پاکستان براہ راست ایران اسرائیل جنگ میں شامل تو نہیں مگر معاشی، حفاظتی اور سفارتی سطح پر کافی حد تک متاثر ہو رہا ہے۔ یہ اثر ”دور کی جنگ قریبی دھچکا“ کی صورت میں ہے۔ اس جنگ سے پاکستان فوری طور پہ براہ راست معاشی دباﺅ کی صورت میں متاثر ہوا ہے اور پٹرول اورڈیزل کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں۔ اب تیل کی قیمتیں آسمان کوچھو رہی ہیں کیونکہ ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے اور پاکستان کا تقریباً 80فیصد تیل یہیں سے درآمد ہوتا ہے۔ اس سے مہنگائی مزید بڑھ رہی ہے، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،،، اور پاکستان چونکہ تیل درآمد کرنے والا بڑا ملک ہے، اس لیے یہاں مہنگائی کا طوفان آ جاتا ہے۔ پٹرول، ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ عام آدمی کی زندگی کو مفلوج کر دیتا ہے۔لہٰذاپاکستان کی حکومت نے جنگ کے آغاز میں ہی پٹرول ڈیز ل کی قیمتوں میں 55روپے تک بڑھا دیا تھا،، جس کے بعد ہر اشیائے خورو نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں،،، جبکہ توانائی کی بچت کے لیے کئی فضول اقدامات کیے گئے ،،، جیسے کبھی سکولز و کالجز میں چھٹیاں تو کبھی آفس ہفتے میں چار دن،،، تو کبھی سمارٹ لاک ڈاﺅن کی آپشن۔ پھر ایسے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں،،، انہیں آپ ”بچت ڈرامے“ بھی کہہ سکتے ہیں جیسے ہائی آکٹین پٹرول میں 70فیصد اضافہ یعنی 200روپے فی لیٹر کا بڑا اضافہ کرکے نہ جانے حکومت نے کونسا تیر مارا ہے،،، اور پھر اعلان کیا ہے کہ سرکاری گاڑیوں میں ہائی آکٹین پٹرول استعمال نہیں کیا جائے گا،،، اب بندہ پوچھے کہ وہ لگژری گاڑیاں لی ہی کیوں گئیں تھیں،،، جن میں ہائی آکٹین استعمال کیا جاتا ہے،،، اب آپ اُن گاڑیوں میں ہائی آکٹین استعمال نہیں کریں گے ، تو وہ تباہ ہو جائیں گی،،،اور جتنی پٹرول کی آپ بچت کریں گے، اُس سے ڈبل خرچہ تو اُن کے انجن پر آجائے گا،،، مثلاََاب اگر میں نے مہنگی گاڑی رکھی ہے، جس میں صرف ہائی آکٹین ہی ڈالا جاتا ہے، لیکن اس کے بدلے میں اگر میں دوسرا عام پٹرول ڈلوانا شروع کر دوں گا، تو اُس کا انجن جلد بیٹھ جائے گا،،، اور مجھے لاکھوں روپے اس کے انجن پر لگانے پڑیں گے،،، مطلب! ان فیصلہ کرنے والوں کو شاید اس طرح کے بھونڈے فیصلے کرنے میں مزا آتا ہے، جس سے بچت تو نہ ہو مگر عوام ضرور ذلیل و خوار ہو جائیں!
اور ویسے بھی بچت کرنے کے اور بھی لانگ ٹرم طریقے ہو سکتے ہیں،،، جیسے کہ سرکار اپنی شاہ خرچیاں بند کرے،،، پروٹوکولز کا خاتمہ کرے،،، اور لاکھوں سرکاری گاڑیوں کو آہستہ آہستہ ختم کرے،کیوں کہ ایک غیر سرکاری سروے کے مطابق اس وقت پورے ملک میں سرکاری گاڑیوں کی تعداد 90ہزار سے ڈیڑھ لاکھ تک ہے،،، جس میں ہر سال 5سے 10فیصد اضافہ ہو رہا ہے،،، جبکہ ان 70فیصد سے زائد گاڑیوں میں ہائی آکٹین یا پریمیم فیول استعمال ہوتا ہے،،، اور یہ گاڑیاں اس وقت تمام صوبے استعمال کررہے ہیں،،، جیسے پنجاب میں ان سرکاری گاڑیوں کی تعداد 40ہزار سے زائد،،، کے پی کے پاس 21ہزار سے زائد سرکاری گاڑیاں، وفاق میں 9ہزار، سندھ میں 20ہزار، جبکہ بلوچستان میں بھی اتنی ہی سرکاری گاڑیاں استعمال ہو رہی