ایران نے آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے کیلئے امریکا کو 6 شرائط پیش کردیں

تہران(ایرانی میڈیا) ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کیلئے امریکا کے سامنے 6 شرائط پیش کردی ہیں۔ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے حوالے سے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔

محمد باقر ذوالقدر نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے ایران کی 6 شرائط بیان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو سب سے پہلے ایران کو کسی بھی وقت اور کسی بھی زبان میں دھمکانے سے باز آنا ہوگا اور ایرانی قوم کی توہین نہیں کی جائیگی۔

انہوں نے دوسری شرط بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور اس کے اتحادیوں لبنان، فلسطین، یمن اور عراق پر مسلط جنگ اور جارحیت کو مستقل طور پر ختم کیا جائے۔

ایرانی عہدیدار کے مطابق تیسری شرط ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنا اور امریکی افواج کو ایران کے اطراف سے واپس ہٹانا ہے۔

چوتھی شرط کے بارے میں محمد باقر ذوالقدر نے کہا کہ جنگ کے دوران ایران کو پہنچنے والے تمام نقصانات کا مکمل اور بغیر کسی کمی کے ہرجانہ ادا کیا جائے۔

انہوں نے پانچویں شرط کے طور پر ایرانی عوام پر عائد کی گئی غیرمنصفانہ اور غیرقانونی پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

چھٹی اور آخری شرط کے تحت ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی عوام کے چرائے گئے اور منجمد کیے گئے اثاثے غیرمشروط طور پر جاری کیے جائیں۔

محمد باقر ذوالقدر نے واضح کیا کہ ایران جنگ ہو یا مذاکرات، سپریم قومی سلامتی کونسل اپنے مؤقف اور ارادوں سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گی۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا معاملہ امریکا کے رویے اور ایران کی پیش کردہ شرائط پر عملدرآمد سے منسلک ہے۔