صنعا(عرب میڈیا) یمن میں حوثی گروپ نے حضرموت اور مارب میں حکومتی فوج کے متعدد فوجی کیمپوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جن کے نتیجے میں 30 یمنی فوجی اہلکار شہید اور 15 زخمی ہوگئے۔
یمنی حکومت کے مطابق حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کارروائیوں میں یمنی فوج کے سیکڑوں اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔
عرب میڈیا کے مطابق حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا ہے کہ فوجی کیمپوں پر میزائل اور ڈرون حملے یمنی حکومتی فوج کی حالیہ عسکری نقل و حرکت کے جواب میں کیے گئے۔یمنی فوج نے بھی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے کی جانے والی کارروائیاں یمنی فوج کے حوثی ٹھکانوں پر حملوں کے ردِعمل میں کی گئی ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق حوثیوں نے صوبہ الجوف سے 8 میزائل داغے، جنہوں نے حضرموت کے الثنیہ اور العبر جبکہ مارب کے علاقے الروک میں فوجی کیمپوں کو نشانہ بنایا۔رپورٹس کے مطابق حملے کے وقت یمنی فوج کے اہلکار تربیتی مشق کیلئے جمع تھے، جس کے باعث جانی نقصان زیادہ ہوا۔
یمنی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ حملے 2022ء کے بعد ملک میں ہونے والی سب سے خونریز عسکری کارروائیوں میں شمار کیے جارہے ہیں۔ حالیہ ہفتوں کے دوران یمنی حکومت اور حوثی گروپ کے درمیان جھڑپوں میں اضافے کے بعد ملک میں کشیدگی ایک بار پھر سنگین ہوگئی ہے۔
دوسری جانب امریکی سفارت خانے نے یمنی فوجی کیمپوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ’’بزدلانہ دہشت گردی‘‘ قرار دیا اور جاں بحق ہونے والے یمنی فوجیوں کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔
ادھر سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی سرحدی شہر نجران پر حوثیوں کے حملے میں 11 شہری زخمی ہوئے ہیں، جن میں ایک خاتون اور ایک بچہ بھی شامل ہیں۔ تاہم حوثیوں نے نجران پر مبینہ حملے کی فوری طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی۔
یمن میں تازہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب حوثیوں نے 20 جولائی کو سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے مغربی یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے دوبارہ شروع کردیئے ہیں۔ یہ کارروائیاں 2022ء کے بعد حوثیوں کیخلاف سعودی اتحاد کی جانب سے ہونیوالی بڑی فوجی کارروائیوں میں شمار کی جارہی ہیں۔
تازہ جھڑپوں اور حملوں کے بعد یمن میں طویل عرصے سے جاری جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والی نسبتاً پرسکون صورتحال ایک بار پھر شدید خطرے سے دوچار ہوگئی ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات بھی ظاہر کیے جارہے ہیں۔

