کولکتہ (دی ہندو، رائٹرز، خبر ایجنسیاں)بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ میں درگا پوجا کے پنڈال کے باہر بھگدڑ مچنے سے کم از کم 19 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ حادثہ ہفتے کی شام شمالی کولکتہ کے علاقے چورباگان میں واقع سروبو جنین درگا پوجا پنڈال میں پیش آیا، جہاں مذہبی تہوار میں شرکت کیلئے بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ اچانک بارش اور شدید رش کے باعث صورتِ حال بے قابو ہوگئی اور لوگ ایک دوسرے پر گر پڑے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق حادثہ مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً ساڑھے سات بجے پیش آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پنڈال کے باہر زائرین کی بڑی تعداد موجود تھی کہ اسی دوران بارش شروع ہوگئی۔ بارش سے بچنے اور پنڈال میں داخل ہونے کی کوشش میں لوگوں نے آگے بڑھنا شروع کیا، جس کے باعث بھگدڑ مچ گئی۔ بعض افراد سڑک پر گر پڑے اور ان کے پیچھے آنے والے لوگوں کے دباؤ میں کئی افراد کچلے گئے۔
مقامی پولیس کے مطابق حادثہ شمالی کولکتہ کے علاقے گریش پارک تھانے کی حدود میں واقع چورباگان سروبو جنین پوجا پنڈال کے خارجی دروازے کے قریب پیش آیا۔ حکام نے بتایا کہ شدید رش اور بارش کے باعث لوگوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں جان لیوا صورتِ حال پیدا ہوئی۔ واقعے کے بعد پولیس، فائر بریگیڈ، امدادی کارکنوں اور طبی عملے کو فوری طور پر جائے حادثہ پر روانہ کیا گیا۔
حادثے کے بعد امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو نکال کر کلکتہ میڈیکل کالج اور اسپتال منتقل کیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔ مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے اسپتال پہنچ کر زخمیوں کی عیادت کی اور ہلاکتوں کی تصدیق کی۔ ابتدائی سرکاری اطلاعات کے مطابق 17 افراد کو مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا، جبکہ 25 زخمیوں کو علاج کے لیے داخل کیا گیا۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی۔
بعد کی بعض اطلاعات میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 19 ہونے کی بھی خبر دی گئی، تاہم مختلف رپورٹوں میں ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آیا۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے واقعے کی وجوہات معلوم کرنے کیلئے تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ پنڈال میں لوگوں کی آمدورفت، داخلی اور خارجی راستوں کی نگرانی اور ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے کیے گئے انتظامات کس حد تک مؤثر تھے۔
حکام نے پولیس کو پنڈال کی انتظامی کمیٹی کے ارکان اور حفاظتی انتظامات کے ذمہ دار افراد سے پوچھ گچھ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ جائے حادثہ کی نگرانی کرنے والے کیمروں کی ریکارڈنگ محفوظ کرنے اور اسے تحقیقات میں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فرانزک ماہرین، پولیس اور متعلقہ امدادی اداروں نے بھی کارروائی شروع کردی ہے۔
حادثے کے بعد پنڈال میں زائرین کا داخلہ بند کردیا گیا، جبکہ انتظامیہ نے دیگر مذہبی تقریبات میں بھی ہجوم کو قابو میں رکھنے اور حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کولکتہ میں پیش آنے والے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال کی حکومت متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کررہی ہے۔
کولکتہ میں مذہبی تقریبات کے دوران ہجوم کو قابو میں رکھنے کے انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ درگا پوجا مغربی بنگال کے اہم ترین مذہبی اور ثقافتی تہواروں میں شمار ہوتی ہے، جس کے دوران بڑی تعداد میں شہری مختلف پنڈالوں کا دورہ کرتے ہیں۔ اس موقع پر زائرین کی غیر معمولی تعداد کے پیش نظر انتظامیہ کو ہجوم کی نقل و حرکت اور ہنگامی راستوں کی حفاظت کے حوالے سے خصوصی اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔
حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ بھگدڑ کن حالات میں شروع ہوئی اور حفاظتی انتظامات میں کسی قسم کی کوتاہی ہوئی یا نہیں۔

