پنجابی کی کہاوت ہے، جھلا کرے کولیاں، تے رب سچا کرے سولیاں“ مطلب یہ کہ بے وقوف یا خراب دماغ والا انسان تو غلطیاں اور برے کام کرتا ہے لیکن اللہ ہمیشہ درست کرتا ہے۔ حالیہ ایران، امریکہ جنگ بندی میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا کہ ڈونلڈ ٹرمپ تو اپنے سی کرتے رہے لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھاس چنانچہ وزیراعظم محمد شہبازشریف اور فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر وسیلہ بن گئے جن کو مصر اور ترکیے کا مکمل تعاون اور چین کی بھرپور حمائت حاصل تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کا تو ذکر کیا ہی ہے تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ایران کو مفاہمت پر لانے کے لئے چین نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
کون جیتا، کون ہارا، اب یہ بحث نہیں ہونا چاہیے کہ امن جیتا اور جنگ ہاری ہے کہ حالات کے مطابق ایران بھی غزہ کی طرح کھنڈر بننے جا رہا تھا، اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلحہ اور فوجی طاقت کے حوالے سے امریکہ کو ایران پر برتری حاصل تھی اور ہے لیکن ایرانیوں جیسا جذبہ نہیں تھا یوں بھی امریکی صدر کی جارحیت کو خود ان کے حلیف ممالک نے تسلیم نہیں کیا تھا جبکہ ایرانی عوام نے جارحیت کے مقابلے میں اندرونی اختلافات کو تج کر ایک صفحہ پر آ کر امریکہ اور دنیا پر یہ ثابت کیا کہ اس قوم کو مٹایا تو جا سکتا ہے لیکن جھکایا نہیں جا سکتا جو موت کو پرکاہ کی وقعت نہ دے ایرانیوں نے دو روز قبل پلوں اور اہم تنصیبات پر ہاتھوں کی زنجیر بنا کر ثابت کیاکہ وہ مرنے کے لئے تیار ہیں کہ یہ شہادت ہوگی۔ ایرانی عوام اپنی خواتین اور بچوں سمیت موجود تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ تو اپنی جگہ اس کے لئے تو صہیونی حکومت نے بھی دھمکی دی تھی کہ رسل و رسائل اور آمد و رفت کے مقامات کو نشانہ بنایا جائے گا بلکہ یہاں تک کہا گیا کہ عوام ان تنصیبات اور ریلوں (ٹرینوں)سے پرے رہیں کہ اب ان پر حملہ کیا جائے گا اور ایک مسافر ٹرین پر حملہ کیا بھی گیا اس کے باوجود ایرانی عوام نے باہر کھلے میدان میں نکل کر چیلنج دیا کہ تم آؤ ستم کرو اور ہمارا صبر آزماؤ۔
میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق ایران میں حکمران طبقے کی حمائت ضرور ہے لیکن اختلاف کرنے والے بھی کم نہیں، کچھ مغربی تو بعض شاہی نظریات والے بھی ہیں، لیکن ملک و قوم پر وقت آیا تو ایسا کچھ بھی نہیں تھا، سب ایک تھے یا خاموش ہوگئے تھے، چنانچہ قومی عزم نے ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے مسترد کر دیئے،وہ نہ تو ایران کو پتھر کے زمانے میں بھیج سکے اور نہ ہی اس پر قیامت ڈھا سکے حالانکہ وہ بہت غضب ناک تھے۔ یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ موجودہ حالات تک شاید نوبت نہ آتی لیکن نیتن یاہو اور صہیونی لابی نے ایسا ہونے دیا حتی کہ جنگ بندی میں اتنی تاخیر کر دی کہ آخری دنوں میں زیادہ نقصان ہو گیا۔
ایران پر اسرائیل اور امریکہ نے مل کر حملہ کیا، ایران کے قائدین کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی کہ موساد اور سی آئی اے کی مشترکہ اطلاعات اور بعض نمک حراموں کی غداری کے باعث وہ ہدف بنتے چلے گئے کہ ٹیکنالوجی کا دور ہے اور جدید ٹیکنالوجی کامرکز بھی امریکہ ہی ہے۔ میں نے انہی صفحات میں عرض کیا تھا کہ ہمارے مہربان ماہرین کے مطابق جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے خبردار رہیں کہ اس ایجاد کے مرکزی ”سرور“ امریکہ میں ہیں اور ایکس، موبائل ایپس کی تمام تر کارروائی انہی کی مرہون منت ہے اور اس سے وہی لوگ استفادہ کرتے ہیں۔ چین اور روس نے آئی ٹی کا اپنا نظام بنایا اور اب مصنوعی ذہانت میں بھی وہ مغرب (امریکہ) کے محتاج نہیں ہیں، جہاں تک چین کا تعلق ہے تو یہ بالواسطہ طور پر دوسری بار ثابت ہو گیا کہ اس ٹیکنالوجی میں بھی چین، امریکہ کی ٹکر کا ہے اور پاکستان کے شاہینوں کے کارناموں کے بعد اب ایران کی طرف سے حقیقی ہدف تک مار بھی شاید ادھر ہی سے مستعار ہے۔ بہرحال شکر ادا کرنا چاہیے کہ دنیا بڑی تباہی سے بچ گئی کہ صہیونی سازش کے تحت امریکہ میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا بھی ذکر ہوا کہ دور جدید میں جو ترقی ہوئی اس کے مطابق اس شعبہ میں بھی جدت آئی اور بڑے ایٹم بموں کی جگہ اب ایسے چھوٹے بم بھی تیار کرلئے گئے ہیں جو میزائلوں، راکٹوں اور ڈرونز کے ذریعے بھی استعمال کئے جا سکتے ہیں اسی لئے دو ایٹمی قوتوں کے درمیان لڑائی یا جنگ کی شدت اس حد تک نہیں آنا چاہیے کہ نوبت اس اسلحہ کے استعمال کی آ جائے کہ اس کے نتائج جو ہوں گے ان کے بارے میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملوں کی داستانوں اور اثرات سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔ خلیج کی حالیہ جنگ سے برصغیر میں ہندوتوا والوں کو بھی غور کرلینا چاہیے کہ انسانیت ہی سب سے بڑا عمل ہے اور دنیا میں امن انسانی انداز کو انسانیت پر عمل سے ہی ہو سکتا ہے ورنہ تباہی کے لئے تو ایک بٹن دبانے کی ضرورت ہے۔
میں نے بہت پہلے انہی صفحات میں ذکر کیا تھا کہ پاکستان حالات حاضرہ میں ایک تنے ہوئے رسے پر چل رہا ہے اس وقت مسئلہ پاک امریکہ تعلقات میں گرم جوشی کے حوالے سے تھا کہ پاکستان کے چین سے گہرے ترین روابط ہیں اور روس سے بھی سفارتی امور سیدھے ہو گئے تھے، جبکہ پاک، بھارت (مئی جھڑپ) کے حوالے سے ٹرمپ زیادہ قریب آ گئے تھے لیکن یہ اس ذات باری کا کرم ہے کہ پاکستان خارجہ امور میں اب تک سرخرو ہوا۔ اس کے لئے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل تو مبارکباد کے مستحق ہیں تاہم اس ایک ہستی کو بھی داد دینا چاہے جو کابینہ میں غیر منتخب اور ٹیکنو کریٹ مشیر کی حیثیت سے شامل ہیں۔ خاموشی سے اپنے فرائض انجام دینے کا ملکہ ان کو حاصل ہے۔
میری دعا ہے کہ یہ جو امن کی نوید سامنے آئی۔ یہ مستقل ہو اور دنیا بھر کی بے چینی کا خاتمہ ہو جائے سب ملک اپنے اپنے عوام کی بہبود کے لئے کام کر سکیں، کیونکہ اب بھی کئی مراحل باقی ہیں اگرچہ امریکی صدر کے تازہ ترین بیانات پھر سے امید والے ہیں تاہم صہیونی آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ نیتن یاہو نے تو موجودہ جنگ بندی کے حوالے سے ہاں کرکے بھی کہا ہے کہ اس کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوگا حالانکہ مذاکرات اور جنگ بندی میں لبنان کا ذکر موجود ہے۔
بہت کچھ لکھا اور کہا جا سکتا ہے لیکن حالات کا جائزہ لینا اور آنے والے وقت کا انتظار کرنا چاہیے کہ ابھی تو اسلام آباد میں مذاکرات کا سلسلہ شروع ہونا ہے اور اندیشہ ہے کہ امریکی وفد میں ٹرمپ کے داماد جیرا ڈکشنر بھی ہوں گے جو خود یہودی بلکہ صہیونی ہیں اور اب تک امریکی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے آئے ہیں۔
میری پھر سے دعا اور یقین ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر کی جوڑی نہ صرف اس مسئلہ میں اور بھی کامیابی حاصل کرے گی بلکہ ایران اور خلیجی اور عرب ممالک سمیت سب کے اختلافات ختم کرائے گی اور اپنے ملک کے اندر بھی حالات پر سکون کرنے کے لئے مذاکرات اور مفاہمت کا آغاز کرے گی۔ آمین

