حوثیوں کیخلاف جوابی آپریشن کا آغاز کردیا:ترجمان یمنی فوج ماجد النزیلی

صنعا(عرب میڈیا، اقوام متحدہ) یمنی سرکاری فوج کے ترجمان ماجد النزیلی نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے مارب اور حضرموت میں کیے گئے حملوں کے جواب میں حوثی گروپ کیخلاف فوجی آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

ترجمان یمنی فوج ماجد النزیلی نے کہا کہ یمنی فوج اپنے شہریوں، فوجی اہلکاروں اور اہم تنصیبات کے خلاف کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ یمنی عوام اور فوج کو درپیش خطرات کا فیصلہ کن فوجی جواب دیا جائے گا۔

ماجد النزیلی کا کہنا تھا کہ حوثیوں کی جانب سے حالیہ حملے یمن کی سلامتی اور استحکام کیلئے سنگین خطرہ ہیں اور سرکاری فوج ان حملوں کا بھرپور جواب دے گی۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن نے خبردار کیا ہے کہ اپریل 2022ء میں جنگ بندی کے بعد یمن میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر جنگ کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے یمنی فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور فوجی کارروائیوں میں اضافے سے گریز کرتے ہوئے مذاکرات کی جانب واپس آئیں۔انہوں نے کہا کہ یمن میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنا ضروری ہے، کیونکہ وسیع پیمانے پر دوبارہ جنگ چھڑنے سے ملک میں پہلے سے موجود انسانی بحران مزید سنگین ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ حوثی گروپ نے حضرموت اور مارب میں حکومتی فوج کے متعدد فوجی کیمپوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے، جن میں یمنی حکومت کے مطابق 30 فوجی اہلکار شہید اور 15 زخمی ہوئے۔حوثیوں نے ان حملوں میں یمنی فوج کے سیکڑوں اہلکاروں کے ہلاک اور زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

حالیہ حملوں اور یمنی فوج کی جانب سے جوابی آپریشن کے اعلان کے بعد ملک میں اپریل 2022ء کی جنگ بندی کے بعد پیدا ہونیوالی نسبتاً پرسکون صورتحال پھر شدید کشیدگی میں تبدیل ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