ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم، ہزاروں سکھوں کی شرکت، مودی مخالف نعرے

ایڈمنٹن (میاں رضوان اکبرسے) کینیڈا کے صوبے البرٹا کے شہر ایڈمنٹن میں سکھ فار جسٹس کے زیرِ اہتمام خالصتان ریفرنڈم منعقد ہوا، جس میں منتظمین کے مطابق ہزاروں سکھوں نے شرکت کی اور بھارتی پنجاب کی آزادی اور خالصتان کے قیام کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔ ریفرنڈم کے دوران شرکاء نے بھارت اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف نعرے لگائے، جبکہ خالصتان کے حق میں بھی نعرے بازی کی گئی۔

ریفرنڈم میں ووٹنگ کے ساتھ خالصتان تحریک کے حوالے سے مختلف سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ منتظمین نے اس اجتماع کو سکھ برادری کے حقِ خودارادیت کے مطالبے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش قرار دیا اور ووٹنگ کے عمل کی نگرانی کیلئے عالمی مبصرین کی موجودگی کا دعویٰ کیا۔ تقریب کے دوران بھارتی قومی پرچم پھاڑے جانے کا واقعہ بھی پیش آیا۔

اس موقع پر سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے ویڈیو خطاب کیا اور سکھ برادری پر زور دیا کہ وہ اپنے سیاسی مطالبات کے لیے جمہوری جدوجہد جاری رکھے۔ انہوں نے ہردیپ سنگھ نجر سمیت دیگر سکھ رہنماؤں کی ہلاکتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سکھ برادری ووٹ اور سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے اپنے تحفظات اور حقِ خودارادیت کے مطالبے کو عالمی برادری کے سامنے پیش کرتی رہے گی۔

ریفرنڈم میں شریک افراد نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خالصتان کا قیام اور حقِ خودارادیت ان کے اہم سیاسی مطالبات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک مقیم سکھ برادری اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے اور اپنی آواز بلند کرنے کی مہم جاری رکھے گی۔

ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد پنجاب خالصتان کمیشن کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ ریفرنڈم کا اگلا مرحلہ مارچ 2027ء میں آسٹریلیا میں منعقد کیا جائے گا۔ خالصتان کے حامیوں نے ایڈمنٹن میں ہونے والے اجتماع کو اپنی سیاسی مہم میں اہم پیش رفت قرار دیا۔

واضح رہے کہ ایڈمنٹن میں ہونے والا یہ ریفرنڈم منتظمین کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔ اسے بھارت کی حکومت یا کسی بین الاقوامی ادارے کی جانب سے تسلیم شدہ سرکاری انتخابی عمل کی حیثیت حاصل نہیں تھی۔