واشنگٹن (رائٹرز) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے محکمہ خارجہ کے اعلیٰ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں اور اختیارات کی حدود میں رہیں، مفادات کے ٹکراؤ سے گریز کریں اور اہم پالیسی فیصلے ان کی یا نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈو کی منظوری کے بغیر نہ کریں۔
رائٹرز کے مطابق مارکو روبیو نے گزشتہ ہفتے محکمہ خارجہ کے تقریباً 2 درجن اعلیٰ عہدیداروں کے اجلاس میں کہا کہ کسی بھی افسر کی غیر اخلاقی سرگرمی برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والے کو عہدے سے برطرف کردیا جائے گا، خواہ اس کے کتنے ہی بااثر تعلقات کیوں نہ ہوں۔
یہ اجلاس یونان میں امریکی سفیر کمبرلی گلفائل کے اکتوبر میں استعفے کے بعد ہوا تھا۔ ان کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ انہوں نے امریکی انتظامیہ کے عہدیداروں تک رسائی کے بدلے رقم، تحائف اور دیگر مراعات حاصل کیں۔ کمبرلی گلفائل نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی ساکھ کا دفاع کریں گی۔
ذرائع کے مطابق روبیو نے اجلاس میں اس بات پر بھی ناراضی ظاہر کی کہ بعض حکام متعلقہ قیادت سے مشاورت کے بغیر فیصلے کررہے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے آگے بڑھ کر پالیسی معاملات میں مداخلت کررہے ہیں۔ انہوں نے سیاسی بنیادوں پر تعینات اہلکاروں کے بیرون ملک دوروں کی منظوری بھی اپنے دفتر سے لینا لازمی قرار دے دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اجلاس کے کچھ عرصے بعد محکمہ خارجہ کے پالیسی چیف جیریمی لیون نے عہدہ چھوڑ دیا۔ بعض حکام کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دائرہ کار سے باہر معاملات میں مداخلت اور وزیر خارجہ کی ہدایات کے برعکس کام کررہے تھے۔
تاہم جیریمی لیون نے اپنے استعفے کو پہلے سے طے شدہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے برطرف کیے جانے کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نجی شعبے میں واپسی اور اپنی شادی کی تیاری کے لیے عہدہ چھوڑ رہے ہیں، اس فیصلے کا روبیو کے اجلاس یا محکمہ خارجہ کے انتظامی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔
رائٹرز کے مطابق روبیو کی جانب سے محکمہ خارجہ پر انتظامی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ری پبلکن جماعت کو وسط مدتی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول سنبھالنے کی تیاری کررہے ہیں۔

