گوجرانوالہ (نامہ نگار)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’’روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا‘‘، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ مجبوری میں کرنا پڑا، ہم خاموش تماشائی بن کر تباہی نہیں دیکھ سکتے تھے، اگر ایسا کرتے تو یہ مجرمانہ غفلت ہوتی اور آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہ کرتیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مذاکرات میں لانگ مارچ کی کال واپس لینے پر اتفاق ہوگیا تھا، لیکن بعد میں معاملات طے نہیں ہونے دیے گئے اور خون ریزی کا منصوبہ بنایا گیا۔
گوجرانوالہ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی اور امن و امان کے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ افغانستان سے دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ملک کے تحفظ کے لیے روزانہ قربانیاں دے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں وفاقی حکومت خاموش نہیں رہ سکتی تھی۔
شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا کے سابق وزرائے اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی سے متعدد ملاقاتیں کیں اور انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ صوبہ پاکستان کا خوب صورت حصہ ہے، جہاں کے عوام بہادر اور باصلاحیت ہیں، لیکن انہیں ترقی، خوش حالی اور امن و امان کے حوالے سے متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے سہیل آفریدی کو یقین دہانی کرائی تھی کہ صوبے کو جن وسائل کی ضرورت ہوگی، وفاقی حکومت فراہم کرے گی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مکمل تعاون کیا جائے گا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی ضرورت تھی، لیکن اس کے بجائے بار بار دھرنوں اور لانگ مارچ کی دھمکیاں دی جاتی رہیں۔ انہوں نے گزشتہ برس کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مظاہروں سے پورے ملک کا نظام مفلوج ہوجاتا ہے اور معیشت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان تحریک انصاف کی ماضی کی احتجاجی سرگرمیوں کا ریکارڈ انتہائی خراب رہا ہے اور اس مرتبہ بھی خون ریزی کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ ان کے بقول وفاقی حکومت نے حالات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی آخری کوشش کی اور مذاکرات کے لیے باقاعدہ کمیٹی تشکیل دی۔
شہباز شریف نے بتایا کہ مذاکراتی کمیٹی نے دن رات بیٹھ کر تقریباً 48 گھنٹے کوششیں کیں، جس کے نتیجے میں ایک مسودہ تیار ہوا اور اس بات پر اتفاق ہوگیا کہ لانگ مارچ اور دھرنے کی کال واپس لے لی جائے گی۔ ان کے مطابق معاملات آخری مرحلے میں پہنچ گئے تھے، لیکن بعد میں معاہدہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی کو کسی صورت معاملہ طے نہ کرنے اور خون خرابے کی راہ اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے سامنے دو راستے تھے، یا تو خاموش تماشائی بن کر ملک کو تباہی کی طرف جاتا دیکھتی یا ملکی مفاد میں فیصلہ کرتی۔ ان کے مطابق حکومت نے دوسرے راستے کا انتخاب کیا کیونکہ مجرمانہ غفلت کے نتائج آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑتے۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے کیے گئے فیصلے کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کے معاملات میں بہتری لانے کے لیے ایک مشاورتی کونسل قائم کی گئی ہے، جس میں غیر سیاسی اور معتبر افراد شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد خیبر پختونخوا کا دورہ کرکے صورتِ حال کا جائزہ لیں گے اور صوبے کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
شہباز شریف نے پنجاب میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ صوبے میں دن رات ترقیاتی کام جاری ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسی جذبے کے ساتھ عوام کی خدمت کا سلسلہ جاری رہے گا۔
وزیراعظم نے ایندھن پر رعایتی پروگرام کے سلسلے میں ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی اور سیاسی کارکنوں کی خدمات کا بھی شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے اس پروگرام سے تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہوچکے ہیں۔ اس منصوبے کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جنہیں سال کے اختتام تک استعمال کیا جانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایک خاندان میں اوسطاً پانچ سے چھ افراد شمار کیے جائیں تو اس پروگرام سے ملک بھر میں تقریباً ساڑھے چھ کروڑ افراد براہِ راست یا بالواسطہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

