اگلے 5 برس میں خلا میں جنگ چھڑنے کا خدشہ، ماہرین نے خبردار کر دیا

لندن (این ڈی ٹی وی، ٹیلی گراف) خلا میں جنگ اگلے 5 برس کے دوران شروع ہو سکتی ہے، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مختلف ممالک مصنوعی سیاروں کو نشانہ بنانے والے ہتھیار تیار کر رہے ہیں، جبکہ زمین پر روزمرہ زندگی کا انحصار بھی مسلسل خلائی نظام پر بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مصنوعی سیاروں پر بڑے پیمانے پر حملہ ہونے کی صورت میں عالمی محلِ وقوع کا نظام، انٹرنیٹ، ٹیلی وژن نشریات، موسم کی پیش گوئی، فضائی ٹریفک کنٹرول اور بینکاری سمیت متعدد اہم خدمات شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس نوعیت کی کارروائی جدید زندگی کے معمولات کو مفلوج کر سکتی ہے۔

کنگز کالج لندن کے فری مین انسٹی ٹیوٹ برائے فضائی و خلائی امور سے وابستہ ڈاکٹر جولیا بالم نے کہا کہ اتحادی ممالک کو خلا میں روزانہ کی بنیاد پر مخالف قوتوں کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے اور آئندہ 5 برس میں اس شعبے میں باقاعدہ تصادم سامنے آ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ اور اس کے اتحادی اس خطرے سے نمٹنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ خلائی ملبہ صاف کرنے اور مصنوعی سیاروں کو ایندھن فراہم کرنے والی بعض نجی کمپنیاں بھی اپنی ٹیکنالوجی کو دفاعی اور فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر کام کر رہی ہیں۔

برطانوی کمپنی آسٹرو اسکیل، جو ابتدا میں خلا میں موجود ملبہ صاف کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی، اب خفیہ فوجی منصوبوں میں بھی شامل ہے۔ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر نک شیو کے مطابق برطانیہ کے 2024 کے دفاعی جائزے میں خلا کو ممکنہ میدانِ جنگ قرار دیے جانے کے بعد ادارے نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کی۔ کمپنی ایسی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے جس سے مخالف خلائی جہازوں کو دوسرے مصنوعی سیاروں کے قریب آنے یا ان میں مداخلت کرنے سے روکا جا سکے۔

مصنوعی سیاروں کو ایندھن فراہم کرنے والی کمپنی آربٹ فیب بھی برطانوی وزارتِ دفاع کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر جیکب گیئر کے مطابق خلا میں ایک مقام سے دوسرے مقام تک حرکت کرنے اور دوسرے خلائی جہازوں کے قریب پہنچنے کی ٹیکنالوجی دفاعی اور جارحانہ، دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں روس اور چین کی خلائی سرگرمیوں کو بھی تشویش کا باعث قرار دیا گیا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس اداروں کا خیال ہے کہ روس کا 2022 میں چھوڑا گیا مصنوعی سیارہ ’’کاسموس 2553‘‘ ممکنہ طور پر جوہری آلے کے بعض اجزا لے جا سکتا ہے، تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ خلا میں جوہری دھماکے سے پیدا ہونے والی تابکاری اور توانائی کے حامل ذرات ہزاروں مصنوعی سیاروں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور زمین کے مدار کے بعض حصوں کو ناقابلِ استعمال بنا سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے ایک روسی فوجی مصنوعی سیارہ یوکرین کی معاونت کرنے والے زمین کا مشاہدہ کرنے والے مصنوعی سیارے ’’آئی سی آئی وائی ایکس 36‘‘ کے قریب بھی دیکھا گیا۔ چین نے بھی ایسے خلائی جہازوں کی آزمائش کی ہے جو مدار میں موجود دوسری اشیا کو پکڑ سکتے ہیں، جبکہ اس کے مصنوعی سیاروں نے ایندھن بھرنے اور قریب سے نقل و حرکت کرنے کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔

برطانیہ بھی اپنی تیاریوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ ستمبر میں شاہی فضائیہ نے برطانوی مصنوعی سیاروں کے دفاع کے لیے اپنا پہلا مخصوص خلائی دستہ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ برطانوی وزیرِ دفاع ویس اسٹریٹنگ نے خبردار کیا ہے کہ خلا میں خطرات کی رفتار، وسعت اور پیچیدگی بڑھ رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق مختلف ممالک ایسے ہتھیاروں پر بھی کام کر رہے ہیں جن میں لیزر، برقی مقناطیسی لہروں کے شدید اثرات پیدا کرنے والے آلات، مصنوعی سیاروں کے حساس آلات کو ناکارہ بنانے والے نظام اور خلائی جہازوں کو پکڑنے والے آلات شامل ہیں۔ مصنوعی سیاروں کو تباہ کرنے والے میزائلوں کے تجربات بھی کیے جا چکے ہیں۔ یورپی خلائی ایجنسی نے بھی اپنے منصوبوں میں فوجی اور سلامتی سے متعلق پہلوؤں کو شامل کرنا شروع کر دیا ہے۔

ماہرین کی تنبیہ کے مطابق خلا میں تصادم صرف فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رہ سکتا؛ مواصلات، جہاز رانی، بینکاری، موسم کی پیش گوئی اور فضائی سفر کے لیے استعمال ہونے والے شہری مصنوعی سیارے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ تاہم اگلے 5 برس میں جنگ چھڑنے کی بات ایک ماہر کی پیش گوئی اور خطرے کا جائزہ ہے، یقینی طور پر جنگ شروع ہونے کا اعلان نہیں۔