جائیں تو جائیں کہاں۔۔۔۔۔!

آج منیر نیازی مرحوم کا ایک شعر بہت یاد آ رہا ہے
کج شہر دے لوگ وی ظالم سن
کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی
اس شعر کو اردو میں لکھنا چاہا لیکن وہ چاشنی نہیں رہی جو پنجابی میں اس شعر کے اندر موجود ہے۔ منیر نیازی نے اس ایک شعر میں ہمارے معاشرے کی صحیح عکاسی کی ہے کہ ہم اپنے حالات کے خود ذمہ دار ہیں،ہم پہ ظلم ہو رہا ہے تو اس کی وجہ ہم خود ہیں۔ یہ شعر ایک تازہ واقعہ کیا کئی واقعات پہ یاد آ رہا ہے، ہمارے ہاں بار بار ایک ہی واقعہ دہرایا جاتا ہے اور ہمارے ”حکمران، ایک دو حرفی تعزیت نامہ جاری کر دیتے ہیں، وہ تعزیت نامہ بھی ان کے پبلک ریلیشن آفیسر صاحبان پہلے خبر اور اب ٹویٹ کی شکل میں جاری کرتے ہیں۔ ”انا للہ وانا علیہ راجعون۔ ہم مرنے والے کے عزیز اقارب کے دُکھ میں شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ (مرحوم / مرحومہ) کی فیملی کو ہمت دے، حوصلہ دے، صبر دے“۔ حالانکہ سچ بات یہ ہے کہ لگتا نہیں کہ ایسا کہتے ہوں گے۔ (حاکموں سے معذرت کے ساتھ) ہم اور ہمارے بچوں کے سڑکوں، گلیوں، گندے نالوں، مین ہولز، سیوریج، سمندر، دریاؤں میں ڈوبنے کے واقعات ہیں کہ ختم ہونے میں نہیں آ رہے، انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں اور انہیں بچانے کے لئے کچھ نہیں ہو رہا، ہماری زبانوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔

لاہور میں ایک چار سالہ بچی معصومہ کے نالے کی تعمیر کے دوران دیوار گرنے سے ملبے میں دب کر مرنے کا واقعہ رونما ہوا ہے، جس کے بعد حیرانی یہ ہوئی کہ مظلوم خاندان کو اتنا ڈرا دیا گیا ہے کہ معصومہ کے ماں باپ کیمرے کے سامنے نہیں آئے۔ پھوپھی، تایا، دادا سامنے آئے اور وہ تقریباً انہی الفاظ کو دہراتے رہے جو پولیس نے میڈیا کو جاری کیے تھے۔ ہماری بچی مر گئی، دیوار گرنے سے ملبے تلے دب کر مری، گھر سے ٹافی لینے نکلی تھی، بس یہی الفاظ دہرائے جاتے رہے۔ میڈیا اینکرز اور رپورٹرز نے بھی پولیس رپورٹ پر ”تکیہ“ کیا۔ ہم ”تکیہ“بہت کرنے لگ پڑے ہیں ہمارا بس چلے تو ”گاؤ تکیہ“ کیا کریں۔

یہ واقعہ داتا دربار کے باہر ترقیاتی کام کے دوران ایک کھلے مین ہول میں ماں اور بیٹی کے گر کر جاں بحق ہونے کے دو ماہ کے بعد ہوا ہے۔ ان کی موت پر سوشل میڈیا پر شور مچ گیا تھا،پھر افسر گرفتار ہوئے، معطل ہوئے (آرام کے لئے گھر بھیج دیئے گئے)۔ ٹھیکیدار سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپیہ دلوا کر ان کی جان بخشی کروا دی گئی۔ 85 لاکھ روپے اس خاتون اور 25 لاکھ روپے اس چند ماہ کی بچی کی ”قیمت“ لگائی گئی، لیکن رقم دینے والوں کو بڑی تکلیف ہوئی۔لہٰذا تازہ واقعے کے بعد مظلوم خاندان کو جانے کیا کہا گیا، کیسے ڈرایا گیا کہ ان کی زبان ہی نہیں کھل رہی۔ دبی زبان سے پھوپھی نے یہ ضرور کہا ہے ”پیسوں کی آفر کی گئی تھی، بھائی نے انکار کر دیا“۔

مظلوم خاندان کے گھر کی حالت دیکھ کر اور لاہور کو چھ دہائیوں سے جاننے کے باعث صاف نظر آ رہا ہے کہ غریبوں کا گھر نالے کے ساتھ سرکاری زمین پر بنا ہوا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ عقب میں نالے کے ساتھ ایک پانچ یا چھ منزلہ پلازہ بھی تعمیر ہو چکا ہے۔ یہ نالہ (جہاں معصومہ کی موت ہوئی) موچی گیٹ کی تاریخی گراؤنڈ کے ساتھ گزرتا ہے۔ یہ نالہ کبھی بہت کشادہ ہوا کرتا تھا آج بمشکل چند فٹ کا رہ گیا ہے اِسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ”قبضہ کیسے“ہوا ہے۔ یہ ہمارے بچپن سے آج بڑھاپے کے درمیان کی کہانی ہے۔ موچی گیٹ کی جلسہ گاہ اب حکمرانوں کو پسند نہیں رہی کہ وہاں سٹیج پر لوگ حکمرانوں پر تنقید کرتے ہیں لہٰذا تنقید روکنے کے لئے طریقہ یہ نکالا گیا کہ گراؤنڈ کو پارکنگ میں بدل دیا گیا ہے۔

