اسلام آباد(خبر ایجنسیاں) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے بعد بعض معاملات پر پیش رفت کے دعوے سامنے آنے کے باوجود بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے، جبکہ مذاکراتی عمل کے حتمی فیصلے کیلئے مشاورت جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے دوران معاہدے کے مسودے پر غور کیا گیا۔ حکومتی ارکان نے اسپیکر چیمبر میں مجوزہ مسودے کی شقوں کا جائزہ لیا، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بیرسٹر گوہر خان کے ساتھ مذاکراتی مسودے کو حتمی شکل دینے پر مشاورت کی۔
ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے ایوان صدر جاکر مجوزہ مسودے کے حوالے سے صدر مملکت آصف علی زرداری سے بھی مشاورت کی، جبکہ اٹارنی جنرل نے مجوزہ مسودے کی توثیق کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سے بھی مسودے کی شقوں کی منظوری لی گئی۔
دوسری جانب اپوزیشن ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر کسی حتمی فیصلے یا اعلان پر اتفاق نہیں ہوگا۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ پہلے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوگی، اس کے بعد ہی مذاکرات کے نتیجے اور لانگ مارچ سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا اور حکومت کو بھی یہی بتایا جائے گا۔
دریں اثنا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت وزیر اعلیٰ ہاؤس میں بھی مشاورت جاری رہی۔ ذرائع کے مطابق صوبائی وزرا اور ارکان اسمبلی نے مذاکرات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ فیصلہ مذاکراتی ٹیم کرے گی اور پریس کانفرنس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل سامنے آئے گا۔
اس سے قبل ذرائع کی جانب سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے اور معاہدے کا مسودہ تیار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ حکومت کی جانب سے لانگ مارچ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا جبکہ اپوزیشن نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور زیر حراست پارٹی رہنماؤں و کارکنوں کی رہائی سمیت مختلف مطالبات مذاکرات میں پیش کیے۔
مذاکرات میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ نہ لانگ مارچ ہوگا اور نہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگے گی۔تاہم رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے مذاکرات کو لانگ مارچ ختم کرنے کیلئےمحض فیس سیونگ قرار دیتے ہوئے اس پر تحفظات کا اظہار کیا۔
مذاکراتی عمل کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کر رہے ہیں۔ حکومتی وفد میں وزیر داخلہ محسن نقوی، امیر مقام، طلال چوہدری، رانا ثنا اللہ، نوید قمر، شیری رحمان اور اعجاز جاکھرانی شامل ہیں، جبکہ اپوزیشن وفد میں علامہ راجا ناصر عباس، بیرسٹر گوہر خان، اسد قیصر، سلمان اکرم راجا، عامر ڈوگر اور حلیم عادل شیخ شامل ہیں۔
مذاکرات کے دوسرے دور کے آغاز پر بھی فریقین کے درمیان شکوے سامنے آئے۔ حکومتی وفد نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے لانگ مارچ سے متعلق بیان اور حکومتی شخصیات کے بارے میں مبینہ نازیبا زبان کا معاملہ اٹھایا، جبکہ اپوزیشن نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیانات پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ مذاکرات آگے بڑھانے کیلئےاعتماد بحال کرنا ہوگا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی حکومت اور اپوزیشن پر مذاکرات کامیاب بنانے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے آئینی آپشن پر غور کیا جا رہا تھا تاہم پیپلز پارٹی نے پہلے سیاسی حل تلاش کرنے کا مشورہ دیا۔
مذاکرات اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق حتمی صورتحال بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور فریقین کی مزید مشاورت کے بعد واضح ہونے کا امکان ہے۔

