بانی پی ٹی آئی نے کئی بار کہا کہ بامعنی مذاکرات کریں:علی محمد خان

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے کئی بار ان کے سامنے کہا کہ بامعنی مذاکرات کیے جائیں، ہم پُرامن احتجاج اور مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ جس رات سہیل آفریدی کو گرفتار کیا گیا، وہ رات 11 بجے تک ان کے ساتھ رابطے میں تھے۔ انہوں نے اسی رات تجویز دی تھی کہ صوبائی اسمبلی کا اجلاس فوری طور پر بلایا جائے۔

علی محمد خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کی فکر انہیں زیادہ ہے کیونکہ وہ خود وہاں رہتے ہیں۔ سہیل آفریدی چار کروڑ عوام کے منتخب وزیراعلیٰ ہیں، تاہم ان کی توجہ لانگ مارچ پر تھی۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر بابر سلیم سواتی اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر کی گرفتاری سے معاملات مزید خراب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی وزیراعلیٰ کو اس طرح تحویل میں لیا گیا ہو۔ صوبے پر حکومت کرنے کا فیصلہ خیبر پختونخوا کے عوام کا اختیار ہے۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے ان اقدامات کے ذریعے خیبر پختونخوا کے عوام کو خود سے دور کردیا ہے۔ ان کے بقول، جمہوریت پر شب خون مارا گیا ہے، سوال یہ ہے کہ ایسے اقدامات سے جمہوریت کیسے مضبوط ہوگی؟

علی محمد خان نے کہا کہ لانگ مارچ کا فیصلہ سہیل آفریدی نے کیا تھا۔ ابتدا میں اس معاملے پر ان سے مشاورت نہیں ہوئی تھی، تاہم جب سہیل آفریدی نے 5 اگست کو مارچ کا اعلان کیا تو تمام رہنماؤں نے اس فیصلے کی حمایت کی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت نے وفاقی حکومت کی دعوت پر مذاکرات کیے اور ان میں 95 فیصد معاملات پر اتفاق ہوگیا تھا، لیکن حکومت نے رات کے وقت سیکیورٹی کے معاملات کو بھی مذاکرات میں شامل کردیا۔

علی محمد خان کے مطابق، پی ٹی آئی کے مذاکرات بانی پی ٹی آئی سے ملاقات، ان کی اسپتال منتقلی اور سیاسی معاملات سے متعلق تھے۔ اگر وفاقی حکومت سیکیورٹی سے متعلق اپنے تحفظات سے آگاہ کردیتی تو وہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے بات کرتے اور ان کے ساتھ پشاور میں بیٹھ کر معاملات حل کرنے کی کوشش کرتے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات پر مذاکرات حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہورہے تھے، اس لیے سیکیورٹی کے معاملات پر الگ اور سیاسی مسائل پر الگ بات چیت ہونی چاہیے تھی۔ ان کے بقول، مذاکرات میں تعطل کے بعد بھی پیش رفت ممکن تھی، لیکن چار دن ضائع کردیے گئے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ مذاکرات میں ڈیڈلاک کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ بات چیت ختم کردی جائے، بلکہ وقفہ لے کر دوبارہ بیٹھا جاسکتا ہے۔ اگر وہ مذاکراتی کمیٹی میں شامل ہوتے تو لانگ مارچ کی وجہ سے مذاکرات تعطل کا شکار نہ ہونے دیتے۔

علی محمد خان نے مزید کہا کہ بیرسٹر گوہر کا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ رابطہ تھا۔ انہوں نے جمعے کو اسپیکر سے ملاقات کی اور ہفتے کو بھی رابطے کی کوشش کرتے رہے۔