں ایجاد کر سکیں،،، اور ایسی ایسی گاڑیاں بنا سکیںکہ جنہیں دنیا خریدنے پر مجبور ہو جائے۔ لیکن فی الوقت تو ہمارے مسلمان ملکوں سے ایسی خبریں آتی ہیں کہ فلاں ملک نے فلاں ملک کی مس ورلڈ کو یہ تحفہ دیا، فلاں مسلم ملک کے حکمران نے سونے کا محل خریدلیا ، فلاں ملک نے اپنی سکیورٹی کے لیے امریکا کو اربوں ڈالر دیے۔ کیا یہ چیزیں شرمناک نہیں ہیں،،، اگر ہیں تو پھر امریکا کو ہم پر قبضے کا پورا حق ہے!