وکٹوریہ(سی بی سی) کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں تیزی سے پھیلتی جنگلات کی آگ کے باعث صوبے بھر میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی، جبکہ ہزاروں افراد کو اپنے گھر خالی کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
برٹش کولمبیا کے وزیرِاعلیٰ ڈیوڈ ایبی نے کہا ہے کہ بے قابو جنگلات کی آگ سے نمٹنے کیلئے پورا صوبہ ہنگامی حالت میں ہے۔ انہوں نے ان تمام افراد پر زور دیا ہے جنہیں انخلا کے احکامات دیے گئے ہیں کہ وہ فوری طور پر اپنے گھر چھوڑ دیں۔ڈیوڈ ایبی کے مطابق آگ انتہائی تیزی سے پھیل رہی ہے اور صورت حال میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے۔
صوبائی حکام کے مطابق آج دوپہر تک برٹش کولمبیا میں تقریباً 22 ہزار افراد کو اپنے گھر خالی کرنے کے احکامات دیے جاچکے ہیں جبکہ مزید تقریباً 9 ہزار 700 افراد کو کسی بھی وقت انخلا کیلئے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔صورتحال سب سے زیادہ سمرلینڈ کے علاقے میں سنگین ہے، جہاں تیزی سے پھیلنے والی بالڈ رینج جنگلات کی آگ کے باعث پورے ضلع سمرلینڈ کے تقریباً 12 ہزار رہائشیوں کو گزشتہ رات اپنے گھر خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔
حکام کے مطابق بالڈ رینج جنگلات کی آگ جمعہ کی شام تقریباً ساڑھے 5 بجے سمرلینڈ سے 15 کلومیٹر شمال مغرب میں دریافت ہوئی۔ آگ نے صرف 3 گھنٹے میں 50 مربع کلومیٹر کا علاقہ اپنی لپیٹ میں لے لیا۔برٹش کولمبیا وائلڈ فائر سروس کے مطابق ہفتے کی صبح تک آگ کا پھیلاؤ بڑھ کر 95 مربع کلومیٹر ہوگیا تھا۔
سمرلینڈ انتظامیہ نے بھی علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔ آگ سے انسانی جانوں اور شہریوں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔جنگلات کی آگ کے باعث ہائی وے 97 کو بھی دونوں سمتوں سے بند کردیا گیا ہے۔ سڑک کا بند حصہ پیچ لینڈ اور سمرلینڈ کے جنوب میں کِکِنی صوبائی پارک کے پیرامڈ پکنک ایریا کے درمیان ہے۔حکام کے مطابق آگ کے باعث سمرلینڈ کے پورے ضلع میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔
سمرلینڈ اوکاناگن جھیل کے جنوب مغربی کنارے پر واقع ہے اور وینکوور سے تقریباً 250 کلومیٹر مشرق میں ہے۔ 2021ء کی مردم شماری کے مطابق سمرلینڈ کی آبادی 12 ہزار سے زائد ہے۔دوسری جانب صوبائی حکام کے مطابق برٹش کولمبیا میں اس وقت مجموعی طور پر 105 جنگلات کی آگ بھڑک رہی ہے، جن میں سے 70 گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شروع ہوئی ہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ گرم اور خشک موسم کے باعث جنگلات کی آگ تیزی سے پھیل سکتی ہے، جبکہ امدادی اور فائر فائٹنگ ٹیمیں مختلف مقامات پر آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