ہیں،،، اور ان گاڑیوں میں زیادہ تر وزراء، بیوروکریٹس (گریڈ 19–22)اور سکیورٹی اسکواڈ (VVIP)استعمال کرتے ہیں،،، جبکہ یہ گاڑیاں عموماََ پراڈو یا لینڈ کروزر سے کم نہیں ہوتیں،،، جو اکثر ہائی آکٹین یا پریمیم فیول پر چلتی ہیں،،، جبکہ ان کی مرمت پر اربوں روپے بھی خرچ کیے جاتے ہیں،،، حالانکہ اسی قسم کی گاڑیاں کی پاکستان میں بے شمار چینی اور کورین سستی گاڑیاں بھی آچکی ہیں،،، اور یہ گاڑیاں لینڈ کروزر کی قیمت میں چار گاڑیاں آسکتی ہیں،،، لیکن آپ لینڈ کروزر ہی کیوں استعمال کرتے ہیں؟ شاید ”اسٹیٹس کو“ نہیں ٹوٹنا چاہیے اس لیے مذکورہ گاڑی کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے،،، یعنی مذاق یہ ہو رہا ہے کہ پہلے مہنگی گاڑی لے کر دی جائے، پھر کہا جائے کہ اس میں سستا پٹرول ڈلواﺅ تاکہ گاڑی کے انجن کا بیڑہ غرق ہو ،اور پھر اُس انجن کو ٹھیک کروانے کے بھی سرکار سے پیسے وصول کیے جائیں،،،
اور پھر یہی نہیں بلکہ کہا جا رہا ہے کہ بچت کے لیے آفس میں اے سی نہیں چلانا،،، پہلی بات تو یہ ہے کہ کون چیک کرے گا کہ اے سی چلایا جا رہا ہے یا نہیں؟ کیا اس چیز کو سرکاری ادارے چیک کریں گے؟ یہ تو ”دودھ کا رکھوالا بلا“کے مصداق ہی ہو جائے گا،،، اور پھر ایک سرکاری آفیسر جسے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر کام کرنے کی عادت ڈال دی گئی ہے،،، بتائیں،،، کہ وہ کیسے بغیر اے سی کے کام کرے گا؟ اور کیا پرائم منسٹر، یا چیف منسٹر بھی اپنے اپنے آفسز اور گاڑیوں کے اے سی بند کروائیں گے؟ بہرحال اگر بچت کرنی ہے تو وہ جو ”جہاز“والا رولا پڑا ہوا ہے،،، اُس کی بچت کریں،،، سنا ہے اُسے یہ اسٹارٹ ہی رکھتے ہیں تاکہ یہ علم نہ ہو سکے کہ اس جہاز نے کہیں Stayنہیں کیا،،، اور ایک جہاز کو اُڑانے میں جتنا پٹرول لگتا ہے، اُتنا تو میرے خیال میں صوبائی گاڑیوں میں نہیں ڈلتا ہوگا ،،، جتنا ایک دن میں جہاز خرچ کر لیتا ہے،،، اس لیے میرے خیال میں ہمیں سب سے پہلے اپنے خرچے کم کرنے کی طرف آنا چاہیے،،، اضافی پروٹوکولز ختم کرنے چاہیے،،، اپنے پروٹوکولی قافلے کو کم کرناچا ہیے،،، ایک لاکھ سرکاری گاڑیوں کو کم کرنا چاہیے،،، بلکہ انگلینڈ کے پاس محض چند سو سرکاری گاڑیاں ہیں،،، وہاں پر زیادہ تر وزراءکو مستقل گاڑی نہیں ملتی، کئی سیاستدان پبلک ٹرانسپورٹ بھی استعمال کرتے ہیں۔ گاڑی صرف سرکاری کام کے لیے ملتی ہے،،، جبکہ پاکستان میں ایک افسر کے پاس کئی گاڑیاں بھی ہوتی ہیں،، اور وہ بھی ذاتی استعمال کیلئے۔ بلکہ میرے خیال میں ہونا تو یہ چاہیے کہ سرکاری افسران کی تنخواہ میں گاڑی فیول وغیرہ ایڈجسٹ ہوناچاہیے،،، بلکہ جب کوئی سرکاری افسر بھرتی ہوتا ہے تو اُسے گاڑی دے دینی چاہیے،،، اور پھر اُس کی پوسٹنگ جہاں بھی ہو،،، وہ اپنی گاڑی استعمال کرے،،، تاکہ روز کی کھچ کھچ سے چھٹکارہ حاصل ہو، اور عوام پر بوجھ بھی نہ پڑے۔
بلکہ وزراءکی تعداد کو بھی کم کیا جانا چاہیے،،،بتائیں کس دور میں سینکڑوں وزراءرکھے جاتے رہے ہیں؟،،، پورے ملک میں اس وقت 200سے زائد وزرا کام کررہے ہیں،،، کیا اس تعداد کو کم کرکے بچت نہیں کی جاسکتی؟ یہاں جس کو Accomodateکرنا ہو، اُسے وزیر بنا دیا جاتا ہے،،، اور پھر اُن لوگوں کو وزیر بنا دیا گیا ہے، جن پر تحریک انصاف کے دور میں کرپشن کے بے شمار الزامات لگے تھے،،، مطلب ! پھر تو پوری تحریک انصاف ہی کلیئر ہوگئی الزامات سے،،، خیر یہ الگ بحث ہے،،، جس پر پھر کسی دن بات ہوگی ۔
