تہران (مہر نیوز، رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس) ایرانی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ عراق میں امریکا اور سعودی عرب کے حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے 4 فوجی مشیر شہید ہو گئے ہیں، تاہم ایرانی حکومت نے تاحال اس دعوے کی سرکاری تصدیق نہیں کی۔
ایرانی حکومت کی جانب سے عراق میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں کی شہادت کے حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ نے عراق میں امریکا اور سعودی عرب کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ایرانی وزارتِ خارجہ نے عراق کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے حملوں کی ذمہ داری امریکا اور اس کے اتحادیوں پر عائد کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور سعودی عرب نے بدھ کے روز عراق کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں ایران سے منسلک گروہوں کی جانب سے امریکی افواج اور سعودی توانائی تنصیبات پر حملوں کی کوششوں کے جواب میں کی گئیں۔
عراق کے نیم فوجی اتحاد حشد الشعبی (پاپولر موبلائزیشن فورسز) نے تصدیق کی ہے کہ ملک بھر میں اس کے متعدد ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف)، جسے حشد الشعبی بھی کہا جاتا ہے، مختلف مسلح گروہوں پر مشتمل ایک اتحاد ہے، جن میں سے متعدد گروہ ایران سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں۔
حشد الشعبی کے ایک عہدیدار کے مطابق سب سے بڑا حملہ شمالی صوبہ نینوا میں کیا گیا جبکہ جنوبی صوبہ بصرہ میں بھی پی ایم ایف کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔حشد الشعبی کے ذرائع کے مطابق عراق کے 7 صوبوں میں امریکی اور سعودی مشترکہ فضائی حملوں میں 20 اہلکار مارے گئے جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوئے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی تھی، جبکہ عراق سے داغے گئے متعدد ڈرون ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیے گئے تھے۔ادھر ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ سعودی عرب پر دیگر ممالک سے کیے گئے حملوں سے ایران کا کوئی تعلق نہیں۔