”پارکنگ گراؤنڈ“ کو نالے سے محفوظ رکھنے کے لئے نالے کی دیواروں کو پختہ کرنے کا عمل جاری تھا اور اِسی دوران موچی گیٹ کی طرف والی دیوار بقول مظلوم فیملی ممبر کے پانچ دن پہلے گر گئی تھی، مگر ٹھیکیدار نے نوٹس نہیں لیا اور پھر دو دن پہلے بارش کی وجہ سے اس سائیڈ کی دیوار گری تو ساتھ کھڑا رکشہ اور اس کے اندر بیٹھی معصومہ بھی نالے میں گر کے ملبے تلے دب گئے۔ بچی کی تلاش کی جاتی رہی تو رکشہ نالے میں گرنے کا پتہ چلا۔ رکشہ نکالا گیا تو گھر سے ٹافی بسکٹ لینے کے لئے نکلنے والی معصومہ کی نعش بھی ملی۔ ٹافی چاکلیٹ لیتے لیتے معصومہ تو جنت میں چلی گئی۔

جہاں اسے میوے بھی ملیں گے چاکلیٹ بھی ملے گی سب کچھ ہی ملے گا، کیونکہ اِس دنیا میں تو اُسے جو ملنا تھا وہ مل گیا اور جو ملا وہ دردناک موت تھی۔ البتہ وہ جہاں گئی ہے وہاں وہ یقینا خوش ہوگی وہاں اسے چاکلیٹ، آئس کریم، ٹافی سب کچھ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کو بہت نوازنے کا اعلان کیا ہوا ہے اور معصومہ بھی شہید ہے کہ اسلام میں بیماری کی حالت میں مرنے والا بھی شہید کا درجہ رکھتا ہے تو ایک حادثے میں دردناک موت بھی شہادت ہی ہے، لیکن افسوس یہ ہے کہ معصومہ کے والدین میں اتنا حوصلہ نہیں کہ وہ اپنی بچی کے لئے انصاف مانگ سکیں، پوچھ سکیں کہ غریبوں کے بچوں کو تحفظ کیوں نہیں ملتا۔

معصومہ کے والدین یقینا وزیراعلیٰ پنجاب سے تو نہیں ڈرتے ہوں گے، کیونکہ مریم نواز شریف صاحبہ بیحد نرم گو، نرم گفتار، نرم دل خاتون ہیں۔پیار محبت سے لوگوں سے پیش آتی ہیں، بچیوں، عورتوں کو گلے لگاتی ہیں انہیں یقینا علم ہو چکا ہوگا، کسی چار سالہ بچی کی موت ماں کے لئے کیا حیثیت رکھتی ہے انہیں علم ہے، وہ بھی ماں ہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ لوگ حکمرانوں سے زیادہ اصلی حکمرانوں (اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر، کمشنر، چیف سیکرٹری، ایس ایچ او، ڈی ایس پی، ایس پی، ایس ایس پی، ڈی آئی جی، آئی جی) اور طاقتور ٹھیکیداروں سے ڈرتے ہیں۔اِس نظام سے ڈرتے ہیں جو طاقتور ٹھیکیداروں کا پشت پناہ ہے۔

بھاٹی گیٹ کے واقعہ کے بعد ٹھیکے داروں کو بخوبی علم ہے کہ اگر واقعہ سوشل میڈیا پر ”آگے چلا گیا“ تو پھر انہیں بھی کروڑ، سوا کروڑ کا ٹیکہ لگ سکتا ہے۔ معصومہ کی پھوپھی نے یہ بتایا ہے کہ ٹھیکیدار آیا تھا اور اس نے میرے بھائی سے کہا ”مک مکا کر لیں، میڈیا پر شور نہ ڈالیں، بس جنازہ اُٹھا لیں اور تدفین کرلیں“۔ ان جملوں میں وہ پورا پیغام ہے جو ٹھیکے دار ان کو دے گیا۔ معصومہ کی پھوپھی کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج ہمارے گھر کے سامنے حادثے کے مقام پر لوہے کی چادریں اور سبز چادر تانی ہوئی ہے یہ کل تک نہیں تھا۔ حادثے سے پہلے یہاں کچھ نہیں تھا یہ سب اب لگایا گیا ہے۔ اب ہم کہیں تو کیا کہیں۔ بس خاتون وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے اپیل ہے کہ آپ معصومہ کی موت کا نوٹس لیں۔