بنگلادیش: دوسری اہلیہ کی موت، رکن اسمبلی غازی نذرالاسلام اور پہلی اہلیہ گرفتار

ڈھاکا(بنگلادیشی میڈیا، بنگلادیش سنگباد سنگستھا)بنگلادیش میں رکن اسمبلی غازی محمد نذرالاسلام کی 19 سالہ دوسری اہلیہ مریم خاتون کی موت کے معاملے میں پولیس نے رکن اسمبلی اور ان کی پہلی اہلیہ مقصودہ بیگم کو گرفتار کرلیا۔

مریم خاتون کی لاش 20 ستمبر کی شام ڈھاکا کے شیرِ بنگلا نگر تھانے کی حدود میں واقع نام بھبن کے فلیٹ سے پنکھے سے لٹکی ہوئی ملی تھی۔ پولیس نے لاش پوسٹ مارٹم کیلئے اسپتال منتقل کی جبکہ جائے وقوع سے شواہد بھی جمع کیے گئے۔

مریم کے والد ایس ایم معصوم بلال نے شیرِ بنگلا نگر تھانے میں مقدمہ درج کرایا، جس میں غازی نذرالاسلام، ان کی پہلی اہلیہ مقصودہ بیگم اور مریم کے ماموں عبیدالرحمٰن کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے میں خودکشی پر اکسانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

مقدمے کے مطابق مریم کی جون 2026 میں غازی نذرالاسلام سے شادی ہوئی تھی اور شادی کے بعد وہ اپنے شوہر اور ان کی پہلی اہلیہ کے ساتھ ڈھاکا میں رہ رہی تھی۔ مریم کے والد نے الزام عائد کیا کہ ان کی بیٹی نے متعدد مرتبہ فون پر شوہر اور پہلی اہلیہ کی جانب سے جسمانی اور ذہنی تشدد کی شکایت کی تھی۔ یہ الزامات ابھی زیرِ تفتیش ہیں۔

پولیس کے مطابق غازی نذرالاسلام اور مقصودہ بیگم کو تفتیش کیلئےحراست میں لیا گیا، جبکہ مقدمے میں نامزد مریم کے ماموں عبیدالرحمٰن تاحال مفرور ہیں۔

بعدازاں پولیس نے غازی نذرالاسلام اور مقصودہ بیگم کو عدالت میں پیش کیا اور دونوں کیلئے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ عدالت نے غازی نذرالاسلام کو 4 روز جبکہ مقصودہ بیگم کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

غازی نذرالاسلام ستکھیرا۔4 سے جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ دوسری شادی کے معاملے پر جماعت اسلامی نے جولائی میں انہیں پارٹی سے نکال دیا تھا اور تنظیمی تحقیقات کے بعد ان پر اخلاقی بدعنوانی سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مریم کی موت کے حالات کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ لاش کا پوسٹ مارٹم بھی کرایا گیا ہے۔