کراچی:میر رضا کیس میں تفتیش کیلئے بنائی گئی تحقیقاتی ٹیم کو ہٹادیا گیا

کراچی(نمائندہ خصوصی) کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے نوجوان تاجر میر رضا کی لاش ملنے کے معاملے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، والدین کے عدم اعتماد کے بعد کیس کی تفتیش کیلئے بنائی گئی تحقیقاتی ٹیم کو تبدیل کردیا گیا۔انسپکٹر جنرل سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے میر رضا کیس کی تحقیقات کیلئے نئی 4 رکنی ٹیم تشکیل دینے کی تصدیق کی ہے۔

آئی جی سندھ کے مطابق ڈی آئی جی کرائم برانچ عامر فاروقی نئی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ہوں گے، جبکہ ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر، ایس پی انویسٹی گیشن کورنگی قیس خان اور ایس پی انویسٹی گیشن سینٹرل انعم ٹیم کا حصہ ہوں گی۔

جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ پرانی تحقیقاتی ٹیم کو ابتدائی میڈیکل رپورٹ سامنے آنے کے بعد تفتیش سے ہٹایا گیا ہے، میر رضا کیس کی شفاف تحقیقات کی جائیں گی جبکہ نئی ٹیم کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جائے گا۔

اس سے قبل پولیس حکام نے بتایا تھا کہ ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ، ایس ایس پی ایس آئی یو سمیع اللہ سومرو اور دیگر افسران کو میر رضا کیس کی تفتیش سے ہٹا دیا گیا ہے اور نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے گی۔میر رضا کے والدین نے پہلے سے تشکیل دی گئی تحقیقاتی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ کیس کی تحقیقات نئی ٹیم سے کرائی جائیں۔

دوسری جانب میر رضا کی قبر کشائی کے بعد حاصل کیے گئے نمونوں کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق میر رضا کو گولی پیچھے کی جانب سے لگی، جبکہ جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے۔

ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق میر رضا کی دائیں ران اور جبڑے پر فریکچر کے شواہد ملے ہیں، جبکہ جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر بھی خون کے دھبے پائے گئے۔

میر رضا کے دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ان کے والد کے وکیل جبران ناصر نے کہا تھا کہ رپورٹ سے ثابت ہوگیا ہے کہ میر رضا کو سینے سے نہیں بلکہ کمر کی جانب سے گولی لگی تھی، جبکہ ان کے پھیپھڑوں میں خون بھر چکا تھا۔

جبران ناصر نے دعویٰ کیا کہ قبر کشائی کے بعد سامنے آنے والے شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ میر رضا نے خودکشی نہیں کی بلکہ انہیں قتل کیا گیا۔انہوں نے میر رضا کیس کی مکمل تحقیقاتی ٹیم تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئی ٹیم سوچ سمجھ کر تشکیل دی جائے، بصورت دیگر اہلخانہ عدالت سے رجوع کریں گے۔

جبران ناصر نے پولیس حکام پر بھی الزام عائد کیا کہ واقعے کی تفتیش کرنے کے بجائے پولیس افسران نے میر رضا کے والدین پر دباؤ ڈالا اور انہیں کہا گیا کہ ان کے بیٹے نے خودکشی کی ہے، خاموشی سے گھر بیٹھ کر سوگ منائیں اور کفارہ ادا کریں۔

وکیل نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گلستان جوہر میں جس مقام سے میر رضا کی لاش ملی تھی، وہاں سے اس سے قبل بھی دو لاشیں مل چکی ہیں۔نئی تحقیقاتی ٹیم اب قبر کشائی کے بعد سامنے آنے والی ابتدائی میڈیکل رپورٹ، جسم پر موجود مبینہ تشدد کے نشانات، گولی لگنے کی سمت اور دیگر شواہد کا ازسرنو جائزہ لے گی۔