ریاض (رائٹرز)یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے مختلف ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں شدت آنے سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ہفتے کو بیان میں کہا کہ ان کے جنگجوؤں نے ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے، دمام کے شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے، نجران کے ایک ہوائی اڈے اور خمیس مشیط کے فضائی اڈے کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیب، رابغ کی تیل صاف کرنے والی فیکٹری، خام تیل کی ترسیل کے پمپنگ اسٹیشنز اور مشرقی مغربی تیل پائپ لائن پر بھی حملے کیے گئے۔
سعودی فوجی اتحاد نے کہا ہے کہ تیل کی تنصیبات کے قریب بعض مقامات پر گرنے والے ملبے کے بعد اس کے دستوں نے کارروائی کی، تاہم حوثیوں کے حملوں کے دعوؤں پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
حوثیوں نے رواں ماہ کے آغاز میں فضائی کمپنیوں کو سعودی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کی تنبیہ کرتے ہوئے صرف مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے اوپر سے گزرنے والی فضائی حدود کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا تھا۔ سعودی عرب نے بھی حوثیوں پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا، تاہم حوثی گروپ نے اس کی تردید کی تھی۔

