ایران سے ممکنہ حملوں کا خدشہ، امریکا نے سعودی عرب سے غیر ہنگامی سفارتی عملہ واپس بلا لیا

واشنگٹن (اے ایف پی، رائٹرز)امریکا نے سعودی عرب میں تعینات غیر ہنگامی سفارتی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے، جبکہ اردن، قطر، متحدہ عرب امارات اور لبنان میں بھی امریکی سفارتی مشنز کے عملے کی تعداد کم کی جا رہی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق یہ اقدامات مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات اور امریکی اہلکاروں کو ممکنہ حملوں سے لاحق خطرات کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس کی ایک یادداشت میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران نے خطے اور دیگر ممالک میں امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششیں تیز کردی ہیں اور بعض مبینہ منصوبے خطرناک مرحلے تک پہنچ چکے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سعودی عرب میں غیر ضروری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو روانگی کا حکم دیا گیا ہے، تاہم اردن، قطر، متحدہ عرب امارات اور لبنان میں سفارت خانے بند نہیں کیے جا رہے بلکہ وہاں عملے کی تعداد عارضی طور پر محدود کی جا رہی ہے۔

امریکی حکام نے سفارتی عملے کی نقل و حرکت کے لیے ایران کے علاوہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے ممکنہ حملوں کو بھی سکیورٹی خدشات کی وجہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ممکنہ خطرات کے پیش نظر امریکی شہریوں کے لیے عراق سمیت مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک کے سفری انتباہ بھی سخت کیے گئے ہیں۔