تہران (ایرانی میڈیا، الجزیرہ) ایرانی ارکانِ پارلیمنٹ نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے دستبرداری کیلئے تین ہنگامی نوعیت کے بل کا مسودہ پارلیمنٹ کے نگران بورڈ میں جمع کرا دیا ہے۔ بل پر پارلیمانی بحث شروع کرنے کیلئےاسپیکر محمد باقر قالیباف کی منظوری درکار ہے۔
ایرانی رکن پارلیمنٹ حسین علی حاجی دلیگانی نے پارلیمانی اجلاس میں کہا کہ موجودہ حالات اور ایران پر ہونے والے حملوں کے تناظر میں این پی ٹی میں رہنے سے ایران کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہورہا ہے۔
انہوں نے حالیہ اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے ایران کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے جانے کے بعد تہران کیلئےمعاہدے میں مزید رہنے کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔
بل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایران کو اپنے معاملات کے بارے میں آزادانہ فیصلے کرنے کیلئے این پی ٹی سے دستبرداری پر غور کرنا چاہیے۔ تاہم ایرانی پارلیمانی حکام کے مطابق یہ تجویز ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہے اور اس پر مختلف اداروں کے درمیان اتفاق رائے درکار ہوگا۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی بھی کہہ چکے ہیں کہ این پی ٹی سے دستبرداری کا معاملہ زیر غور ہے، تاہم ایران کی جوہری پالیسی میں جوہری ہتھیار بنانے کی تبدیلی نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق حتمی فیصلہ امریکا کے طرزِ عمل پر منحصر ہوگا۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے بھی کہا ہے کہ این پی ٹی سے دستبرداری کا آپشن زیر غور ہے، تاہم اس معاملے میں حتمی فیصلہ مختلف ریاستی اداروں کے درمیان مشاورت اور اتفاق رائے کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ این پی ٹی سے دستبرداری کا معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے ستمبر میں ایران کے جوہری معاملے کو سلامتی کونسل کو بھیجنے کے حق میں قرارداد منظور کی تھی۔ روس اور چین نے اس اقدام کی مخالفت کی تھی۔

