دنیا میں ایسی چیزیں ہیں جن سے دجال کی موجودگی پر حیرت نہیں ہوگی: جے ڈی وینس

واشنگٹن (اے پی، دی گارڈین) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ آخری زمانہ آنا ہے، سوال صرف یہ ہے کہ یہ ہزاروں سال بعد آئے گا یا چند ماہ بعد، جبکہ انہیں اس امکان پر بھی حیرت نہیں ہوگی کہ دجال اس وقت ہمارے درمیان موجود ہو۔

امریکی نائب صدر نے یہ بات 31 اگست کو مسیحی پوڈکاسٹر برائس کرفورڈ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ جے ڈی وینس نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ دنیا اس وقت آخری زمانے میں داخل ہوچکی ہے یا نہیں، تاہم دنیا میں بعض ایسی چیزیں ہورہی ہیں جن کی وجہ سے انہیں یہ سوچ کر حیرت نہیں ہوگی کہ دجال ہمارے درمیان موجود ہو۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ ’’خدا کا کام‘‘ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اگر ان کا کام آخری زمانے کی طرف لے جاتا ہے تو بھی انہیں اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق آخری زمانہ بہرحال آنا ہے، تاہم یہ معلوم نہیں کہ اس میں ہزاروں سال باقی ہیں یا صرف چند ماہ۔

مصنوعی ذہانت کے بارے میں بات کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ بعض اے آئی کمپنیوں کی سرگرمیوں میں انہیں ’’بہت عجیب اور تاریک روحانی توانائی‘‘ محسوس ہوتی ہے۔

انہوں نے ایک اے آئی کمپنی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب کمپنی ایک پرانے اے آئی ماڈل کو ختم کرکے نیا ماڈل متعارف کراتی ہے تو پرانے ماڈل کے لیے تدفین جیسی تقریب بھی منعقد کی جاتی ہے اور ملازمین مبینہ طور پر اس موقع پر روتے ہیں۔ یہ بات جے ڈی وینس نے پوڈکاسٹ میں اپنے مشاہدے کے طور پر بیان کی۔

جے ڈی وینس نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسانی تعلقات کی جگہ لینے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایک شناسا شخص کی مثال دی جو اے آئی کو ازدواجی مشیر کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ میزبان برائس کرفورڈ نے اس عمل کو ’’شیطانی‘‘ قرار دیا، جس پر وینس نے کہا کہ انسان کو اس سماجی عنصر سے مکمل طور پر الگ کردینا جس کے لیے خدا نے اسے تخلیق کیا، بہت برا ہے۔

امریکی نائب صدر نے عالمی رہنماؤں کے ساتھ بعض ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ہونے والی بعض گفتگو یا مشاہدات سے انہیں ’’روحانی تاریکی‘‘ محسوس ہوتی ہے اور ان کے بقول یہ کیفیت ان کے اندر موجود روحانی خطرے کی گھنٹیاں بجا دیتی ہے۔

دوسری جانب ٹیکنالوجی کی دنیا کے بعض ارب پتیوں کی جانب سے ممکنہ عالمی تباہی، جنگ یا تہذیبی بحران سے بچاؤ کیلئے غیر معمولی تیاریوں کی رپورٹس بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ ان تیاریوں کو بعض رپورٹس میں ’’قیامت کے دن کی تیاری‘‘ یا ’’تباہی کی انشورنس‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

مارک زکربرگ، سیم آلٹ مین اور پیٹر تھیئل سمیت ٹیکنالوجی کے بعض معروف افراد کے بارے میں زیرزمین پناہ گاہوں، ہنگامی سامان اور محفوظ مقامات سے متعلق تیاریوں کی رپورٹس شائع ہوچکی ہیں۔ مارک زکربرگ کے ہوائی میں اپنے وسیع رقبے پر زیرزمین پناہ گاہ بنانے اور سیم آلٹ مین کے ہنگامی حالات کیلئےسونا، ہتھیار، حفاظتی ماسک اور دیگر سامان رکھنے سے متعلق بیانات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق ٹیکنالوجی سے وابستہ بعض دولت مند افراد نے ارجنٹائن سمیت مختلف دور دراز علاقوں میں بھی ممکنہ عالمی جنگ، جوہری تنازع یا معاشی بحران کی صورت میں محفوظ رہنے کیلئے زمین اور خود کفیل رہائش گاہوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔

جیف بیزوس کے بارے میں لینڈ رپورٹ کے مطابق ان کی ٹیکساس میں تقریباً 4 لاکھ 62 ہزار ایکڑ زمین ہے، جس کا بڑا حصہ وان ہارن کے شمال میں واقع کارن رینچ کے گرد ہے اور یہی علاقہ بلیو اوریجن کی خلائی سرگرمیوں اور تجربات کیلئےاستعمال ہوتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بلیو اوریجن ٹیکساس میں اپنی خلائی سرگرمیوں کو وسعت دے رہی ہے، جبکہ کمپنی نے وسطی ٹیکساس میں بڑے منصوبے کیلئے مقامی حکام کے ساتھ معاہدہ بھی کیا ہے۔

تاہم جیف بیزوس کی ٹیکساس کی زمین کو براہ راست ’’قیامت سے بچاؤ‘‘ کی تیاری قرار دینے کیلئےدستیاب شواہد کافی نہیں، اسلئےاسے جے ڈی وینس کے بیان یا کسی ممکنہ تباہی سے بچنے کی ذاتی تیاری کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔

پوڈکاسٹ میں جے ڈی وینس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ اس تصویر کا بھی دفاع کیا جس میں ٹرمپ کو حضرت عیسیٰؑ سے مشابہ انداز میں دکھایا گیا تھا۔

وینس کے مطابق ٹرمپ کا خدا کی توہین یا مذاق اڑانے کا ارادہ نہیں تھا۔ ٹرمپ نے بعد میں یہ تصویر حذف کردی تھی اور وضاحت کی تھی کہ ان کا خیال تھا تصویر میں انہیں لوگوں کو بہتر محسوس کرانے والے ڈاکٹر کے طور پر دکھایا گیا ہے۔