سانحۂ براڈ پیک: 5 کوہ پیماؤں کی میتیں اسلام آباد سے ان کے ممالک روانہ

اسلام آباد(بی بی سی، خبر ایجنسیاں) پاکستان میں واقع دنیا کی 12ویں بلند ترین چوٹی ’براڈ پیک‘ پر برفانی تودے کی زد میں آنے والے پانچ کوہ پیماؤں کی میتیں اسلام آباد سے ان کے ممالک روانہ کردی گئی ہیں۔

براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے بعد لاپتہ ہونے والے کوہ پیماؤں کی تلاش اور میتوں کی بازیابی کیلئے انتہائی مشکل اور خطرناک موسمی حالات میں ریسکیو آپریشن کیا گیا۔ بازیاب کی گئی میتیں پہلے اسلام آباد پہنچائی گئیں، جہاں ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد انہیں ان کے ممالک روانہ کردیا گیا۔

ریسکیو مشن میں پاکستان آرمی، معروف کوہ پیماؤں سرباز خان اور شہزاد، الپائن کلب آف پاکستان، مقامی پورٹرز اور گلگت بلتستان حکومت نے اہم کردار ادا کیا۔ شدید موسمی حالات اور دشوار گزار پہاڑی علاقے کے باوجود امدادی ٹیموں نے لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش اور میتوں کی بازیابی کیلئےکوششیں جاری رکھیں۔

براڈ پیک دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں شامل ہے اور سطح سمندر سے 8 ہزار 51 میٹر بلند ہے۔ یہ گلگت بلتستان میں واقع ہے اور دنیا بھر سے کوہ پیماؤں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے، تاہم یہاں اچانک خراب ہونے والا موسم، شدید برف باری اور برفانی تودے کوہ پیماؤں کیلئے بڑے خطرات کا باعث بنتے ہیں۔

سانحے کے بعد میتوں کی بازیابی اور انہیں اسلام آباد منتقل کرنے کیلئے کی جانے والی کارروائی کو انتہائی مشکل ریسکیو مشن قرار دیا گیا ہے۔ اس کارروائی میں فوجی اہلکاروں، ماہر کوہ پیماؤں، مقامی پورٹرز اور متعلقہ حکام نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔پانچ کوہ پیماؤں کی میتیں ان کے ممالک روانہ کیے جانے کے بعد سانحے میں جاں بحق افراد کے خاندانوں اور عالمی کوہ پیمائی برادری میں غم کی فضا ہے۔