انسانی اعضاء کی غیر قانونی پیوندکاری کا مقدمہ، دو ملزمان کی ضمانت بحالی درخواستیں خارج

اسلام آباد(اسلام آباد ہائی کورٹ، نمائندہ خصوصی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے انسانی اعضاء کی غیر قانونی پیوندکاری کے مقدمے میں دو ملزمان ڈاکٹر نادر حسین اور عدیل حیدر کی ضمانت منسوخی کا سیشن کورٹ کا حکم برقرار رکھتے ہوئے ضمانت بحالی کی درخواستیں خارج کردیں۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نے 9 جون کو ضمانت منظور کی تھی، جسے ایڈیشنل سیشن جج نے ایف آئی اے کی اپیل پر 20 جولائی کو منسوخ کردیا تھا، تاہم ہائی کورٹ نے بھی اسے برقرار رکھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے نجی اسپتال سے منسلک سید عدیل حیدر اور ڈاکٹر نادر حسین کی ضمانت بحالی کی درخواستیں خارج کردیں۔

عدالت نے لکھا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کا 9 جون کا ضمانت منظور کرنے کا حکم بادی النظر میں غیر قانونی، غلط اور عدالتی اختیارِ سماعت کے نقص سے متاثر تھا، جس میں قانون و حقائق کی غلط تشریح کی گئی۔ ایڈیشنل سیشن جج نے معقول اور قانونی وجوہات قلم بند کرتے ہوئے درست طور پر ضمانت منسوخ کی۔

ایڈیشنل سیشن جج کا حکم سپریم کورٹ کے ضمانت منسوخی سے متعلق وضع کیے گئے اصولوں کے عین مطابق ہے۔ درخواست گزاروں کی جانب سے جن عدالتی نظائر پر انحصار کیا گیا ہے، وہ موجودہ مقدمے کے حقائق سے مختلف ہیں۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ڈاکٹر نادر حسین کے اکاؤنٹ میں 20 لاکھ روپے کی منتقلی اور دفعہ 164 کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ وہ نجی اسپتال میں گردہ پیوندکاری پروگرام کے کوآرڈینیٹر کے طور پر کام کر رہے تھے۔

سید عدیل حیدر پر غیر قانونی انسانی اعضاء کی پیوندکاری میں بطور سہولت کار اور ایجنٹ کام کرنے کا الزام ہے۔ ملزم ڈاکٹر نادر حسین اسپتال میں بطور یورالوجسٹ اور وزٹنگ سرجن خدمات انجام دے رہے تھے، جن پر غیر قانونی طور پر گردہ پیوندکاری کے آپریشنز کرنے کا الزام ہے۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ ایف آئی اے کو ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ ایکٹ کے تحت تحقیقات کا مکمل قانونی اختیار حاصل ہے۔ ٹرائل کورٹ قانون کے مطابق ملزمان کے خلاف کیس کی سماعت جاری رکھے اور قانون میں دیے گئے وقت میں میرٹ پر کیس کا فیصلہ کرے۔