مگر ابھی تک کے لیے حکومت سے میری دست بستہ یہی گزارش ہے کہ خدارا بچت کے اور طریقے استعمال کیے جائیں،،، یقین مانیں اُس وقت عوام کو دکھ ہوتا ہے جب فضول قسم کے پراجیکٹس پر پیسہ خرچ کیا جاتا ہے،،، ہمیں آج تک اس حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ لاہور میں موٹر سائیکل لائن کا پراجیکٹ کس کے کہنے پر چلایا گیا، وہ ناکام کیوں ہوا اور اس پر جو کروڑوں روپے خرچ ہوئے، اُس کا ذمہ دار کون ہے؟ بلکہ دکھ یہ بھی ہے کہ یہ جو ہر دوسرے مہینے لاہور میں انڈر پاسز کو Renovateکیا جاتا ہے، کیا اس پراجیکٹ کو روک کر بچت نہیں کی جاسکتی؟ اور ان رنگ بھرنگی لائیٹوں یا پیٹنگز کا عوام کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ یہ کام تو کسی پینٹ کمپنی کو کہہ دیا جائے تو وہ مفت میں کر دے گی،،، لیکن کمیشن کھانے کے لیے کروڑوں کا چونا لگانا تو پاکستان میں عام بات ہو چکی ہے،،، کیا آپ نے پورا لاہور دیکھا؟ 70فیصد لاہور کا تو برا حال ہے،،، نہیں یقین تو وزیر داخلہ ہی کا مقامی چینل دیکھ لیں،،، وہ بھی چیخ چیخ کر لاہوریوں کے مسئلے بیان کر رہا ہوتا ہے،،، آپ لاہور کے علاقے وسن پورا چلے جائیں، گجر کالونی چلے جائیں، شاہدرہ چلے جائیں، بادامی باغ چلے جائیں،،، آپ کو ہر جگہ لاہور ایک جیسا نظر نہیں آئے گا! خیر لاہور میں فضول قسم کے پراجیکٹس پر اربوں روپے لگانے کے بجائے، ہم بچت کر سکتے ہیں ،،، ناکہ عوام کو تنگ کرکے۔۔ ۔
بہرکیف عالمی سیاست کے افق پر جب بھی جنگ کے بادل منڈلاتے ہیں تو اس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کی بازگشت دور دراز ممالک کی معیشت، سیاست اور عوامی زندگی تک سنائی دیتی ہے۔ حالیہ ایران سے جڑی کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا، خصوصاً پاکستان، کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی جانب سے کیے گئے کچھ بچت اقدامات نہ صرف غیر مو¿ثر بلکہ عوام کے لیے مزید مشکلات کا سبب بن رہے ہیں۔بلکہ آپ یوں کہہ لیں کہ پاکستان اس جنگ سے عوام کا بھرکس نکال کر بھرپور فائدہ اُٹھانے کے چکر میں ہے،،، اور چونکہ ایران کے ساتھ کشیدگی یا ممکنہ جنگ کی صورت میں سب سے بڑا اثر تیل کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔تو ایسی صورت میں ہمیں بچت کے دوسرے طریقے استعمال کرنے چاہییں،،، ناکہ عوام کو قربانی کا بکرا بنا کر پیش کیا جائے،،، اور پھر بچت کرنے کے یہ طریقے تھوڑی ہیں، کہ پہلے مہنگی گاڑیاں خرید لی جائیں اور پھر کہا جائے کہ اب اس میں ہائی آکٹین پٹرول استعمال نہیں ہوگا،،، اور پھر بتایا جائے کہ مٹی کا تیل کیوں مہنگا کیا جارہا ہے؟ کیا اُس سے بھی بڑی گاڑیاں چلائی جاتی ہیں؟ لہٰذاخدا کے لیے فیصلہ کرنے والے اس ملک پر رحم کھائیں اور کرنے والے کام کریں یا یہ کریں کہ کچھ دیر کمیشن وغیرہ نہ لیں اور نہ ہی ایسے پراجیکٹس شروع کریں،،، حالات جب بہتر ہوں تو پھر اسی ڈگر پر آجائیں، لیکن تب تک کے لیے اس ملک پر رحم کھائیں تاکہ عوام کا بھلا ہو سکے!

