سعودی عرب کا حوثیوں کے خلاف بڑی کارروائی کا منصوبہ، ایک لاکھ یمنی فوج کی تیاری

ریاض(رائٹرز) سعودی عرب نے یمن میں حوثیوں کے خلاف ممکنہ بڑی فوجی کارروائی کی تیاری شروع کردی ہے، جس کے لیے ایک لاکھ سے زائد یمنی فوجیوں کو متحرک کیا جا سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق سعودی حمایت یافتہ یمنی افواج زمینی کارروائی کی قیادت کریں گی جبکہ سعودی فضائیہ انہیں فضائی مدد فراہم کرے گی۔ کارروائی کا مقصد حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کو روکنا اور آبنائے باب المندب پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا ہے، جو بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان اہم بحری گزرگاہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی حکام کارروائی کے لیے دو اہم منصوبوں پر غور کر رہے ہیں۔ پہلے منصوبے کے تحت آبنائے باب المندب کے اطراف محدود کارروائی کی جائے گی، جبکہ دوسرے منصوبے میں البیضا، مارب، تعز اور الجوف کے صوبوں میں حوثیوں کے خلاف بیک وقت مختلف محاذوں پر مربوط حملے کیے جا سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کارروائی کا حجم حتمی منصوبے پر منحصر ہوگا اور اس میں ایک لاکھ سے زائد یمنی فوجی شامل کیے جا سکتے ہیں۔ سعودی اتحادی ممالک کی جانب سے براہ راست جنگی کارروائی میں حصہ لینے کی توقع نہیں، تاہم بعض ممالک سعودی عرب کو دفاعی اور دیگر عسکری معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ امریکا بھی سعودی کارروائیوں کے لیے انٹیلی جنس اور ہدف بندی سے متعلق معاونت فراہم کر رہا ہے، تاہم براہ راست امریکی جنگی شمولیت متوقع نہیں۔

رائٹرز کے مطابق کارروائی کے آغاز کا وقت حتمی نہیں ہوا۔ ذرائع نے اس کے لیے آئندہ چند ہفتوں سے لے کر نومبر کے اوائل میں امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد تک مختلف امکانات ظاہر کیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کو کارروائی کے دوران اپنی تنصیبات پر حوثیوں کے ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کا بھی خدشہ ہے، جبکہ یمن میں مختلف حوثی مخالف گروہوں کے درمیان اختلافات بھی ممکنہ زمینی کارروائی کے لیے ایک اہم چیلنج ہیں۔