ٹرمپ کے اعلیٰ قومی سلامتی حکام کی کیمپ ڈیوڈ میں خفیہ ملاقات، ایران اور یمن پر غور

واشنگٹن(ایکسیوس، خبر ایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ قومی سلامتی حکام نے کیمپ ڈیوڈ میں خفیہ اجلاس کیا، جس میں ایران جنگ کے آئندہ مرحلے اور یمن میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر غور کیا گیا۔

ایکسیوس کے مطابق اجلاس کی صدارت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کی اور یہ کئی گھنٹے جاری رہا۔ اجلاس کو انتظامیہ کی جانب سے پہلے سے عوامی طور پر ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین، مرکزی خفیہ ایجنسی کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور صدر ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف شریک ہوئے۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف آئندہ اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ ایکسیوس کے مطابق ٹرمپ دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔

اجلاس میں یمن کی صورتحال بھی زیر بحث آئی، جہاں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ایکسیوس کے مطابق واشنگٹن میں سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے خلاف ممکنہ کارروائی اور امریکا کے ممکنہ کردار پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

ایکسیوس کے مطابق کیمپ ڈیوڈ میں اس نوعیت کی یہ پہلی خفیہ اعلیٰ سطحی ملاقات نہیں، اس سے قبل جون 2025ء میں بھی ایران سے متعلق ایک اجلاس ہوا تھا، جو اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے سے کچھ عرصہ پہلے منعقد کیا گیا تھا۔