نئی دہلی (ایجنسیاں) بھارت میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کیخلاف ووٹر فہرستوں میں مبینہ ردوبدل کے معاملے پر احتجاج کی کوریج کرنیوالے کم از کم 37 صحافیوں کو 10 اور 11 اکتوبر کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد صحافیوں کو تشدد، بدسلوکی اور پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
صحافیوں کے تحفظ کیلئےکام کرنے والی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق نئی دہلی میں کم از کم 35 صحافیوں کو مختلف مواقع پر حراست میں لیا گیا، جبکہ احمد آباد اور پونے میں احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے مزید 2 صحافیوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔ تنظیم نے خبروں، صحافیوں اور مدیران سے براہِ راست گفتگو اور تصدیق شدہ سماجی رابطوں کی پوسٹس کی بنیاد پر یہ تفصیلات جمع کیں۔
تنظیم کے ایشیا پیسیفک پروگرام کے رابطہ کار کنال مجمدار نے کہا کہ صحافیوں کو حراست میں لینے کے علاوہ بعض کو تشدد، ہراسانی اور کام سے روکنے کے واقعات بھی پیش آئے۔ ان کے مطابق یہ واقعات بھارت کی جمہوری روایات اور آزادیٔ صحافت کیلئے تشویش ناک ہیں، جبکہ صحافیوں کے آئینی حقوق اور بین الاقوامی معیار کی بھی خلاف ورزی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق احتجاجی مظاہروں کی کال نوجوانوں کی سیاسی تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے طلبہ تنظیموں اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ مل کر دی تھی۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں پر ملک گیر نظرثانی کے دوران اہل ووٹروں کے نام بھی غلط طور پر خارج کیے گئے، تاہم الیکشن کمیشن اور بھارتی حکومت ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
دہلی پولیس نے مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے پیشگی اطلاع ناکافی ہونے اور امن و امان کے خدشات کا حوالہ دیا تھا۔ وسطی نئی دہلی میں اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی، متعدد میٹرو اسٹیشنوں تک رسائی محدود کی گئی، بعض ٹرین سروسز منسوخ ہوئیں اور جن پتھ، کرتویہ پتھ کے اطراف اور عارضی حراستی مراکز کے قریب تقریباً 4 کلومیٹر کے علاقے میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی گئی۔ مظاہروں کے موقع پر تقریباً 23 ہزار نیم فوجی اہلکار اور کم از کم 15 ہزار دہلی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق پولیس نے پریس کارڈ دکھانے والے صحافیوں کو بھی حراست میں لیا، بعض کو کپڑوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور دوسروں کو بسوں میں دھکیل دیا۔ کم از کم 5 صحافیوں کے موبائل فون ضبط کیے گئے، جبکہ ایک صحافی پر مبینہ طور پر احتجاج کی ویڈیو حذف کرنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا۔ بعض صحافیوں کو ان کے مقام سے 65 کلومیٹر تک دور حراستی مراکز میں لے جایا گیا۔
صحافیوں کے اپنے بیانات اور ان کے اداروں کی رپورٹس کے مطابق کم از کم 5 صحافیوں کو پولیس نے مارا پیٹا۔ معروف بھارتی صحافی رانا ایوب نے بھی بتایا کہ پولیس نے انہیں حراست میں لینے کی دھمکی دی اور بعد ازاں لاٹھی سے تشدد کیا، جس کے باعث انہیں چوٹیں آئیں اور درد برقرار ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 10 اکتوبر کو حراست میں لئے جانے والوں میں خبر رساں ادارے رائٹرز کے سوربھ شرما، بزنس اسٹینڈرڈ کی انوشکا بھاردواج، نیوز لانڈری کے اشوین کمار سنگھ، آستھا سویاساچی اور انمول پریتم، جبکہ اسکرول کے آیوش تیواری اور شعیب دانیال سمیت متعدد صحافی شامل تھے۔ 11 اکتوبر کو انڈین ایکسپریس ہندی کے شاشوت، سیا اور وجے، ہندوستان کے آشیش سنگھ اور دیگر صحافیوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق دہلی میں سپریم کورٹ نے 11 اکتوبر کو سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے یقین دہانی حاصل کی تھی کہ وکلا، صحافیوں اور دیگر پیشہ ور افراد کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے نہیں روکا جائیگا۔ عدالت نے یہ ہدایت بھی دی تھی کہ قانون کے طے کردہ طریقۂ کار کے سوا کسی کو حراست میں نہ لیا جائے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 13 اکتوبر کو مقرر ہے۔
دہلی پولیس کے ایک سینئر افسر نے اخبار دی ہندو کو بتایا کہ بعض صحافیوں کو مظاہرین کے قریب کام کرنے اور گرفتاریوں کے دوران پیچھے نہ ہٹنے کی وجہ سے حراست میں لیا گیا ہو سکتا ہے۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے تبصرے کیلئے دہلی پولیس سے رابطہ کیا، تاہم رپورٹ جاری ہونے تک پولیس کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا تھا۔

