برسلز ( لی مونڈ +اے ایف پی)بیلجیم کے دارالحکومت برسلز اور مشرقی شہر لیئژ میں مہنگائی اور بڑھتے اخراجات کیخلاف احتجاج کرنیوالے سیکڑوں مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئےپولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ ہفتے 17 اکتوبر کو ہونے والے مظاہروں کے دوران بعض افراد نے پولیس پر بوتلیں، آتش بازی کا سامان اور دیگر اشیا پھینکیں، جبکہ مختلف مقامات پر کوڑے دانوں اور برقی سکوٹروں کو آگ لگا دی گئی۔ پولیس کے مطابق برسلز میں تقریباً 10 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
فرانسیسی اخبار لی مونڈ اور خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برسلز کے مرکزی ریلوے اسٹیشن کے قریب سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر دی گئی اپیلوں کے بعد کئی سو افراد جمع ہوئے۔ حکام نے بعد ازاں احتجاجی مارچ کی اجازت دے دی، تاہم مظاہرین کے بعض گروپوں کی جانب سے آتش بازی کا سامان اور آتش گیر مائعات پھینکے جانے پر پولیس نے کارروائی کی۔
پولیس نے برسلز کے بورس ضلع میں نوجوان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس پھینکی۔ اے ایف پی کے صحافی کے مطابق مظاہرین نے پولیس کی جانب بوتلیں اور دیگر اشیا پھینکیں۔ ہنگامہ آرائی کے دوران کوڑے دانوں اور برقی سکوٹروں کو نذرِ آتش کیا گیا، جبکہ سوشلسٹ پارٹی کے ایک دفتر میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی۔
“طلبہ کے احتجاج اور تعلیمی فیسوں میں اضافے کا معاملہ”
بیلجیم میں گزشتہ چند ہفتوں سے ثانوی اسکولوں کے طلبہ یونیورسٹیوں میں داخلے اور رجسٹریشن فیسوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ حالیہ مظاہروں میں مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافے کے خلاف آواز اٹھانے والے دیگر گروپ بھی شریک ہوئے۔
بیلجیم کے وزیر داخلہ برنارڈ کوئنٹن نے مظاہروں کے دوران ہونے والی ہنگامہ آرائی کو ’’منظم تشدد‘‘ قرار دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران تشدد اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات پر قابو پانے کے لیے پولیس نے کارروائی کی۔
“لیئژ میں بھی مظاہرین کو منتشر کردیا گیا”
بیلجیم کے مشرقی شہر لیئژ میں بھی پولیس نے واٹر کینن کے ذریعے مظاہرین کے چھوٹے گروپوں کو منتشر کیا۔ اس شہر میں تقریباً 10 روز قبل بھی احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔
بیلجیم میں ہونے والے یہ مظاہرے پڑوسی ملک فرانس میں مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کیخلاف جاری احتجاج کے دوران سامنے آئے ہیں۔ دونوں ممالک میں معاشی مشکلات اور عوامی پالیسیوں کے خلاف احتجاج نے حکام کیلئے امن و امان برقرار رکھنے کے حوالے سے چیلنجز پیدا کیے ہیں۔

