واشنگٹن (امریکی محکمۂ خزانہ، رائٹرز) ٹرمپ انتظامیہ نے ایران سے متعلق پابندیوں کے ایک نئے مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے 8 آئل ٹینکرز اور 10 اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی محکمۂ خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری نوٹس کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والے اداروں میں شپنگ، میری ٹائم انشورنس اور ایران کی تیل کی برآمدات سے منسلک کمپنیاں شامل ہیں، جبکہ متعدد ادارے چین میں قائم ہیں۔
یہ پابندیاں ان حالیہ اقدامات کا تسلسل ہیں جو واشنگٹن کی جانب سے ایران کی تیل کی تجارت اور اس کے مبینہ ’’شیڈو فلیٹ‘‘ کو نشانہ بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
امریکی محکمۂ خزانہ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد تہران کی اس آمدنی کو محدود کرنا ہے جو، امریکی مؤقف کے مطابق، ایرانی ہتھیاروں کے پروگراموں، پاسدارانِ انقلاب اور خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
امریکی اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے باوجود خطے میں دوبارہ کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور امریکا و ایران ایک دوسرے پر حملوں اور اشتعال انگیز اقدامات کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

