لندن (نمائندہ خصوصی) برطانیہ نے طویل عرصے سے جاری ’’نَن ڈوم‘‘ ٹیکس سہولت ختم کرتے ہوئے نیا ٹیکس نظام نافذ کردیا ہے جس کے بعد ملک میں رہائش پذیر افراد کو اپنی دنیا بھر کی آمدنی اور اثاثوں پر ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نیا نظام شفاف اور منصفانہ ٹیکس پالیسی کے تحت لگایا گیا ہے تاکہ تمام ٹیکس دہندگان کو یکساں دائرے میں لایا جائے۔ اس پالیسی کے خاتمے کے بعد بڑی تعداد میں امیر اور سرمایہ کار برطانیہ چھوڑ کر دیگر ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ Non-Domiciled Regime سابقہ دور میں وہ قانون تھا جس کے تحت اگر کسی شخص کی آمدنی، کاروبار یا جائیداد بیرونِ ملک ہو اور وہ برطانیہ میں رہتا ہو تو اس کی غیر ملکی آمدنی پر ٹیکس لاگو نہیں ہوتا تھا۔ اسی سہولت کے ذریعے دنیا بھر کے کاروباری شخصیات اور سرمایہ کار لندن کا رخ کرتے رہے، تاہم نئی اصلاحات کے نتیجے میں اب ہر رہائشی اپنی عالمی آمدنی اور سرمایہ جاتی منافع پر ٹیکس دینے کا پابند ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اپریل 2025 سے نئی ٹیکس اصلاحات نافذ ہوچکی ہیں، جبکہ سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے جس سے برطانوی سرمایہ کار اور جائیداد مالکان متاثر ہو رہے ہیں۔ ٹیکس ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نئی پالیسیز کے بعد بڑی تعداد میں ہائی نیٹ ورتھ افراد برطانیہ چھوڑ رہے ہیں اور متحدہ عرب امارات بالخصوص دبئی کی جانب منتقل ہو رہے ہیں جہاں انکم ٹیکس، وراثتی ٹیکس اور منافع پر ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق برطانیہ کی معاشی مشکلات، بریگزٹ کے بعد خزانے پر بڑھتے دباؤ اور ٹیکس میں مسلسل اضافے کے سبب نئی حکومت کو محصولات بڑھانے کی فوری ضرورت تھی تاہم پالیسیوں کے یہ اثرات لندن کی عالمی مالیاتی حیثیت کے لیے خطرے کی گھنٹی تصور کیے جا رہے ہیں۔

